چال چلتا ہے کوئی اور میاں

مار آستین والا محاورہ اگر کسی پر منطبق کیا جاسکتا ہے تو وہ ایسے عناصر پرجو موقع ملتے ہی اپنے اندر کا زہر اگلنے میں ذرا تامل نہیں کرتے ' گزشتہ لگ بھگ چالیس سال سے ہم نے انہیں اپنی آستینوں میں پالا ' ان کو''دودھ'' پلاتے رہے ' مگر ہمیں تو یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ سانپ موقع ملتے ہی ہمیں ڈسنے میں تاخیر نہیں کرے گا ' ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود اگر ہم اب بھی غفلت کی نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں تو قصور ہمارا ہی ہوسکتا ہے ' ہم نے انصارمدینہ کا کردار اپنانے کی کوشش کی ' انہیں سینے سے لگایا ' اپنی روکھی سوکھی ان کے ساتھ تقسیم کرنے کی کوشش کی ' لیکن اس مارآستین نے ہمارے معاشرے میں جس قدر زہر ممکن تھا پھیلایا۔ ہمارے معاشرتی اور معاشرتی ڈھانچے کو تلپٹ کرنے ' کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام کرنے ' ہمارے بعض اداروں کے اندر موجود بعض کرپٹ عناصر کی مدد سے ''سرنگیں'' کھود کر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرکے کھل کھیلنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے جبکہ مبینہ گلم جم عناصر کے ذریعے منفی رجحانات عام کرنے میں کامیابی حاصل کرکے بے راہ روی پر لوگوں کو اکسانے کی داستانیں بھی اتنی پرانی نہیں ہیں 'ہمارے پالیسی ساز یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی غفلت کی نیند سوتے رہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ احسان فراموشی کی نئی داستانیں رقم کی جارہی ہیں گزشتہ روز کابل میں ایک بار پھر کچھ خواتین جن کی پشت پناہی بعض مرد حضرات کر رہے تھے ' نے پاکستان کے سفارتی مشن کے سامنے پاکستان مخالف مظاہرہ کیا گیا 'توڑ پھوڑ کی گئی 'عمارت کو نقصان ہوا اور بعض اطلاعات کے مطابق اموات بھی ہوئیں جس پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے سخت احتجاج بھی کیا ' مگر پاکستانیوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور جوابی مظاہرہ کیا نہ اسلام آباد میں کابل کے سفارتخانے کا گھیرائو کیا یا توڑ پھوڑ کی ' اب اگرچہ صورتحال میں اتنی تبدیلی ضرور دیکھنے کو ملی کہ گزشتہ روز کے پاکستان مخالف مظاہرے کو طالبان انتظامیہ نے منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کرکے قابوکیا ' تاہم اس پر کچھ سوال تو ضرور اٹھتے ہیں ' اور اس صورتحال کی وجوہات تلاش کرنے ضروری ہیں وگر نہ چار دہائیوں تک پاکستان کے سر پر سوار ہو کر ہر قسم کی مراعات سمیٹنے والوں کو یہ احساس کیوں نہیں ہوتا کہ جس تھالی میں کھا کر ان کی تین نسلیں جوان ہوئیں اسی میں چھید کیوں کر رہے ہیں؟ ' تازہ صورتحال میں اگرچہ بھارت کو وہاں تزویراتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وقت بھارت کے اندرغم و اندوہ کی سی کیفیت چھائی ہوئی ہے اور بھارتی میڈیا کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں یعنی ایک سکوت مرگ طاری ہے ' اس کیفت نے بھارتی میڈیا اور اس کے پروردہ افغان میڈیا میں بعض پاکستان مخالف عناصر کوپاگل پن کی حدتک منفی پروپیگنڈہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ' اور خصوصاً ٹویٹر ' فیس بک اور یوٹیوب پر جس قسم کا پاکستان مخالف بیانیہ سامنے آرہا ہے اس سے ان لوگوں کی ذہنی کیفیت صاف ظاہر ہو رہی ہے ' بھارتی میڈیا تو اس حد تک پاگل پن کا شکار ہے کہ وہ ویڈیو گیمز کی پوسٹیں لگا کر اسے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ' پاکستان کے ایم این اے ' اینکر اور دانشور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی فوج کی وردی میں ایک تصویر جوکسی پروگرام یا ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران کھینچی گئی ہے کو اس دعوے کے ساتھ وائرل کی گئی کہ یہ پاکستان کمانڈو ہے جو پنج شیر میں لڑتے ہوئے مارا گیا ' اسی طرح کچھ پرانی تصاویر بھی پروپیگنڈے کے طور پر''پرانی شراب نئی بوتل'' کے مصداق وائرل کی گئیں ' جن کا مقصد پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کے سوا کچھ نہیں ہے ' پھر وادی پنج شیر میں پاکستانی طیاروں کی بمباری کے بے بنیاد الزامات بھی لگا کر افغانستان کے باشندوں میں غلط تاثر ابھارنا تھا ' اگرچہ اس کی نہ صرف پاکستان نے تردید کی بلکہ طالبان نے بھی اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا انہوں نے اپنے بل بوتے پر وادی پنج شیر کو فتح کیا ' او رکیوں نہ کرتے کہ کون اپنی فتوحات کا کریڈٹ کسی اور کو دیتا ہے ' مگر اسے کیا کیا جائے کہ جو ہائبرڈ وار ان دنوں سرچڑھ کر اپنا جادو جگا رہی ہے اس کا کرشمہ ہی یہ ہے کہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنا کر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کیا جائے جبکہ افغانستان کی نئی نسل کے اذہان کو بھارتی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف اس قدر زہر آلود کیا گیا ہے کہ یہ جادو اترنے کا نام ہی نہیں لیتا ' اس لئے اس''چنگاری'' کو الائو میں تبدیل کرنے کے لئے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا ' مگر جولوگ اس وقت طالبان کے خلاف نفرت کا رخ پاکستان کی جانب پھیرنے کی مذموم حرکتیں کر رہے ہیں ' ان کے ہاتھ کچھ آنے والا نہیں ' خواتین کی آڑ لیکر نفرتوں کا سودا بیچنے والے پاکستان کے تو دشمن ہیں ہی مگر دراصل یہ افغانستان کے بھی دوست نہیں ہیں ۔ بقول ڈاکٹر نذیر تبسم
ہم تو شطرنج کے مہرے ہیں نذیر
چال چلتا ہے کوئی اور میاں!
اس صورتحال کے تقاضے کچھ اور ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اسی سوراخ سے ایک بار پھر ڈسے جانے کو بے چین ' بے تاب اور بے قرار ہو رہے ہیں ' پاکستان کے عوام ان بن بلائے مہمانوں سے گزشتہ چار دہائیوں سے پہلے ہی پریشان بلکہ ہلکان ہو رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب جبکہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے ' اور آخری فتح یعنی وادی پنج شیر پر تسلط قائم کرنے کے بعد بالآخر اپنی کابینہ کا اعلان بھی کر چکے ہیں اور وہاں امن و امان قائم ہو چکا ہے جبکہ تھوڑی بہت کسر جو باقی رہ گئی ہے وہ بھی جلد قابو میں آجائے گی ' اس کے بعد جو بیس سے تیس لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین یہاں مقیم ہیں ان کی واپسی کا اہتمام کیا جائے ' مگر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مزید مہاجرین کے لئے''ریڈ کارپٹ'' بچھانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ' اور خیبر پختونخوا کے علاوہ بلوچستان میں کیمپس لگائے جارہے ہیں، حالانکہ بقول مومن خان مومن
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیماں کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ا رماں ہوں گے
اب یہ صورتحال جسے مقامی طورپر''میں تمہاری نمازیں پڑھوں تم میرے کوزے توڑو'' والے محاورے میں واضح کیا گیا ہے ' مزید نہیں چل سکتی۔