انسانی تمدن اور دہشت گردی کے بدلتے چہرے

دنیا میں پائیدار امن کا قیام ہمیشہ سے انسان کا خواب رہا ہے لیکن بد قسمتی سے حضرت انسان نے ہمیشہ سے اپنے ہی ہاتھوں دنیا میں فساد برپا کرکے اپنے ہی خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا ہے۔ دنیا میں پہلا خون حضرت آدم علیہ السلام کے اپنے ہی گھر میں ہوا اور پھر ہوتے ہوتے یہ سلسلہ اسی تواتر کے ساتھ مہذب دنیا میں آج بھی مختلف شکلوں میں جاری وساری ہے۔آج سے ہزاروں سال پہلے جب انسان غاروں میں رہتا تھا تواپنے جان ومال اور زندگی کے تحفظ کی خاطراپنے سارے حقوق سے ستبردار ہوکرایک سربراہ کے سامنے سر تسلیم اس لئے خم کیا کہ وہ معاشرے کے طاقتور طبقوں کے خلاف انکے جان ومال اور آبرو کی حفاظت کرینگے لیکن اسی عمرانی معاہدے کے بعد بھی ظلم وبربریت کا یہ سلسلہ تھم نہیں سکا۔انسان نے جب مہذب دنیا میں قدم رکھا تو بھی جبر وتشدد کے سلسلے جاری رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انکی شکلیں بدلتی رہی۔دنیا نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے ہاتھوں انسانیت پر ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانیاں بھی دیکھیں اور سنیں جو لوگوں کے سروں سے مینار کھڑاکرکے انسانی خون سے بہتے دریا کو دیکھ کر اپنی بہادری اور طاقت پرفخر محسوس کرتے تھے۔انسان ابھی ہٹلر کے ہاتھوں ہوئے ظلم وبربریت کی کہانیاں بھولے نہیں ہیں۔پولینڈ کے شہر کریکو میں موجود وہ کنسنٹریشن کیمپس ہٹلر کے ہاتھوں ہوئے ان مظالم کی کہانیاں خود سناتی ہیں جہاں پر انہوں نے لاکھوں نہتے یہودیوں کو گیس کی چیمبروں میں زہریلی گیس چھوڑ کر ہلاک کرڈالا تھا ۔ ایک دورے کے دوران ہمیں وہ قالین بھی دکھائے گئے جو ہٹلر نے قید یہودیوں کے سروں کے بال نوچ کر بنائے تھے۔ اسی کیمپ میں ہم نے گیس چیمبرز کے باہر چھوٹے چھوٹے بچوں کے جوتے بھی دیکھے جنہیں ان چیمبرز میں زیریلی گیس کے ذریعے ہلاک کردیا گیا تھا۔ بعد میں ہمیں اس پھانسی گھاٹ کا مشاہدہ بھی کروایا گیا جہاں اسی کیمپ کے انچارج جیلر کو بعد میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ لیکن ظلم وبربریت کی یہ کہانیاں یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ انسانیت نے دنیاکی دو عظیم جنگوں کے دوران لاکھوں انسانوں کے خون سے بہتی ندیاں بھی دیکھیں اور انسان کے ہاتھوں انسانوں پر قیامت خیز ایٹم بم بھی گراتے دیکھے۔ جاپان کے شہر ہیروشیما کے باسی اب بھی ان مظالم کی کہانیاں سناتے انسانیت کو کوستے رہتے ہیں۔ہیروشیما میں اس جگہ کو اب بھی سیاحوں کیلئے محفو ظ رکھا گیا ہے جہاں پر دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ ہیروشیما کے عجائب گھر ان مظالم کی زندہ کہانیاں ہیں۔ وہاں پرعوام کے جسموں سے بہتے گوشت کے لوتھڑوں کی تصویریں اس وقت کی منظر کشی کرتی ہے جب ہیروشیما کے باسیوں پر ایٹم بم گرایا گیاتھا۔ تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پورا آسمان کالے بادلوں سے ڈھکا ہے اور ہیروشیما قیامت صغری کا منظر پیش کررہا ہے۔ہیروشیما کے عجائب گھر میں ایک انتہائی بوڑھی عورت نے جو اس حادثے میں بچ نکلی تھی ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ شہر کے اطراف میں تقریبا چھ کلومیٹر تک جو لوگ بھی موجود تھے وہ سب کے سب یا تو جھلس گئے تھے یا ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے جس کا بچنا محال تھا۔ کم و بیش یہی کہانیاں ہمیں پھر بیسویں صدی کے اوآخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں لیبیا، عراق، ایران، شام ، فلسطین، کشمیر اور افغانستان میں بھی سننے کو ملیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد دوقطبی مہذب دنیا میں ظلم وبربریت کی ایک نئی شکل متعارف ہوئی۔ استعماریت، سامراجیت، سوشلزم، کمیونزم اور ایمپیرلزم کے نام پر جبر واستبدادکی نئی شکلیں وجود میں آئیں اور دنیا کے امن کو تاراج کردیا گیا۔دنیا کی دو عظیم جنگوں کے بعد سرد جنگ کا آغاز ہوگیا اور دنیا کی دوسپر طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے نبردآزہوئیں لیکن اسی کی دہائی میں سوویت یونین کی سقوط کے بعد امریکہ دنیا کا واحد سپرپاور بن کر دنیا میں اپنی من مانی کرنے لگا۔ آخرکاراسی سپرپاور کو بیس سال تک افغانستان کے اندر آگ وخون کا کھیل کھیل کرواپس اپنے ملک جانا پڑا اور یوں اس خطے کو تھوڑی دیر کیلئے قرارنصیب ہوا۔اس ساری تمہید کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں دہشت گردی، تشدداورظلم کا میدان ہمیشہ سے گرم رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان جنگوں کا میدان ہمیشہ سے ہمارا خطہ ہی کیوں رہا ہے؟ کیا اس خطے کے باسیوں کو امن سے رہنے کا حق نہیں ہے؟ امریکہ بہادر اب اپنے اسلحہ کو بیچنے کیلئے نئے مارکیٹ ڈھونڈیں اور ہمیں آرام سے زندگی گزارنے دیں۔ روس، چین، ایران، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سیاسی قربتیں، تجارتی اور سفارتی روابط امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن علاقائی قوتوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور معاشی ترقی کی خاطران ممالک کے درمیان ایک مضبوط اقتصادی بلاک کا قیام وقت کا اہم تقاضا ہے ۔اگر افغانستان کے اندر امن قائم رہے تو اربوں ڈالر کے خطیر رقم سے بنائے گئے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ سی پیک اور کاسا جیسے بڑے بڑے منصوبوں سے جہاں توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا وہاں معاشی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔