Mashriqyat

مشرقیات

حضرت عمر بن خطاب خلافت سنبھالنے کے بعد جب بیت المال میں آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ: ” حضرت ابو بکر کیا کیا کرتے تھے؟” تو لوگوں نے بتایا کہ : ” وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لے کر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے!” آپ نے پوچھا کہ کہاں جاتے تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نہیں پتا’ بس اس طرف کو نکل جاتے تھے! آپ نے کھانے کا سامان لیا اور اس طرف کو نکل گئے لوگوں سے پوچھتے ہوئے کہ:حضرت ابو بکر کس جگہ جاتے تھے۔ پتہ چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے’ وہاں جا کردیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اور اس کے منہ پر پھالکے بنے ہوئے ہیں’ اس نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے غصے میں بولا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھے تم؟ آپ خاموش رہے اور اس کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اس نے غصے سے کہا کہ:
کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول گئے ہو؟آپ نے جب یہ سنا تو رونے لگے اور اسے بتایا کہ: میں عمر ہوں اور جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابو بکر تھے اور وفات پا چکے ہیں!
جب اس بوڑھے نے یہ بات سنی تو کھڑا ہوگیا اور کہا کہ: اے عمر مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیں۔
پچھلے دو سال سے وہ آدمی روز میرے پاس آتا اور کھانا کھلاتا رہا’ ایک دن بھی اس نے مجھے نہیں بتایا کہ میں کون ہوں!ایسے اچھے اخلاق والے تھے سیدنا ابوبکر۔ اور ایسے ہی اچھے اخلاق کاد رس دیتا ہے ہمیں ہمارا یہ دین اسلام۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے اخلاق پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے!حضرت یوسف بن مہران فرماتے ہیں کہ مجھے کوفہ کے ایک آدمی عبدالرحمن نے یہ حدیث بیان کی کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عرش کے نیچے مرغ کی شکل میں ایک فرشتہ ہے’ اس کے پنجے موتی کے ہیں’ اس کا خار سبز زبر جد کا ہے’ جب رات کی پہلی تہائی گزرتی ہے تو وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑاتا اور چہچہاتا ہے اور کہتا ہے کہ رات میں عبادت کرنے والے نمازیوں (یعنی تہجد گزاروں) کو کھڑے ہوجانا چاہئے۔
جب فجر طلوع ہوتی ہے تو اپنے پر پھڑ پھڑاتا اور چہچہاتا ہے اور کہتا ہے بیدار ہونے والوں کو بیدار ہوجانا چاہئے’ اب ان کی غلطیاں انہیں کے ذمہ ہوں گی۔
(ابو الشیخ’ 530′ لالی مصنوعہ
1/62 الودیک للسیوطی ص5.6)