Shazray

افغانستان کی صورتحال پراعلیٰ سطحی مشاورت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم جوزف برنس نے ملاقات کی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں خطے کی سکیورٹی اور افغانستان کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے پرعزم ہے جبکہ سی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار اور انخلا کے اقدامات کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی حکام کی جانب سے اعادہ کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن سے متعلق تعاون کے لیے پرعزم ہے۔خیال رہے کہ سی آئی اے کے سربراہ اس سے قبل حالیہ دنوں میں افغانستان اور بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔امر واقع یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء سے طالبان کی عبوری حکومت کے قیام تک کے حالات تو گزر گئے اب افغانستان میں استحکام امن اور افغانستان کے عوام کی دستگیری کا مشکل ترین عمل شروع ہوا ہے فوجی انخلاء کے باوجود اب بھی افغانستان میں موجود بعض عناصر سے قیام امن کوخطرات لاحق ہیںاس ساری صورتحال میں عالمی برادری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان حکومت سے الجھے بغیر طالبان قیادت کو اعتدال اور ان مطالبات پر عملدرآمد کے لئے قائل کرے جس کا تقاضا ان سے ہو رہا ہے اور طالبان قیادت ان مطالبات کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکی ہے اس ضمن میں امریکا اور پاکستان کا نمایاں کردار فطری امر ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک کا تعاون بھی اہم ہے اس حوالے سے امریکی عہدیداروں کا دورہ اور ملاقاتیں اہمیت کی حامل ہیں۔نئی افغان قیادت کے سامنے چیلنجز بھی ہیں اوراسے پیچیدہ مسائل بھی درپیش ہیں ہم سمجھتے ہیں طالبان حکومت کو یہ امر بطور خاص مدنظر رکھنا ہوگا کہ عالمی برادری اور اس کے پڑوسی ممالک ان سے یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ دوحا معاہدہ کے مطابق ایسا پرامن افغانستان یقینی بنائیں گے جو خوفناک ماضی سے محفوظ ہو اور وحدت ملی کے جذبہ سے آگے بڑھے۔ طالبان کو ماضی کی طرح پڑوسی ملکوں میں اپنے ہم خیالوں کی سرپرستی سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ فوری طورپر داعش سمیت ان تمام تنظیموں کے مراکز ختم کرنا ہوں گے جو ایک طویل عرصہ سے افغان سرزمین کو پڑوسیوں کے خلاف استعمال کرتے رہی ہیں۔مختصرا یہ کہ افغان تاریخ کا نیا دور درحقیقت طالبان کے امتحان کا دور ہے۔ قومی اتفاق رائے، تعمیروترقی، سماجی وحدت، انصاف اور روزگار کی فراہمی، محفوظ سرحدیں اور دنیا سے مساوی بنیادوں پر تعلقات آج کے افغانستان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ افغانستان میں ماضی کو دہرانے کی بجائے شعوری طور پر آگے بڑھنے اور عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ افغان عوام کو 40سالہ بدامنی اور دوسرے مسائل سے دائمی طور پر نجات مل سکے۔ان معاملات میں استقامت کے لئے طالبان حکومت کوجس عالمی امداد اور تعاون کی ضرورت ہو گی اسے پورا کرنے میں تمام ممالک کو سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
سیاسی جماعتوں کا دوہرا چہرہ
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ استعفوں کا آپشن پی ڈی ایم کے اعلامیہ میں موجود تھا، پیپلزپارٹی ہماری بات مانتی تو آج یہ حکومت ختم ہوچکی ہوتی اور آج الیکشن بھی ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ نوٹس میں ہے مگر ہم کوئی محاذ نہیں کھولنا چاہتے، ان دنوں میڈیا میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کا جو سلسلہ چل رہا ہے اس میں صحیح اور غلط سے ہٹ کر یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ملکی سیاسی جماعتیں اور اسٹیلشمنٹ کے درمیان پس پردہ اور درون خانہ روابط معمول کی بات ہے سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں راست طور پر حکومت کے خاتمے کے لئے جمہوری سوچ رکھتی ہیں اور جمہوری طرز عمل اپنانے کا ارادہ ہے تو پھر اس پس پردہ پیغام رسانی اور سودے بازی کی ضرورت ہی کیا ہے اس سے یہ بات بہر حال اب ثابت ہو گئی ہے کہ ملک میں حصول اقتدار کے لئے ہر سیاسی جماعت کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے یا پھر اسے سمجھوتے پر مجبور کیا جاتا ہے جب تک تمام سیاسی جماعتیں اس واحد نکتے پر اتفاق نہیں کرتیں اور بظاہر کچھ اور باطن کچھ اورکردار ادا کرتی رہیں گی ملک میں جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے مضبوط ہونے اور عوام کے ووٹوں کی اکثریت سے حکومت کا حصول خواب ہی رہے گا سیاسی جماعتوں کو اپنے رویہ اور کردار و عمل کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینا چاہئے اور دوسروں کو مطعون کرنے کی بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔
نامناسب پیشکش
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ افغانستان کے معمولات چلانے کیلئے پاکستان سے لوگوں کو بھیجا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کے سینٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اس طرح کی پیشکش موجودہ حالات میں شکوک و شبہات کا باعث امر بن سکتا ہے ہمسایہ ممالک کو امداد کی پیشکش میں برائی نہیں لیکن اگر افغان حکومت اس حوالے سے حکومت پاکستان سے رابطہ کرتی تو زیادہ موزوں ہوتا بہتر ہو گا کہ ماضی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے اور خواہ مخواہ کی بحث چھیڑنے سے اجتناب کیا جائے۔