Shazray

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے انہوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اب جنگ کی نوعیت محاذ جنگ پرلڑی جانے والی لڑائی نہیں بلکہ اب دشمن اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ذریعے ملکی استحکام و سلامتی کے درپے ہے اگر دیکھا جائے تو ماضی وحال میںخیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع بالخصوص اور پورے خیبر پختونخوا میں بالعموم جو حالات رہے یا پھر اس کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈے کی جو صورت ہے یا بلوچستان کے حالات ہیں ان سب سے یہ امر عیان ہے کہ دشمن پروپیگنڈے اور تخریب دونوں کا استعمال کر رہا ہے۔آرمی چیف نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں جن کا مقصد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے جس کا پوری طرح ادراک ہی مسکت جواب ہوسکتا ہے اس طرح سے ہی لوگ ان عناصر سے ہوشیار ہوسکتے ہیں اور ان کی چالوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ کے یوم دفاع کے خطاب اور خطے میں امریکی و عالمی فوج کی شکست و واپسی اس مصرعہ کی عین تشریح اور عملی شکل ہے کہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔ افغانستان میں نہتے طالبان اور امریکی و عالمی فوج کا کوئی جوڑ نہ تھا مگر جذبہ ایمانی نے جدید اسلحہ اور فوج کو شکست دے کر ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیاکہ تعداد اور قوت کے مقابلے میں کوئی چیز ایسی موجود ہے جو فتح سے ہمکنار کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ قرآن کریم میں بھی قلیل تعداد کے کثیر تعداد پر فتح کی بشارت ملتی ہے اور کامیابی کا پیمانہ وضع کیا گیا ہے جس پر پورا اترنے پر فتح مبین کی بشارت عام ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی کی جنگوں کا جائزہ لیاجائے تو کئی گنا فوج اور طاقت کی حامل ملک کا جس طرح مقابلہ کیاگیا اس کا حاصل قوت ایمانی کا جذبہ ہی سامنے آتا ہے افغانستان میں برسوں بعد عملی طور پر ایک مرتبہ پھر قرون اولی کی یاد تازہ ہونے کے بعد دنیاوی اسباب کے مقابلے میں مالک کائنات کی خصوصی مدد و نصرت کو کامیابی کی ضمانت ہونے کی ایک مرتبہ پھرعملی تائید فطری امر ہے آرمی چیف نے درست کہا ہے کہ اب جنگوں کی ہیئت تبدیل ہوچکی ہے اس عالم اسباب میں آلات حرب کی اہمیت و ضرورت اپنی جگہ لیکن یہ کامیابی کی ضمانت نہیں کامیابی کی ضمانت وہ ہے جس کی تعلیم قرآن و سنت میں موجود ہے جس پر عمل پیرا ہونے میں اگر قبل ازیں کچھ تذبذب تھا تو اسے اب دور ہونا چاہئے اور مسلمانوں کو اب اپنے جذبے بیدار اور طاغوتی قوتوں کی طاقت سے مرغوب ہونے کا رویہ تبدیل نہیں کرنا چاہئے ۔ طاغوتی قوتوں کو بھی اب یقین آگیا ہے کہ آلات حرب ہی سب کچھ نہیں ہوتے اور نہ ہی اس سے یقینی فتح حاصل ہوسکتی ہے ۔ حالات سے مظلوم مسلمانوں کو تقویت ملنا فطری امر ہو گا اب مقبوضہ کشمیر و فلسطین شام و عراق اور جہاں جہاںمسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے وہاں کے مسلمان بھی ایک نئے جذبے سے اٹھیں گے اور ستم کی زنجیریںتوڑ دیں گے ۔ طاغوتی قوتوں کو پوری قوت سے للکارا جائے اور مسلمان جذبہ ا یمانی کے ساتھ ایک مٹھی ہو جائیں تو فتح و نصرت کی منزل دور نہیں۔
ویکسین لگانے سے احتراز کیوں؟
خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر کورونا کی ویکسی نیشن کے حوالے سے محکمہ صحت کی ٹیموں کومشکلات کا سامنا اور عوام کا ویکسین لگانے سے احتراز کا رویہ پریشان کن امر ہے ہمارے رپورٹر کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں شہری منفی پروپیگنڈے اور نادرا سر ٹیفکیٹ کے حصول کے بعد پہلا ٹیکہ لگانے والے دوسرا ٹیکہ لینے کیلئے ویکسی نیشن سنٹر پر نہیں آ رہے ہیں جن کی وجہ سے پہلے اور دوسرے ٹیکے کے درمیان لوگوں کا فرق51لاکھ سے زائد ہوگیا ہے۔ویکسین نہ لگانے کے حوالے سے محولہ عوامی رویہ کی شکایات کے علاوہ ایک اہم اور بڑی وجہ ویکسی نیشن سٹاف کا رویہ اور ٹال مٹول کابھی ہے بہت سے افراد نے صوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں میں باربار چکرلگانے کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے ویکسین نہ لگانے کی مصدقہ شکایات کی ہیں ان کے مطابق چارسے چھ بار چکر لگانے کے بعد ہی ویکسین لگتی ہے اس کی وجہ عموماً ویکسین کی عدم دستیابی اور بعض سٹاف کا رویہ بتایا جاتا ہے اس طرح کی صورتحال میں پہلی ویکسین اور دوسری ویکسین کے درمیان نمایاں فرق کا ہونا عجب نہیں اعداد و شمار کی روشنی میں ویکسین لگانے سے احتراز کا رویہ ضرور سامنے آتا ہے لیکن اس کی وجوہات پر اگر توجہ دی جائے اور باقاعدہ سروے سے معلوم کیا جائے تو حقیقت حال واضح ہو گی۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ڈیڑھ برس سے اس عالمگیر وباء کے ساتھ نمٹتے ہوئے ہمیں اتنا کچھ تو سیکھ ہی جانا چاہئے تھا کہ کس طرح محفوظ طریقے سے معمولات زندگی جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ایسا کرنا ممکن تھا جبکہ کورونا ویکسین کی دستیابی نے دیگر دنیا کی طرح ہمیں بھی اس وباء سے بچائو کے لئے خصوصی ڈھال مہیا کر دی تھی مگر نہ ہمارے ہاں وبا ء سے بچائو کی حفاظتی تدابیر پر معیاری انداز سے اور تسلسل کے ساتھ عمل جاری رکھا جا سکا اور نہ ہی عوام میں ویکسین کا رجحان خاطر خواہ حد تک بڑھایا جا سکاضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر کوتاہیوں ‘ عملے کی نااہلی اور عوام کے احتراز تینوں وجوہات کاجائزہ اور ادراک کے بعد ان خامیوں کے تدارک پر توجہ دی جائے تاکہ ویکسین لگانے کے عمل میں بہتری لائی جا سکے ۔
گلیوں کی تزئیں و آرائش کا منصوبہ
پشاور میں گلیوں کی خوبصورتی کا منصوبہ فنڈز کی کمی کا شکارہونا احیائے پشاو کی ناکامی کے مترادف امر ہے۔30سے زائد گلیوں کی مرتب فہرست پر کام شروع کرانے کے لئے ضلعی انتظامیہ کے پاس اس منصوبے کیلئے فنڈز کی عدم دستیابی آڑے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات نے ضلعی انتظامیہ کو صرف دس گلیوں کی خوبصورتی کی ہدایت کردی ہے اور موجودہ فنڈز میں ہی اس منصوبے کو مکمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ارکان اسمبلی کی ہر فرمائش پوری نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے البتہ پورے شہر میں تیس گلیوں کی تزئیں اتنا بڑا منصوبہ بھی نہیں کہ اس کے لئے وسائل کا انتظام نہ ہو سکے ۔ جن دس گلیوں کے لئے فنڈز دستیاب ہیں وہاں فنڈز کا صحیح استعمال اور بعدازاں ان کی حفاظت کا بہرحال پورا اہتمام ہونا چاہئے۔فنڈز کی دستیابی و عدم دستیابی سے قطع نظر ضروری امر یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں لاکھوں کروڑوں روپے لگا کر شہر کا حلیہ درست کرنے کے جو منصوبے جاری ہیں یا پہلے مکمل ہو چکے ہیںخواہ وہ احیائے پشاور کے موجودہ منصوبے کا حصہ ہو یا دیگر منصوبوں کے تحت مکمل کئے گئے ہوںان تمام منصوبوں کو پائیدار بنانے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا زیادہ ضروری ہے۔