جب کشمیر پر پاکستان اور امریکہ کے راستے جدا ہوئے

آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر محمد عامر نے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ1988میں انہوںنے ایک ایسا منصوبہ طشت ازبام کیا تھا جس کو امریکی سی آئی اے کی سرپرستی تھی اور عالمی ادارہ صحت یونیسف کے اسلام آباد میں متعین اہلکار اس منصوبے پر عمل درآمد کررہے تھے ۔بظاہر یونیسف کے یہ اہلکار سی آئی اے کے اہلکار تھے اور یہ نیٹ ورک بیلجیم تک پھیلا ہوا تھا ۔اس منصوبے کے تحت آزادومقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک خود مختار ریاست قائم کی جانی تھی ۔میجر عامر کے مطابق اس کشمیر کی آزاد ریاست کے قیام کے منصوبے کے تین مقاصد تھے جن میں پہلا مقصد چین کو گوادرتک رسائی سے روکنا اور محدود کرنا تھا ۔پاکستان کا سائز کم کرنا اور چین اور روس پر نظر رکھنے کے لئے ایک مناسب ٹھکانہ رکھنا تھا ۔میجر عامر کے مطابق اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے آئی ایس آئی نے'' آپریشن وائٹ سنیک ''کیا اور تمام دستاویزی ثبوت صدر غلام اسحاق خان کو پیش کئے ۔اسحاق خان نے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کو طلب کر کے شکایت کی تو یوں لگا کہ رابرٹ اوکلے اس منصوبے سے آگاہ تھے انہوںنے غلام اسحاق خان سے اس معاملے کو دبانے کی درخواست کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو یہاں سے نکال دیا۔میجر عامر کے اس انکشاف نے اسی کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ افغانستان میں مشترکہ پروجیکٹ چلا رہے تھے کے حوالے سے کئی نئے سوالا ت کھڑے کئے کہ کیا افغانستان کی طرح کشمیر میں بھی ایسی کسی مشترکہ مہم شروع کرنے پر دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان کوئی خاموش اتفاق ہوچکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارت سوویت یونین کا پرجوش ساتھی ہونے کی وجہ سے امریکہ کی گڈ بک میں نہیں تھا ۔1988وہی سال تھا جب کشمیر میں پہلی مسلح کارروائی کا آغاز ہوا اور کشمیری نوجوانوں کے کئی گروپس عسکری تربیت کے لئے افغانستان کا رخ کرنا شروع ہوئے تھے۔ 31 جولائی 1988کو سری نگر کے سینٹرل ٹیلی گراف آفس پر پہ در پہ بم دھماکوں نے عسکری تحریک کے آثار نمایاں کئے تھے ۔اس کے ٹھیک سترہ دن بعد جنرل ضیاء الحق کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا اور اس طیارے میں امریکی سفیر بھی مارے گئے تھے۔اس حادثے کے زیادہ تر ثبوت امریکہ کی جانب ہی اشارہ کر رہے تھے۔عمومی طور پر سمجھا جا رہا تھا کہ سوویت یونین کی رخصتی کے اصولی فیصلے کے بعد امریکہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ افغانستان سے آگے دوستی جاری رکھنے پررضامند اور آمادہ نہیں تھے لیکن دوستی کا بوجھ اس قدر زیادہ بھاری بھی تھا کہ اسے یوں سرعام پٹخ ڈالنا ممکن بھی نہیں تھا۔میجر عامر نے اسلام آباد میں جو کشمیر کی آزاد ریاست قائم کرنے کا جو منصوبہ طشت ازبام کرنے کا دعویٰ کیا اس میں اور کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد میں کیا
ربط وتعلق تھا؟یہ بہت اہم سوال ہے۔میجر عامر نے جس منصوبے کو ناکام بنانے کی بات کی وہ جنرل ضیاء الحق کے بعد کا دور ہے کیونکہ منصوبے کی تفصیلات غلام اسحاق خان کو پیش کی گئیں۔اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو کشمیر میں مسلح جدوجہد سے دلچسپی تھی مگر جب جنرل ضیاء الحق کے حادثے میں امریکی ہاتھ کے شکوک پیدا ہوئے تو پاکستان اور امریکہ کے راستے الگ ہوگئے ۔پاکستان کی نئی حکومت نے سی آئی اے کے اہم کشمیر منصوبے کو لپیٹ کر معاملات اپنے ہاتھ میں لینا شروع کئے ۔کشمیر میں جو مسلح جدوجہد شروع ہوئی اس کی قیادت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے ہاتھ میں تھی اور لبریشن فرنٹ اعلانیہ طور پر کشمیر کی آزاد وسیکولر ریاست کی علمبردار تھی ۔اس دور میں کشمیر کی مسلح جدوجہد کا آغاز کرنے والے اکثر کردار اس دنیا سے اُٹھ چکے ہیں مگر امریکہ میں مقیم کشمیر میں کئی حالات واقعات کے چشم دید گواہ اور لبریشن فرنٹ کے سینئر ترین لیڈرراجہ محمد مظفر معدودے باخبر اور واقف حال لوگوں میں سے ہیں ۔میجر عامر کے انٹرویو کے بعد میںنے راجہ
مظفر سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپریشن وائٹ سنیک کے ذریعے ناکام بنائے جانے والے منصوبے اور لبریشن فرنٹ کے ذریعے شروع ہونے والی مسلح جدوجہد میں کیا کوئی ربط وتعلق تھا ۔امریکہ کی مصروف زندگی کے باجود راجہ مظفر نے بہت تفصیل اور تحمل سے ہر سوال کا جواب دیاان کے مطابق لبریشن فرنٹ کا سی آئی اسے سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں تھا ۔البتہ اسی کی دہائی کے وسط میں ایک روز لبریشن فرنٹ کے راولپنڈی میں مقیم لیڈ ر ڈاکٹر فاروق حیدر کی گولف کلب میں جنرل اختر عبدالرحمان سے ملاقات ہوئی ۔جنرل اختر عبدالرحمان نے گنگا ہائی جیکنگ کیس میں شاہی قلعہ لاہور کے تشدد اور ماضی میں فرنٹ کی قیادت سے روا رکھے جانے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے لوگ اس وقت مشرقی پاکستان میں ذہنی طور پر پھنسے ہوئے تھے اس لئے وہ معاملات کو پوری طرح سمجھ نہ سکے۔اب ایک نئے باب کا آغاز کیا جانا چاہئے۔راجہ مظفر کے مطابق لبریشن فرنٹ نے اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے یہ پیشکش قبول کی۔اس منصوبے کو امریکہ کی کتنی حمایت حاصل تھی ۔راجہ مظفر اس سے لاعلم ہیں البتہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ضیاء الحق اور اختر عبدالرحمان کے ساتھ کوئی انڈر سٹینڈنگ ہوئی مگر ان کی پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ماضی میں کئی مواقع بھارت کی طرف سے کئی بار پاکستان اور امریکہ پر کشمیر کی آزاد ریاست کے قیام کی سازش کے الزام عائد کرتا رہا ہے۔شیخ عبداللہ کی پہلی گرفتاری بھی اس الزام کے تحت ہوئی تھی کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے ساتھ مل کر اعلان آزادی کرنے والے تھے۔اسی اورنوے کی دہائی کے اوائل تک امریکہ کی دلچسپیاں اس حوالے واضح نظر آتی تھیں ۔بھارت میں بھی اس منصوبے کی حمایت میں اچھا خاصا ذہن تیار کیا گیا تھا جن میں جسٹس وی ایم تارکنڈے ،اندر موہن اور مینو میسانی جیسے بااثر دانشور شامل تھے۔ظاہر ہے کہ پاکستا ن اور امریکہ کے راستے بداعتمادی کا شکار ہو کر جدا ہو چکے تھے اور ضیاء الحق کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کاغذوں میں کہیں در ج نہیں تھی اس لئے یہ منصوبہ لپیٹ دیا گیا۔