بلاول بھٹو!زمینی حقائق کا سچ بہت کڑوا ہے

دوتین دن قبل جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ملتان میں اخبارات کے ایڈیٹرز ‘ کالم نگاروں ‘ ا ہل دانش کے ساتھ مکالمے کی نشست سجائی تو ان سے سوال ہوا۔ انتخابی نظام کو الیکٹیبلز دینے والی پاکستان پیپلز پارٹی آج خود الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے ؟تو ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری سیاست کا مقصد نظریاتی امیدواروں کو میدان میں اتارنا ہے یہ نظریاتی امیدوار انتخابی عمل میں الیکٹیبلز ثابت ہوں گے تاہم وہ پرانے دوست اور ساتھی جو کسی وجہ سے پارٹی سے الگ ہو گئے تھے واپس آنا چاہیں تو پیپلزپارٹی کے دروازے کھلے ہیں البتہ انہیں پارٹی کے فیصلوں کا احترام کرنا ہو گا۔ میری دانست میں بلاول بھٹو کے اس جواب پر تفصیلی مکالمے کی ضرورت ہے ۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں منعقد ہونے والے غیر جماعتی انتخابات نے سیاسی عمل کو چار عدد مارشل لائوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا۔ سیاسی نظریات کی بنیاد پرمنعقد ہونے والے 1977ء کے انتخابات تک سیاسی کارکنوں کی اہمیت تھی یہی سیاسی کا رکن تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کے بعد ستم کا جواں مردی سے مقابلہ کیا پھر 1988ء میں طیارہ حادثہ کے باعث جنرل ضیاء کا گیارہ سالہ دور اقتدار تمام ہوا انتخابی عمل میں پیپلز پارٹی سنگل لار جسٹ پارٹی کے طور پرابھر کر سامنے آئی۔ پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت لینے سے کس نے کیسے روکا یہ الگ داستان ہے ۔ دبائو کے نتیجے میں ریاست پیپلز پارٹی سے انتقال اقتدار کے لئے اپنی شرائط منوانے میں کامیاب رہی ۔ پیپلز پارٹی نے غلام اسحاق خان کو صدر منتخب کروانے کے ساتھ صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیر خارجہ اور وی اے جعفری کو مشیر خزانہ کے طور پر قبول کرنے کے ساتھ آٹھویں ترمیم کو نہ چھیڑنے کی یقین دہانی کروا دی جس کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر قائم مقام صدر کی دعوت پر حکومت تشکیل دی اور محترمہ بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم بن گئیں۔
پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کے لئے شرائط کیوں قبول کیں؟ اس سوال کا ایک جواب وہ ہے جو گزشتہ 33برسوں سے محترمہ بے نظیر بھٹو سے منسوب کرکے اہل صحافت و دانش اور سیاست پیش کرتے ہیں وہ یہ کہ ” میرے کارکن لمبی جدوجہد کی بدولت تھک چکے ہیں اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسا بھی اقتدار ملتا ہے لے لیا جائے ” اس سوال کا ایک جواب اس وقت کے معروضی حالات میں پوشیدہ ہے ۔ معروضی حالات کیا تھے یہی کہ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے پہلے تو 90دن میں انتخابات کروا کے واپس بیرکوں میں جانے کا اعلان کیا ۔ پھر پہلے احتساب پھر انتخاب کی پھکی”سیون اپ” سے پھانک لی اگلے مرحلے پر انہوں نے قومی اتحاد کی جماعتوں کوحکومت میں شامل کرکے یاد رہے این ڈی پی ‘ اور علامہ شاہ احمد نورانی کی جے یو پی حکومت میں شامل نہیں ہوئی تھیں خاکسار تحریک کو اس قابل نہیں سمجھا گیا اگلے مرحلہ پر غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات ہوئے حکومت کی بدقسمتی یہ رہی کہ ان انتخابات میں پی پی پی کے ہم خیال عوام دوست کے حصے والے امیدوار بھاری تعداد میں جیت گئے اب جوڑ توڑ ترغیب و دھونس جو جیسے قابو آیا ویسے قابو کیاگیا اور بے اثر بلدیاتی نظام معرض وجود میں آگیا۔ مختصراً یہ کہ مارشل لاء ‘ پی این اے کی جماعتوں کا مفادات کے لئے فوجی حکومت میں شامل ہونا ‘ غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات ‘ صدارتی ریفرنڈم اور پھر غیرجماعتی انتخابات ان سب کی وجہ سے ایک ایسی فضا بنی جس میں سیاسی کارکنوں کی جگہ بروکروں ‘ ذات پاس اور عقیدوں و برادر ازم کے نام پر ووٹ لینے دینے والوں کی موجیں ہو گئیں ۔1985ء کے غیرجماعتی انتخابات نے سیاسی عمل میں برادریوں اور پیسے کی طاقت کو رواج دیا اب سیاسی کارکنوں کی وہی کھیپ باقی تھی جس نے مارشل لاء کے جبرو ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ 1988ء کے انتخابات میں ان الیکٹیبلز کی اہمیت دو چند ہو گئی جو پچھلے دس سال کے مارشل لائی نظام میں بلدیاتی اداروں ‘ مجلس شوریٰ اور غیر جماعتی اسمبلیوں کے ذریعے سیاسی چہرے بن گئے تھے ۔ الیکٹیبلز کی وجہ سے سیاسی کارکن کی قدر مزید کم ہوئی کیونکہ اس وقت چالیس یا پچاس لاکھ روپے لگا کر انتخابی اکھاڑے میں اترنے والا امیدوارانتخابی مہم کے لئے 500 سے 700 روپے روزانہ پر انتخابی مہم کے لئے لوگوں کی خدمات حاصل کرلیتا تھا۔1988ء سے 2018ء کے انتخابات تک کے آٹھ انتخابات میں الیکٹیبلز اور پیٹ(پیڈ) ورکروں کی اہمیت ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور سیاسی کارکنوں کا کلچر زوال پذیر ہوتا گیا۔ اب اگر بلاول بھٹو نظریاتی الیکٹیبلز کی بات کرتے ہیں تو انہیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ نظریاتی کارکن وہ جتنے بھی جس جماعت کو دستیاب ہوں خطے کے مہنگے ترین انتخابی عمل میں امیدوار بن بھی سکتے ہیں؟ نظریاتی امیدوار انتخابی عمل کے اخراجات کہاں سے لائے گا ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نظریاتی الیکٹیبلز کی بات بظاہر بہت دلنشین ہے مگر زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں نظریاتی الیکٹیبلز میدان میں اتارنے سے قبل پیپلز پارٹی یا کسی بھی جماعت کو پہلے سماج میں جمہوری رویئے پروان چڑھانا ہوں گے پارلیمان کے ذریعے انتخابی اصلاحات کروانا ہوں گی ۔ بھاری بھر کم انتخابی اخراجات کی حوصلہ شکنی قانون سازی اور جمہوری مزاحمت سے کرنا ہو گی یہ سارے کام راتوں رات ممکن نہیں 33برسوں کی محنت سے جمہوری سیاسی کلچر کی جگہ عجیب سی حب الوطنی ‘ جمہوریت دشمنی ‘ سیاسی قلا بازیوں او جس انتخابی تجارت کو رواج دیا گیا ہے اسے رواج دینے والے اور منافع کمانے والے کیا مزاحمت نہیں کریں گے؟ بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو اس پر ٹھنڈے دل ے غو کرنا چاہئے ۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں ضلع اور شہر کی سطح پر صدر اور سیکرٹری کا عہدہ سفید پوش کارکن کو دینے پر تیار نہیں ایسے میں نظریاتی الیکٹیبلز کی باتیں خوش کن ہیں لیکن زمینی حقائق کا سچ بہت کڑوا ہے۔