تعلیم کو تجارت بنانے کا منصوبہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کالج اساتذہ اور طلبا کی ایک بڑی تعداد گزشتہ چند ماہ سے صوبے کے سرکاری کالجز کی مجوزہ نجکاری کی سرکاری پالیسی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ حکومتی موقف کی ایک اہم حکمت کالجز کی استعداد، کارکردگی اور فعالیت میں اضافہ ہے۔ تاہم اِس سلسلے میں کالج اساتذہ کی یونین کے عہدیداران کا جو موقف سامنے آیا ہے اسکا خلاصہ یہ ہے کہ سرکاری کالجوں کی نجکاری اور یہاں بورڈ آف گورنرز کے قیام سے اِن اداروں کے اندرونی معاملات میں بیروکریسی کی کی براہ راست مداخلت بڑھے گی جبکہ بیروکریٹس اور نجی مالکان کے اِشتراک سے بننے والے بورڈ آف گورنرز کے اِجرا سے کالجوں کی فعالیت اور استعداد کار میں کوئی خاص اضافہ بھی متوقع نہیں۔ تعلیمی میدان میں بیوروکریسی کی مداخلت سے متعلق حدشات کو سوشل میڈیا پر جاری کئی ایک مباحث سے تقویت ملی ہے جن میں کالجوں کے صوبائی ڈایریکٹوریٹ کی نظامت براہِ راست پی ایم ایس افسران کے سپرد کرنے کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کالجوں کی مجوزہ نجکاری پر ایک اعتراض یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اِس سے تعلیم کی کمرشلائزیشن اور مارکیٹنگ کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ تعلیمی اداروں میں مالی مفاد پر مبنی عنصر کے داخلے سے عین ممکن ہے کہ تعلیم اتنی مہنگی ہو جائے کہ عام آدمی کی دسترس سے نکل جائے۔
ایک پرانا مقولہ ہے کہ تعلیم خواہ جتنی بھی مہنگی ہو بہرحال جہالت سے بڑھ کر مہنگی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے اکثر بڑے نجی تعلیمی اداروں کے داخلی دروازوں پر یہ عبارت جلی حروف میں لکھی دیکھی ہے۔ خیر ایسے نجی تعلیمی اداروں کو اپنے اِنتظام و اِنصرام کے لیے مالیات کی ضرورت رہتی ہے۔ اور پھر بہتر تعلیم کی ترسیل کے لیے بہتر ذرائع بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ نجی املاک سے مالی نفع کی توقع بحرحال کوئی ناگوار بات نہیں۔ تاہم صرف زیادہ سے زیادہ مالی نفع کے حصول کے لیے جہالت کی تاریکیوں کو اجاگر کرنے سے کہیں بہتر کیا یہ نہ ہو گا کہ ہمارے ہاں تعلیم معیاری بھی ہو اور سستی بھی ہو تاکہ ہر خاص و عام کو بغیر جبر و اِکرہ حصولِ تعلیم کے مواقع میسر ہوں اور اِس طرح جہالت کی تاریکیاں بھی چھٹنے لگیں۔ آج کل ہماری سیاسی اِصطلاحات میں معیاری اور مختصر تر حکومت (Lean Government) کا کی اِصطلاح عام ہے۔ مختصر حکومت کا تصور دراصل جدید مارکیٹنگ میں پیداوری صلاحیت کی بہتری اور اِصلاح سے متعلق چند دوسرے تصورات سے مستعار ہے۔ ہمیں اِس تصور کو درست طور پر سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں نجکاری کا نام اکثر سرکاری ملازمین پر شاق گزرتا ہے۔ نجکاری کے عمل سے ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشروں میں بالعموم غیر یقینی کی فضا ہموار ہوتی ہے۔ ہماری اہم ترین ضرورت فوری اور جبری نجکاری نہیں ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں اِصلاحات کا تدریجی نفاذ ہے۔
مختصر حکومت کا تصور اگرچہ اہم ہے تاہم اِس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت اپنی تحویل میں چلنے والے اداروں کو غیر متعلقہ افراد یا نجی تحویل میں دے کر اپنی روایتی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو جائے۔ اِس تصور کا جامع مفہوم اگر ہے تو صرف اتنا کہ حکومت ہمارے ہاں سرکاری تعلیمی اداروں میں اہم ترین ترجیحات کا تعین کرے، تمام غیر ضروری اقدامات کو فی الفور ختم کرے جبکہ کم تر اہمیت کی حامل ترجیحات کو موخر کرتے ہوئے دستیاب وسائل کو بروئے لائے تاکہ فوری اہمیت کی حامل ترجیحات کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ فوری اہمیت کی حامل ترجیحات کی ایک مثال ملک میں یکساں نصابِ تعلیم کی حالیہ پالیسی کا نفاذ ہے جسے اعلیٰ تعلیمی اداروں بالخصوص کالجوں کی سطح تک فروغ دینا وقت کا ایک اہم ترین تقاضہ ہے۔ ہمارے ہاں فوری نوعیت کے درپیش مسائل میں امتحانی نظام کی ا ِصلاح، اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر خصوصیت سے توجہ طلب ہیں۔
اصلاحات کے تدریجی نفاذ کا دوسرا مرحلہ فوری نوعیت کی اہم ترین ترجیحات کے حصول کے راستے کا عملی تعین ہے۔ کسی ایک مسلے کے حل کے لیے کئی ایک ممکنہ راستے ہوسکتے ہیں۔ تاہم اِس بات کا تعین نہایت اہم ہے کہ تمام اِمکانی راستوں میں سے بہتر، معیاری اور لاگت کے اعتبار سے مناسب ترین راستہ کون سا ہے؟ راستے کے تعین کے بعد تیسرے مرحلے میں ہم اس قابل ہو پائیں گے کہ اپنے مسائل کے عملی حل کے لیے دستیاب وسائل استعمال میں لائیں۔ مسائل کے مقابلے میں وسائل کا حجم عموما کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتی وسائل کے ضیاع کو روکنا ہمارا اہم ترین قومی فریضہ ہے۔ بنیادی ترجیحات کے حصول کے بعد چوتھے مرحلے میں حکومت کی اہم ترین ذمہ داری بنیادی سہولیات اور سروسز کی عوام الناس تک عملی ترسیل ہے۔ تعلیم کے اعلی معیارات عوام کی ضرورت ہیں۔ اگر ہماری حکومت عوام کی اِس غرض کو بہتر اور مناسب معاوضے کے عوض پورا کر پائے تو بھلا کون ہو گا جو حصولِ تعلیم پر جہالت کو ترجیح دے گا؟ اور اِسطرح اپنی اگلی نسلوں کو لاعلمی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے تیار ہو گا۔ بنیادی فرائض و ذمہ داریوں کی انجام دہی سے فرار کوئی دانشمندانہ حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ہاں تعلیم کو بوجھ سمجھنے کی بجائے ملکی ترقی میں معاون اور مددگار سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے زاویہِ نگاہ کی صرف اِس ایک تبدیلی میں ہمارے بہت سے مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔