Shazray

امید کی کرن

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا ہے کہ حکومت سے ایک روٹی کی قیمت کنٹرول نہیں ہو رہی۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام انتہائی تکلیف میں ہیں۔ انہوں نے
سیکرٹری فوڈ کو ایک ہفتے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بار باراعلیٰ حکام کو مہنگائی کا راستہ روکنے اور قیمتوں کو قابو کرنے کی تاکید کرتے رہے ہیں لیکن کوئی بہتر لائحہ عمل نہ ہونے اور مارکیٹ کے اصول کے مطابق مہنگائی کا مقابلہ نہ کئے جانے کے باعث اعلیٰ سطحی احکامات پر بھی عملدرآمد نہ ہو پایا۔معزز چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد ان کے احکامات پر عملدرآمد اور حکام کی عدالتی احکامات کی بجا آوری ہی کا انتظار کیا جاسکتا ہے ۔دریں اثناء ہمارے رپورٹر کے مطابق افغانستان میں فوڈ سپلائی چین کے ٹوٹنے اورخوراک کی چیزیں ختم ہونے سے خیبر پختونخوااورپنجاب سے خوردنی اشیاء کی سمگلنگ دوبارہ شروع ہونے اور صوبے میں گندم ،چاول ،آٹا ، گھی اور چینی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اگربروقت پالیسی وضع نہیں کی گئی تو اس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوگا اس امر کی کو نشاندہی کردی گئی ہے کہ فوری طور پر گندم، چاول ، تیل، گھی، آٹا اور چینی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اس لئے سمگلنگ کے تدارک کیلئے سرحدوں پر روک تھام کے ساتھ صوبے میں ذخیرہ اندوزی کی بھی نگرانی کی جائے ۔امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں زبردست اضافے کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اشیائے خوردنی کی افغانستان سمگلنگ کی روک تھام میں بری طرح ناکامی ایک مستقل مسئلہ ہے اس طرح کی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عاید ہوتی ہے جو ہر قدم پر مہنگائی بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تیل ‘ گیس ‘ بجلی وغیرہ جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی قبول کرنے پر مجبور کرتی رہتی ہے بنیادی ضروریات کی چیزوں کی نرخوں میں مسلسل اضافے کا زندگی کے ہر شعبے پر منفی اثر پڑنا لازمی ہے صوبے سے اشیائے خوردنی کی افغانستان سمگلنگ بھی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہے افغانستان کے حالات مارے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہیں۔ان حالات میں عدلیہ ہی سے عوام کو انصاف اور ریلیف کی توقع ہے۔
اقدامات در اقدامات ‘نتیجہ مایوس کن
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے مستحق لوگوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ایک اور اہم ا ور عوام دوست قدم کے طور پرکڈنی، لیور، بون میرو، ٹرانسپلانٹس اور تھیلی سمیا سمیت مختلف سات مہنگی بیماریوں کے مفت علاج معالجے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے غریب اور مستحق افراد کو ہسپتالوں میں داخل ہونے کی صورت میں825سے زائد بیماریوں میں مفت علاج کی فراہمی کیلئے احساس تحفظ پروگرام کا دائرہ کار خیبر پختونخوا تک توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس سلسلے میں ابتدائی طور پرپشاور کے2تدریسی ہسپتالوں میں پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی ہے جس کیلئے احساس تحفظ پروگرام اور محکمہ صحت کے درمیان معاہدہ کر لیا گیا ہے دوسرے مرحلے میں دیگر ہسپتالوں تک اس منصوبے کو توسیع دی جائے گی حکومت کے یہ فیصلے اور اقدامات داد تحسین کے مستحق ہیں البتہ اس امر کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ حکومت کی طرف سے اس قدر فراخدلی سے صحت کی سہولیات کی مفت فراہمی کے اقدامات کے باوجود عوام کو بروقت علاج کی سہولیات کے حصول میں رکاوٹیں اور مشکلات کیوں پیش آرہی ہیں وہ رکاوٹیں کیا ہیں جس سے عوام شاکی ہیں ۔حکومت ان کا جائزہ لیکر اور عوامی آراء کی روشنی میں مشکلات کا ازالہ کراسکی تبھی ان اعلانات کی افادیت ہو گی بصورت دیگر حکومت کے وسائل خرچ ہونے کے باوجود عوام کی شکایات کا ازالہ نہ ہوگا۔
جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے
پشاورمیں22مقامات پر بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے تعمیر نالوں پر تجاوزات کی نشاندہی کے باوجود اقدامات نہ اٹھائے جا سکے تجاوزات کی وجہ سے پشاور میں چند لمحوں کی بارش نے شہرکوتالاب بنا دیا۔صورتحال سے حکام کی نا اہلی وغفلت بخوبی واضح ہے قبل ازیں بلدیہ کے حکام کی طرف دعویٰ کیا گیا تھا کہ اتنے میل نالوں کی صفائی کی گئی ہے اور آمدہ بارشوں میں شہری سیلاب پر قابو پانے کے لئے متاثر کن تیاریاں کی جارہی ہیںمگر بارش کی ایک ہی لہر نے حکام کے دعوئوں کا بھانڈا پھوڑ دیا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نالوں کو میلوں میں ناپ کر صفائی اور شہری سیلاب کی گزر گاہوں کو کھولنے کے دعویداروں سے جواب طلبی تو کریںکہ ان کا دعویٰ جھوٹ تھا یا پھر ”زیادہ بارشوں سے زیادہ پانی آگیا تھا”۔