بورڈ آف گورنرزاور کالجز

ہر ملک کا عروج و زوال کا نحصار اس قوم کی نظام تعلیم اور معیار تعلیم پر ہے جس ملک کی قوم تعلیم یافتہ اور محنت کش ہو تو وہ ملک ضرور ترقی یافتہ ہوگا۔ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ بہترین نظام تعلیم کا فقدان ہے مختلف نصاب تعلیم رائج ہے نصاب جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے نصاب تعلیم مادری زبانوں میں نہیں۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔امتحانی نظام شفاف نہیں ہے جس میں نقل اور پرچے اپنے وقت سے پہلے اوٹ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔کالجز اساتذہ کے تبادلوں میں انصاف نہیں۔ بعض پرکشش کالجز میں سر پلس اساتذہ موجود ہیں لیکن غیر پرکشش کالجز میں بعض سبجیکٹس میں سنگل ٹیچر بھی نہیں ہوتا حالانکہ اس کا نظام ڈائریکٹ اور سیکرٹریٹ ہائر ایجوکیشن چلا رہا ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین اور آفیسرز کام کر رہے ہیں پھر بھی میرٹ پر فیصلے نہیں ہوتے۔ہر چیز کے لئے حکومت کی طرف سے واضح قوانین موجود ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا قانون کا احترام نہ کرنے والوں کو سزا نہیں دی جاتی۔ ان وجوہات کی وجہ سے ہم تعلیمی ترقی سے محروم ہیں یکساں نصاب تعلیم اور ادارے نہ ہونے کی وجہ سے مختلف طبقاتی ذہن کے افراد تیار ہو رہے ہیں حکومتی اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز افراد اعلی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں پھر وہ افراد پالیسیاں بناتے ہیں جس میں غریب لوگ کا خیال نہیں رکھا جاتا ان تمام مسائل کا حل ضروری ہے لیکن حکومت مزید مسائل پیدا کررہی ہے آج کل خیبرپختونخوا حکومت گورنمنٹ کالجز کو بی او جی کے تحت لانے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے اس پر باقاعدہ کام شروع کیا گیا ہے سب سے پہلا تجربہ جہانزیب کالج سوات پر کیا جارہا ہے حالانکہ بی او جی(بورڈ آف گورنرز)کو لاگو کرنا عوام کے مفاد میں نہیں اس سے غریب طلبا، اساتذہ اور دیگر ملازمین متاثر ہوں گے۔ کالجز میں بی ایس پڑھنے والے طلبا جو ہر سمسٹر تقریبا چار ہزار فیس میں پڑھتے ہیں بی او جی کے بعد وہ کم از کم پچاس ہزار میں پڑھیں گے ۔
گورنمنٹ کالجز میں ایسے غریب طلبا پڑھتے ہیں کہ وہ اپنے لئے نئے کپڑے، جوتے اور کتابیں تک خرید نہیں سکتے۔
اس ملک میں کوئی بھی فرد ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام نہیں کرتا بلکہ ہر شخص کی کوشش ہے کہ بس ملک کے خزانے اس کے ذاتی استعمال میں آئیں ہر ادارے میں پالیسی ساز جو پالیسیاں بناتے ہیں وہ عوام کے مفاد میں نہیں ہوتے بلکہ خاص افراد اس سے مستفید ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تعلیمی ادارے روز بروز زوال کی طرف جارہے ہیں ان کی پالیسیوں میں بہت نقائص پائی جاتی ہیں ۔ اب گورنمنٹ کالجز میں مفت تعلیم طلبہ حاصل کررہے
ہیں بی او جی ہونے کی صورت میں طلبہ ان اداروں میں زیادہ فیس ادا کر یں گے جو غریب طلبا کے بس سے باہر ہو گی اور ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر ادارہ اپنا بجٹ خود پیدا کرے لیکن یاد رہے ہر ادارہ منافع کے لئے نہیں بلکہ بعض اداروں پر حکومت اپنے بجٹ کی خطیر رقم خرچ کرتی ہے اور وہ ادارے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے جاتے ہیں تاہم اگر وہی ادارے لوگوں کا خون چوسیں تو یہ
حکومت کے لئے اچھی بات نہیں۔ حکومت ہر ادارہ
عوام کے ٹیکس سے چلاتا ہے تن خواہیں ٹیکس سے ادا ہوتی ہیں سوال یہ ہے کہ اگر ہر ادارہ اپنا پیسہ خود کمائے تو پھر عوام سے بجلی بل،گیس بل،ادویات ،موبائل کارڈ، صابن ،شیمپو،اور دیگر ضروریات زندگی میں لیا گیا ٹیکس کہاں جارہاہے؟ یاد ماضی کے حوالے سے ایک اہم یاد دہانی یہ کہ حکومت وقت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وزیر اعظم ہائوس،گورنر ہائوس،اور وزیر اعلیٰ ہائوس میں عوام کے لئے یونیورسٹیاں بنیں گی تو کہاں گئے وہ وعدے؟ یہ وہ سوالات ہیں جسے حل کرنا ہر ذی شعور آدمی کے بس کاکام نہیں ہے حکومتوں کی غلط پالیسوں اور بی او جی کی وجہ سے منافع بخش ادارے بھی نقصان کی طرف چلے گئے ۔ خیبرپختونخوا پروفیسرز لیکچررز کے زیر اہتمام مختلف کالجز نے جہانزیب کالج سوات کو بی او جی میں دینے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔اس سلسلے میں مٹہ سوات میں وزیراعلی محمود خان صاحب کے گھر کے سامنے بھی ایک بڑا احتجاج ہوا جس میں ملاکنڈ ڈویژن کے پروفیسرز ولیکچررز شریک ہوئے ۔ ان سب ملازمین نے بی او جی کے خلاف نعرے بازی کی ۔ ان احتجاجوں میں کپلا کے مختلف عہدا داروں نے تمام کالجز کو پیغام دیا کہ جب تک حکومت بی او جی کا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو صوبے کے تمام کالجز میں کلاسز سے بائی کاٹ ہوگا۔ ان خبروں کو تمام اخبارات، سوشل میڈیا اور خصوصا روزنامہ مشرق نے بہت کوریج دی۔
لہٰذاحکومت کو چاہئے کہ جہانزیب کالج اور دوسرے کالجز میں بی او جی دینے سے اجتناب کرے طلبا ، اساتذہ اور دیگر عملے کی ذہنی پریشانی دور کی جائے ۔ کئی روز سے کالجز اساتذہ احتجاج پر ہیں حکومت کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ الحمد للہ کالجز میں تعلیمی نظام بہترین طریقے سے چل رہا ہے صوبائی حکومت کالجز کی کار کردگیاں کو چیک کرے کہ وہ کم وسائل سے کتنے بچوں کو بہترین تعلیم دے رہے ہیں کتنے طلبا وطالبات میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کو چلے جاتے ہیں۔