اس پر تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

کیا کریں ‘ اب تو آنسو ہی خشک ہوگئے ہیں ‘ نہ ہی شاعر کو اس صورتحال کا اندازہ ہوا ہو گا جب اس نے یہ کہا تھا کہ
رونے پہ جوآجائیں تو دریا ہی بہادیں
شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا
دراصل یہ بھی ایک قسم کی شاعرانہ تعلی ہی ہے کہ اپنی فریاد او رنالہ وشیون کو اس قدر بلند مقام کا خوگر بنا کر رکھ دیا ‘ بہرحال مسئلہ رونے رلانے کا ہے اور یہ رونا تو ہم آج سے نہیں کئی دہائیوں سے خصوصاً گرمی کے موسم میں تقریباً ہر سال روتے رہے ہیں ‘ کیونکہ جس بات پر حال ہی میں کچھ دوسرے علاقوں میں دہائی مچی ہوئی ہے یعنی بجلی کے بلوں میں خرچ شدہ یونٹوں کا اندراج 30دن کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخباری اطلاات کے مطابق 37/36 دنوں کی ریڈنگ کی بنیاد پر کرکے زیادہ رقوم کے بل بھیجے جارہے ہیں جس کی وجہ سے رقم بڑھ جاتی ہے ‘ اور جس کا بالآخر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے نوٹس لیکر وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے ‘ یہ واردات خیبر پختونخوا میں عام تھی بلکہ اب بھی بعض علاقوں میں ایسا ہونے کی اطلاعات آجاتی ہیں ‘ تاہم طریقہ واردات میں بس اتنا فرق ہے کہ بجلی چوری کے الزامات کے تحت بجلی چوروں کو تو کچھ نہیں کہا جاتا تھا اور سارا زور شریف لوگوں کے بلوں میں اضافی یونٹ ڈال کر ان سے زور زبردستی وصولی کی جاتی تھی ‘ خود ہم اپنے تلخ تجربات اس سلسلے میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں بلکہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے کے مصداق ہر سال گرمی کے دنوں میں اضافی بلوں کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اسی طرح متعلقہ سب ڈویژنوں میں اضافی بلوں کی درستی کے لئے عوام کے جم غفیر بھی دیکھے جاتے تھے ‘ جن کو متعلقہ عملہ یہ کہہ کر ٹرخا دیتا تھا کہ آپ بل کی ادائیگی کیجئے ‘ آگلے مہینے درست کر دیا جائے گا ‘ یعنی بقول شاعر
ایک تو خواب لئے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
کنڈا کلچر کی وجہ سے ہر سب ڈویژن میں جو”اضافی” بجلی استعمال ہوتی ہے ‘ اس کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے ”اوپر سے دبائو” کی وجہ سے ایس ڈی اوز مجبور تھے کہ شریف لوگوں کے بلوں میں اضافی یونٹ ڈال کر اپنے اپنے علاقے سے پیسکو کو پوری آمدن فراہم کر دیں ‘ فریاد لیکر جانے والوں کو ٹرخالوجی کے فارمولے کے تحت بجلی کاٹنے کی دھمکی دے کر بل کی ادائیگی پر دبائو میں لایا جاتا ‘ کوئی زیادہ فریاد کرتا تو بل کو دو یا تین قسطوں میں کرکے ادائیگی کی ہدایت کی جاتی یعنی پر نالہ وہیں کا وہیں رہتا ‘ اور کوئی زیادہ ڈھیٹ واقع ہوتا یہ پھر کہیں سے تگڑی سفارش لاتا تو اگلے ماہ بل کی درستی کا کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ‘ اس ضمن میں خود کئی بار ہم نے متعلقہ ایس ڈی او کے ساتھ اس منطقی استدلال پر بحث کی کہ اگلے مہینے جو یونٹ آپ کم کریں گے وہ تو ابتدائی سلیب کے نرخوں کے تحت ہوں گے جبکہ آپ ہم سے آخری سلیب کے تحت زیادہ کی وصول کر رہے ہیں ‘ یوں بڑی مشکل سے درمیان کا کوئی راستہ نکالتے ہوئے نیا بل بنا کر دیا جاتا تو اس میں بھی کسی نہ کسی حد تک ڈنڈی ماری جاتی اور اس طرح عوام کی جیبوں پر ”قانونی ڈاکہ زنی” کی یہ وارداتیں پنجاب اور دیگر کچھ علاقوں کے عوام سے کی جارہی ہیں تو شور مچنا بھی شروع ہو گیا ہے اور پارلیمنٹ کے پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اس کا نوٹس لیکر آڈیٹر جنرل سے معاملے کی رپورٹ کرنے کو کہہ دیا گیا ہے ‘ حالانکہ خیبر پختونخوا میں کئی دہائیوں سے اس قسم کی ناجائز وصولیوں پر نہ تو کسی کو فکر لاحق ہوئی ہے نہ کسی نے آواز اٹھائی ہے ‘ رہ گئے یہاں کے عوام تو ان کی مثال تو اس یتیم کی سی ہے جس کے بارے میں پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ یتیم رونے کا عادی ہوتا ہے ‘ سو ان زیادتیوں کے طفیل ہم اگر روتے بھی رہے تو کونسا کسی کے ماتھے پر کبھی بل آیا مگر جیسے ہی بڑے صوبے میں واپڈا والوں نے یہ واردات ڈالی تو ا نہیں فیض احمد فیض یاد آگیا جس نے کہا تھا ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘ بول زباں اب تک تیری ہے ” پھر پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی جاگ اٹھی ہے اور آڈیٹر جنرل کو بھی جھنجوڑ ڈالا گیا ہے ‘ ہمارے صوبے پر تو کھلم کھلا یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ یہ بجلی چور ہیں اس لئے ان کو لوڈ شیڈنگ کے ذریعے سزا بھی دواور ان سے زیادہ بل بھی وصول کرو۔اس دوہری سزا کے خلاف ہم صرف رونے پرہی اکتفا کر سکتے تھے کیونکہ ہمارے عوامی نمائندوں کے پاس اتنا فالتو وقت تھا نہ ہے کہ اس طرف توجہ دیں یا زبان ہلا سکیں ‘ ان کے مفادات کچھ اور ہیں اور عوام کے پاس تو وہ صرف پانچ سال(اگر پورے ہوسکیں) میں صرف ایک بار جا کر ووٹ کی”بھیک” مانگنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ‘ اس کے بعد تو کون اور میں کون؟ اسی لئے تو عوام یتیموں کی طرح رونے پر مجبور وہتے ہیں ‘ حالانکہ نوابزادہ نصر اللہ خان نے یہ بھی تو کہا تھا کہ
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے
ویسے بعض علاقوں میں جب سے بجلی بلوں پر میٹر ریڈنگ کی تصاویر دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تب سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ اضافی یونٹ بلوں میں شامل نہیں کئے جارہے ‘ اگرچہ یہ اس بات کی ضمانت بھی نہیں ہے کہ جو میٹر ریڈنگ ظاہر کی جارہی ہے وہ واقعی مہینے کے حساب ہے ‘ لیکن اس سے کنڈہ کلچر کیسے قابو کیا جا سکے گا اور ان بجلی چوروں کی وجہ سے باقاعدگی کے ساتھ بل ادا کرنے والوں پر پڑنے والی افتاد کیسے روکی جا سکے گی ‘ یعنی آپ نے ایڈوانس ہی میں بجلی کی قیمت ادا کر رکھی ہے مگر بجلی چوری کی واردتوں کی وجہ سے آپ کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ کا اثر پھر بھی آپ پر پڑے گا تو کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟ یا پھر باقاعدگی کے ساتھ بل ادا کرنے والے پھربھی دل کے ٹکڑے بغل بیچ ہی لئے پھرتے رہیں گے ۔ اور بقول پیرزادہ قاسم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ
شہر اگر طلب کرے تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو ‘ آگ لگا دیا کرو