Idhariya

کرونا کے مسئلے کا حل تعلیمی اداروںکی بندش

نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سنٹر(این سی اوسی ) نے کوروناپابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے27 حساس اضلاع میں تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتے کیلئے بندرکھنے کافیصلہ کیا گیا۔ این سی اوسی کے فیصلے کے تحت اب 12ستمبر کو کھلنے والے سکولز اب اس تاریخ کو نہیں کھلیں گے بلکہ 15ستمبر کو جائزہ اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ ہوگا ۔کورونا کے پھیلائو میں اضافہ پرحکومت کے اقدامات کی تان تعلیمی اداروں کی بندش پر ٹوٹتی ہے جس سے ملک میں تعلیم کا نظام ہی تباہ ہو کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ بچوں پر اس کے مختلف قسم کے منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں سال سے زائد عرصے سے تعلیمی سرگرمیوں سے دوری نے طالب علموں کو تعلیم اور تعلیمی اداروں سے دو رکر دیا ہے ۔خیبر پختونخوا میں جہاں ویسے بھی تعلیمی صورتحال کچھ حوصلہ افزا ء نہیں سکولوں کی بار بار بندش افسوسناک ہے پابندی کے باوجود بعض چھوٹے اور کچھ بڑے نجی سکول کھلے ہوئے ہیں جن کے خلاف شکایات کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی ہے دوسری جانب خود حکومتی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ کورونا کے مریضوں کے لئے مائع آکسیجن گیس کے بحران پر صوبائی اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس جمع کرادیا گیا ہے توجہ دلائو نوٹس کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آکسیجن کا بحران پیدا ہونے کی وجہ سے مریضوں کو دیگر وارڈز میں ایمرجنسی بنیادوں پر منتقل کیا گیا جس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا حالانکہ گزشتہ سال دسمبر میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں آکسیجن کے بحران کے باعث سات سے زائد مریضوں کے انتقال کا سانحہ رونما ہوا تھا۔ محولہ صورتحال میں اگر قرار دیا جائے کہ صوبائی حکومت مرکزی نظم کے فیصلے پر عملدرآمد میں سنجیدگی کے علاوہ باقی معاملات میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے ۔وگر نہ کم از کم بڑے ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کا انتظام اتنا مشکل کام نہیں۔ سکولوں کی بار بار بندش سے پیدا ہونے والے حالات و مسائل سے سنگین صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے یونیسف نے اس سنگین صورتحال پر جو رپورٹ جاری کی ہے وہ چشم کشا ہے۔رپورٹ کے مطابق کووڈ نے دنیا کے ڈیڑھ ارب طلبا کو ان کی کلاس روم سے دور کر دیا ہے ۔ موجودہ نسل کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے ‘ یونیسف کا کہنا ہے کہ اب ہم سیکھنے والوں کی نسل کھوجانے کے خطرے سے دو چار ہیں ۔ کووڈ کے دوران سکولوں کی بندش نے دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کو متاثر کیا اس عمل کے نفسیاتی اثرات دور رس ہیں سکولوں کی بندش نے بچوں کی ذہنی صحت کے عمل کو روک دیا فکری اور تعلیمی نشوونما کے علاوہ بچوں کی جسمانی ‘ جذباتی ‘ خاندانی ‘ سماجی اور اخلاقی ترقی بھی رک گئی۔ بہت سے گھر اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ضروری آلات اور ٹیکنالوجیز سے بھی محروم ہیں پسماندہ علاقوں کے سکول مالی مسائل اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں سکولوں کے دوبارہ کھولنے میں وائرس کی نئی اقسام کے خدشات ‘ ویکسی نیشن میں ہچکچاہٹ ‘جسمانی فاصلے کی عدم تعمیل اور صحت عامہ پر قابو پانے کے دیگر اقدامات رکاوٹ ہیں بچوں کی حساسیت اور بچوں میں وائرس کی منتقلی کی اطلاعات متضاد ہیں دنیا بھر میں دیگر روک تھام کے اقدامات کے مقابلے میں کووڈ کے سماجی ‘ جذباتی اور رویے کے اثرات اور سکولوں کی بندش اور گھر کی قید کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ کووڈ وبا کے دوران سکولوں کی بندش نے بچوں کے طرزعمل ‘ صحت پر ممکنہ طور پر منفی اثرات کے بارے میں تشویش پیدا کی ہے ۔ برطانوی اخبار نے سیو دی چلڈرن کی رپورٹ کے حوالے سے خبردار کیا کہ کووڈ 19 اور موسمیاتی بحران سمیت دیگر خطرات کے نتیجے میں کڑووں بچوں کی تعلیم خطرے سے دو چار ہو گئی پوری دنیا میں کلاس رومز دوبارہ کھولنے کی تیاری کی جارہی ہے بعض ممالک بدستور سکولوں کی بندش اور تعلیمی تعطل ہی کو ترجیح دے رہے ہیں جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ایک چوتھائی ممالک میں سکول سسٹم انتہائی تباہی کے دہانے پر ہیں ۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کووڈ وبا کے دوران ڈیڑھ ارب بچے سکول سے باہر تھے ‘ ایک تہائی تعداد کو فاصلاتی تعلیم تک رسائی نہیں کووڈ 19 سے سکول بند ہونے کے نتیجے میں سب سے زیادہ غریب بچوں نے نقصان اٹھایا ہے کووڈ 19ان عوامل میں سے ایک ہے تعلیم اور بچوں کی زندگی آج اور کل خطرے میں ہے ۔ اس خوفناک تجربے سے سیکھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے یونیسف کے مطابق ترقی یافتہ دنیا میں کلاس روم آباد ہو گئے لیکن دنیا کے دیگر سولہ ممالک میں دس کروڑ سے زائد بچے کلاس روم سے باہر ہیں خدشہ ہے کہ ایک کروڑ ساتھ لاکھ بچے ہمیشہ کے لئے سکول چھوڑ گئے جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔یہ مفصل رپورٹ یقیناً ارباب حل وعقد کی نظر سے بھی گزری ہو گی جس کی روشنی میں سکولوں کی بندش میں مزید توسیع نہ کرنے اور حفاظتی تدابیر کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جانا چاہئے تاکہ بچوں کی تعلیم کا مزید حرج نہ ہو۔