تاریخ کا سبق

یہ سچ ہے کہ زمانہ استا د سے زیادہ سخت ہوتا ہے استاد سبق دے کر امتحان لیتا ہے ،زمانہ امتحان لے کر سبق دیتا ہے یہ ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو زور جو ر سے مفادات کی آگ جھلساتے رہتے ہیں ، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے یوم دفاع پا کستان کے مو قع پر اپنے خطاب میں کیا ہی قیمتی بات کی ہے کہ عوامی تائید کے بغیر کوئی کامیا بی حاصل نہیںکی جا سکتی گو ان کا یہ اشارہ امریکا کی افغانستان میں تاریخی شکست کی بھی طرف تھا تاہم یہ سچائی حقیقت کی طرح انمٹ ہے ۔اس کے بعدطاقت کا گھمنڈ رکھنے والوں کو سبق لے لینا چاہیے ۔پنچ شیر سے باغیو ں کا قبضہ چھڑالینے کے بعد طالبان نے حکومت سازی کے سلسلے میں مجو زہ تقریب کا اہتما م کرنا شروع کردیا ہے ، طالبان کی حکومت سازی کے بارے میں طرح طرح کے رنگ بکھر ے جارہے تھے کبھی حقانی نیٹ ورک کو درمیان میںلا یا جا رہا تھا کبھی کہا جا رہا تھا کہ پنچ شیر کے حالات کی وجہ سے تاخیر کی جا رہی ہے تو کبھی یہ بھی رنگ ڈال دیا جا تا کہ حکومت کی تشکیل میں حصہ داری پر اختلا ف وجہ تاخیر ہے ، جبکہ سچائی یہ ہے کہ طالبان کا نظم یہ ہے کہ امیر کے فیصلو ں کے سبھی تابع رہتے ہیں اس کے علا وہ طالبان کا مسلئہ اقتدار حاصل کر نا نہیں ہے بلکہ ان اولیت فکر ی اورنظری اہداف ہیں،تاریخ کا یہ سبق ہے کہ طالبان جو گیا رہ بارہ اگست کے درمیان کابل کے قریب پہنچ گئے تھے اگر وہ چاہتے تو اس وقت ہی کا بل میں داخل ہو جاتے مگر وہ کا بل سے باہر ہی ٹھہرے رہے کہ یکا یک اشرف غنی قومی دولت لو ٹ کر رفو چکر ہوگئے تو طالبان نے ایک روز ٹھہر کر یعنی چودہ اگست کی بجائے پندرہ اگست کو کا بل میں داخل ہو نے کا فیصلہ کیا یہ تاریخ بھارت کی یو م آزادی کی ہے دنیا میں جو دھوم طالبان کے کا بل میں داخل ہو نے کی مچی اس نے بھارت کی یوم آزادی کا ستیانا س کر ڈالا ۔، طالبان نے جو بائیڈن کی جانب سے نائن الیون کے منحوس واقعے کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے کے اعلا ن پر یہ تاخیر کی ۔طالبان میں حکومت سازی کے لیے کوئی اختلا ف نہیں بلکہ انہوں نے تیا ری بھی شروع کر دی ہے اور اب تک چھ ممالک کو طالبان کی حکومت کی تشکیل کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ہے ان میں پاکستان ، قطر ، ترکی ، چین ، روس ، ایر ان شامل ہیں ، ایر ان شاید شرکت نہ کر ے کیو ں کہ امریکی انخلاء کے بعد سے ایر ان کا رویہ معاندانہ رہا ہے ، خاص طور پر پنچ شیر کی لڑائی ، کیو ں کہ افغانستان کی ہزارہ برادری جو شیعہ ہے اورجس پر ایر انی اثر رسوخ بہت پایا جاتا ہے اس برادری کا ایک لیڈر محمد مہدی پنچ شیر میں مو جو د پایا گیا ، جو قابل توجہ امرہے پھر ایر ان نے بھارت کے من گھڑت بیا ن پر پاکستان کی مداخلت کو اچھالا ، واضح رہے کہ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی ایر ان نے طالبان کے مقابلے میں امریکا کی حمایت کی تھی اور امریکی سفاکی کو تقویت بھی پہنچائی تھی ۔ طالبان نے جو معجزاتی کا میا بی حاصل کی ہے اس پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ مروڑ بھارت کو پڑ ی ہو ئی ہے جب طالبان کا بل میں داخل ہوئے تو ان کے بارے میں دنیا بھر کا میڈیا طالبان کے پر امن طورپر کا بل میں داخلے کی اطلا ع دے رہا تھا ، لیکن بھارتی میڈیا اس طرح چیخ وچلا رہا تھا جیسے کا بل پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے طالبان کے کابل میں داخلے کے وقت ایک گولی بھی نہیں چلی جبکہ
بھارتی میڈیا چیخ وپکا ر کے ساتھ اعلان کر رہا تھا کہ طالبان کا بل میں داخل ہو گئے ہیں اور کا بل میں اندھا دھند فائر نگ کی آوازیں آرہی ہیں جبکہ ایک گولی بھی نہیں چلی اسی طرح جب سے پنچ شیر کا قضیئہ شروع ہو ا تب سے بھارت یک طرفہ طورپر احمد مسعودا ور امر اللہ کو ہیرو بنا کر پیش کررہا ہے وہ پاکستان کے بارے میں یہ جھوٹا پر وپیگنڈہ تو کررہا ہے کہ پاکستان پنچ شیر میں فوجی مداخلت کررہا ہے پاکستانی طیاروں نے بمبا ری کی ہے ۔ طالبان نے جب باغیو ں کا نیٹ ورک منقطع کر دیا بجلی کی سپلا ئی کا ٹ دی اس کے بعد کونسا ذریعہ بچا ہے کہ باغیوں کا بھارت کے ساتھ رابطہ جاری ہے ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے افغانستان کی مو جو دہ حکومت کے خلا ف باغیو ں کو نیٹ ورک کی سہولت فراہم کررکھی ہے پنچ شیر میں شکست کے بعد احمد مسعود کی جانب سے جو آڈیو ویڈیو پیغام جاری ہو ا ہے جس میں انھو ں نے پنچ شیر وادی کے واسیوں سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلا ف بغاو ت کردیں ،اور ہتھیا ر اٹھالیں لیکن وادی کے باشند ے استفسار کررہے ہیں کہ وہ خود کیوں فرار ہو گئے جبکہ درجنو ں لو گو ں کو محض اپنے اقتدار کے لیے کٹوا دیا مر وادیا ۔ کیا پنچ شیر ی عوام احمد مسعو د کے اقتدار کے لیے خود کو مر وا دیں جو میدان کا بھگوڑا ثابت ہو ا ہے ۔ علاوہ ازیں ایران جو بھارت کے پاکستان پر جھوٹے پروپیگنڈے کو بنیاد بنا کر الزامات تراش رہا ہے اس کو تاجکستان کا کر دار کیو ں نظر نہیں آرہا ہے اس کو کیو ں نہیں مداخلت قرار دے رہا ہے ۔