بقا اسی کو توکہتے ہیں

تحریک آزادی کشمیر کے معروف حریت رہنما سید علی گیلانی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس عالم آب و گل کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ انسان مرتے ہیں لیکن باکمال لوگوں کی صفات و کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جسمانی وجود بھلے فنا ہو جائے لیکن انکی عظمت کے آثار زندہ رہتے ہیں جن کی تابناکی باقی انسانیت کے لیے رہتی دنیا تک مشعل راہ ثابت ہوتی ہے۔ علی گیلانی بھی کیا عجب آزاد مرد تھے جو ذاتی نفع و نقصان سے بالاتر لگ بھگ پانچ دھائیوں تک بھارتی فسطائیت کے سامنے ڈٹے رہے۔ انہوں نے نظریاتی تحرک کی اعلی مثال قائم کی اور کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی قانونی اور آئینی جدوجہد کو جاری رکھا۔ اگرچہ علی گیلانی نے اپنی عمر کی تقریبا ایک دہائی قید و بند کی سختیاں برداشت کیں لیکن کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے متعلق اپنے اصولی موقف سے ذرہ برابر انحراف گوارہ نہیں کیا۔
سید علی گیلانی طویل عرصے تک کشمیر میں دو درجن سے زائد ہندوستان مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ رہے۔2003میں نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات اور جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی حمایت کے معاملے پر علی گیلانی نے میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی دوسرے قائدین پر اہداف سے انحراف کا الزام عائد کیا۔ یہ تنازع کئی ماہ تک جاری رہا یہاں تک کہ بعد میں حریت کے بعض قائدین نے علی گیلانی کو حریت کانفرنس کا چیئرمین منتخب کیا۔ اِس طرح حریت کانفرنس دو دھڑوں میں بٹ گئی تاہم علی گیلانی نے بھارتی اِستعماریت کے خلاف تا حیات نبرد آزما رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے فورم کی تمام اِکائیوں کو لکھے گئے ایک خط میں اپنے عزم کا اظہار اِسطرح کیا: "نہ تو میرے قلب و ذھن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جزبہ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے۔ اس دیار فانی سے رحلت تک میں بھارتی اِستعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسب اِستداعت ادا کرتا رہوں گا۔
حریتِ فکر عملاً اصولوں کی پاسداری کا دوسرا نام ہے۔ علی گیلانی اپنی سیاسی جدوجہد کے آخری سالوں میں بالخصوص شاکی رہے کہ فورم کی ناقص کارکردگی اور انتظامی و مالی بے ضابطگیوں کو اکثر و بیشتر تحریک کے وسیع تر مفاد کے لبادے میں نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ ان کے نزدیک تحریک کی غیر فعالیت کی اصل وجہ سیاسی قیادت کا منافقانہ طرز عمل تھا چنانچہ فورم کی اکائیوں سے اپنے
خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ”مستقبل کے لائحہ عمل اور موجودہ حالات میں قوم کی رہنمائی کرنے میں میری صحت اور نہ ہی ایک دہائی کی حراست کبھی میرے راستے میں حائل ہوئی۔ آج جب آپ کے سروں پر احتساب کی تلوار لٹکنے لگی ۔ تو وبائی ہلاکت خیزی اور سرکاری بندشوں کے باوجود آپ لوگ نام نہاد شوریٰ اجلاس منعقد کرنے کے لیے جمع ہوئے اور اپنے نمائندوں کے غیر آئینی فیصلے کی حمایت اور تصدیق کرتے ہوئے یکجہتی اور یکسوئی کی انوکھی مثال قائم کی۔ نہ صرف یہ بلکہ اپنے اِس ڈرامے کو آپ لوگوں نے اپنے پسندیدہ نشریاتی اداروں کے ذریعے تشہیر دے کر انہیں بھی اس گناہ بے لذت میں شریک کیا۔
سید علی گیلانی کی سیاسی جدو جہد کا واحد مقصد اپنے لوگوں کو حریت ضمیر کے ساتھ جینے کی ترغیب دلانا تھا۔ حریت فکر و عمل ہی وہ انمول متاع ہے جو انسانی قلب و روح کو لازوال مسرت سے ہمکنار کرتی ہے۔ اِس کے برعکس کاسہ لیسی اور غلامی کا لبادہ اوڑھنے والے دنیا کی تضحیک اور رسوائی کا نشانہ بنتے بنتے آخر کار خود اپنی ہی نظروں میں گِر جاتے ہیں۔ غلام گردش میں جکڑے لوگوں کے لیے ناکامی و نامرادی ہی نوشتہ تقدیر ہے۔ اِس کے برعکس فسطائی جبر کو مسترد کرتے ہوئے اپنی آزادی، عزت اور وقار کے لیے کوشاں رہنا ہمیشہ سے حریتِ فکر کے مجاہدوں کا نصب العین رہا ہے۔ بادِ ِمخالف کے تندوتیز تھپیڑوں میں بھی مردانِ حر کی زبان انکے دل کی ہمنوائی کرتی ہے۔ جبر و اِستبداد کے مقابلے میں حریتِ فکر ایک مستقل تاریخی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا سیلِ رواں ہے جسے اِستبداد کے ہتھکنڈوں کے ذریعے مقید نہیں کیا جا سکتا۔ صاحبِ حریت ایک عجب آزاد مرد ہے جو صرف اور صرف صداقت کا پرچار کرتا ہے اور جس کے ریشے ریشے میں انسانیت کے وقار اور سربلندی کی خاطر جان کی بازی لگانے کا جزبہ سرایت کر جاتا ہے۔ بقول احمد ندیم قاسمی:
بقا اسی کو تو کہتے ہیں، جب کوئی اِنساں
برائے عظمت انسانیت فنا ہو جائے
مرض ہی حریتِ فکر کا کچھ ایسا ہے
کہ جو بھی فکر کرے اِس میں مبتلا ہو جائے۔