جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ‘وہ دکان اپنی بڑھا گئے ‘ مصیبت مگر یہ ہے کہ دکان بڑھاتے بڑھاتے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں ‘ بھارتی میڈیا پرایسے لگ رہا ہے کوئی طوفان امڈ آیا ہے ‘ نہ صرف طالبان کے خلاف ہرزہ سرائی میں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کی جارہی ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بغض و عناد کی نئی جہتیں دریافت کی جارہی ہیں اس صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا تبصرہ بہت بامعنی ہے کہ ”بھارتی واویلا دیکھ کر لگتا ہے جنرل فیض نے دہلی کا دورہ کیا ہے”این ڈی ایس اور را منہ کے بل نیچے زمین پر گرے ہیں ‘ بھارتی میڈیا دیکھتا ہوں تو ہنسی آتی ہے” یعنی بقول نسیم اے لیہ
توہین عدالت کا ارادہ تو نہیں تھا
بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو
بھارتی میڈیا براہ راست دیکھنے کی کوئی سہولت ہمیں توحاصل نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بھی کیبل آپریٹر اسے دکھانے کا حوصلہ اگررکھتا بھی ہو تو اسے اجازت نہیں ہے ‘ البتہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک ‘ ٹویٹر اور یوٹیوب پر اس کی جھلکیاں وائرل ہو جاتی ہیں یا پھر مختلف ٹی وی چینلزبھارتی میڈیا کے منتخب حصے اپنے پروگراموں میں تبصرے کی خاطر دکھا دیتے ہیں کہ ان چینلز کے پاس سٹیلائٹ کی سہولتیں بھی موجود ہوتی ہیں اور اس قسم کے منفی پروپیگنڈے کا جواب دینا بھی لازمی ہوتا ہے ‘ سو وہاں سے کچھ نہ کچھ بھارتی منفی تبصرے مل جاتے ہیں ‘ اب جب سے افغانستان میں بقول شیخ رشید حالات میں تبدیلی آئی ہے اور طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرکے این ڈی ایس اور را کو منہ کے بل گرنے پر مجبور کیا ہے ‘ بھارتی میڈیا کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں اوربعض اینکرز نے تو اخلاقیات سے عاری ایسے ایسے القابات سے طالبان کو نوازنا شروع کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ‘ خیر اینکرز بے چاروں اور بے چاریوں کا کیا قصور کہ انہیں تو وہ تمام خواب چکنا چور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جو طالبان سے پہلے کی کابل انتظامیہ کے ساتھ مل کر بھارتی نیتائوں نے دیکھے تھے اورجن کی تعبیربہ زعم خویش انہوں نے پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کی صورت میں دیکھی تھی ‘ اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ کلبھوشن یادیو جیسے کئی نیٹ ورک چلا کر بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے بھارت سرکار پاکستان کو(خدانخواستہ) ایک بار پھر سانحہ مشرقی پاکستان جیسے کسی حادثے سے دو چار کرنا چاہتی تھی ‘ مگر اللہ کے فضل وکرم اور افواج پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کے سامنے یہ تمام ناپاک منصوبے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ‘ تاریخ نے شاید پہلی بار ایک قدیم محاورے کی شکست وریخت کا پہلے نظارہ کیا یعنی وہ جو کہتے ہیں کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے ‘ تو اب کی بار بنئے کا بیٹا بھی دھوکہ کھا گیا اور وہ چاروں شانے ایسا چت گرا ہے کہ خود اسے بھی اپنا ہوش نہیں ہے اب نہ صرف بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر رو رہا ہے بلکہ اس کے سابق فوجی جنرل بھی تلملا کر رہ گئے ہیں اور بھارتی میڈیا پر ایسے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں کہ ان پر عقل کے اندھے ہونے کی پھبتی آسانی سے کسی جا سکتی ہے ‘ بقول ثاقب لکھنوی
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
صورتحال اس وقت یہ ہے کہ مختلف بھارتی چینلز سے اٹھنے والی آہوں ‘ سسکیوں اور فلک شگاف چیخوں سے جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق ایک خاتون اینکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک سابق بھارتی جنرل یہ دعوے کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ طالبان نے جنرل باجوہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی مدد کرے ‘اب ان جنرل صاحب سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ حضور طالبان نے یہ اپیل کرتے وقت آپ سے مشورہ کیا تھا کیا؟ یا پھر آپ کو آپ کے ملک کی بدنام زمانہ ایجنسی را نے کوئی اندر کی بات بتائی تھی ‘ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے اس نے پورے بھارت میں صف ماتم بچھانے کی جو”حماقت” کی
ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ‘ اس اینکر کے مطابق امریکہ افغانستان میں 75ہزار بکتر بند گاڑیاں ‘ دو سوجہاز اور اسی طرح ٹینک وغیرہ چھوڑ کر گیا ‘ کلاشنکوف تو بقول اینکر کے طالبان یوں اٹھائے پھر رہے ہیں جیسے بچے کھلونے دیکھ کران سے کھیلتے ہیں ‘ موصوف نے بات آگے بڑھاتے ہوئے اس فوجی سازو سامان کا پاکستان ‘ ترکی ‘ تاجکستان ‘ ترکمانستان وغیرہ کے فوجی سازو و سامان کے ساتھ موازنہ بھی کر ڈالا اور امریکی صدر جوبائیڈن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری اس پر ڈال کر دل کا غبار ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے ،کانگریس رہنما نے بھارتی میڈیا کو آئینہ دکھاتے ہوئے اسے نفرت پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں دیشوں(پاکستان و بھارت) کے درمیان نفرتیں پھیلانے سے باز آجائے ‘ غرض یہ کہ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال نے خود بھارت کے اندر آگ لگا رکھی ہے اور بھارتی میڈیا کے عاقبت نا اندیش اینکرز اور پترکار(صحافی) اے اپنے مذموم منفی مقاصد کے لئے بڑھاوا دے رہے ہیں یہ نہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی اس”حسن کارکردگی” کے نتیجے میں بھارتی عوام کس خوف میں مبتلا ہو رہی ہے ‘ اوپر سے گزشتہ روز جنرل فیض حمید کا کابل میں جس تپاک کے ساتھ خیر مقدم کیا گیا ‘ آئو بھگت کی گئی اور اس موقع پر انہیں چائے پیش کرتے ہوئے ان کی جو تصاویر میڈیا پر سامنے لائی گئیں ان کی وجہ سے بھارت کے اندر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے ‘ بھارتی میڈیا چائے کی اس پیالی کو لیکر محاورتاً چائے کی پیالی میں جو طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ‘ اس نے پاکستانیوں کوایک اور موقع فراہم کر دیا ہے کہ اس طوفان کو مزید بڑھا کر اسے سیلاب بنا دیں اور انہوں نے بھارتی طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو پیش کی جا نے والی چائے کی یاد دلاتے ہوئے بھارتیوں پر طنز کے تیر چلانے شروع کر رکھے ہیں ‘ اس پر تو بقول شاعر یہ کہنا بنتا ہے ناں کہ
اس نے کہا کہ کونسی خوشبو پسند ہے
ہم نے تمہاری چائے کا قصہ سنا دیا