کیا افغانستان شام بن جا ئے گا

افغانستان سے متضادات ومتفرقات اقسام کی خبریں ادھیڑی جا رہی ہیں ، حالا ت کا ادراک نہیں کیا جا رہا ہے تقاضوں کونظر انداز کیا جارہا ہے خواہشات کے انبار لگادئیے گئے ہیں ،ہر کوئی صورت حال کو اپنے تابع کرنے کے درپے نظر آرہا ہے ۔ بے یقینی کی سی کیفیت ہے ، افغانستان کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ قندھا ر کے پولیس چیف نے اخباری نما ئندو ں کو بتایا ہے کہ افغانستان میں امریکا کے کنٹرول کے خاتمے کے بعد سے قندھار میں پچانوے فی صد جرائم کم ہوگئے ہیں اگرچہ طالبان ابھی پوری طرح اقتدار سنبھالنے بھی نہیں پائے ہیں اسی طرح طالبان کے سابقہ دور میں پوست کی کا شت جو صفر فی صد تھی امریکا کے افغانستان میں گھس بیٹھنے سے سوفی صد ہوگئی تھی ، طالبان کے دوبارہ آجانے سے تیزی کے ساتھ کاشت کا گراف گرتا جارہا ہے ۔کیا ایر ان وضاحت کر سکتا ہے کہ اگر کوئی گروہ ایران کے کسی شہر ہی پر قبضہ جمالے تو کیا ایر انی حکومت قبضہ سجدہ ریز ہو کر چھڑائے گی ، طالبان نے تو مذاکرات بھی کئے مگر ان کو سبو تاژ کردیا گیا ، ایران نے اپنے پنچ شیریو ں سے کیو ں نہ کہا کہ وہ قلعہ بند ہو نے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئیں ، اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل انتونیوگوٹیرس نے عالمی برداری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والی تحریک طالبان کے ساتھ بات چیت کر ے ، ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات وقت کی ضرورت بھی ہے حالات کے سنبھاؤ پر وہ خود افغانستان جانے کو تیار بیٹھے ہیں دنیاکوخاص کر خود کو عالمی طاقت سمجھنے والے ملکو ں کو یہ بات ذہن میں رکھ لینا چاہیے کہ اگر افغانستا ن کو کسی بھی سازش کے ذریعے دیو ار سے لگانے کی سعی بد کی تو خطے میں بدامنی پھیل جانے کے امکا ن بھی پید ا ہوسکتے ہیں ، آج کے طالبان اور کل کے طالبان میں واضح فرق نظرآرہا ہے چنانچہ طالبان کو جھڑکنے کی بجائے گلے لگانے کی ضرورت ہے ۔ امریکی نژاد یہودی زبیلون نے افغانستان چھوڑ دیا ، افغانستان چھو ڑ تے وقت وہ اپنے بیس پڑوسی بھی ساتھ لے گیا اس کو بھی کوئی دشواری نہیں ہوئی زبیلون افغانستان میں قالین کا کا روبا ر کر تا تھا اور وہ واحد یہودی تھا جس نے افغانستان چھوڑنے سے انکار کردیا تھا ، جیسا کہ اس نے افغانستان سے نکل کربتایاکہ اس پر امریکی دباؤ بڑھتا جارہا تھا جس کے دباؤ سے اسے افغانستان چھو ڑنا پڑا ، اس نے بتایاکہ اس کو افغانستان میںکوئی ڈر ، خوف اور خدشہ نہیں تھا ۔ایسے ڈھیروں واقعات ہیںجس سے طالبان کے حسن سلوک کی نشاندہی ہوتی ہے اس کے باوجو د طالبان کے خلا ف ہزراہ سرائی کیو ں کی جارہی ہے ، ملالہ جیسی لڑکی کوبھی جو نکاح کرنے کے بھی خلا ف ہے اس کوبھی اقوام متحدہ جیسے ادارے میں طالبان کے خلاف بھڑاس نکالنے کے موقع فراہم کیا گیا ، ایران طالبان کی مخالفت میں اپنے گردے کیو ں لال کیے ہوئے ہے امریکا دومنہ بولی بول رہاہے کبھی طالبان کی تعریف کے قلابے باندھتا ہے تو کبھی پھنکا ر تا ہے ۔ پھر بھارت تو اپنا ایسا تھوبڑاسوجھائے ہوئے ہے جیسے طالبان نے اسے بھڑکتے ہوئے نرک میں دھکیل دیاہے ۔ بہرحال افغان امور سے اس وقت کسی ایک کا یارانہ نہیں ہے اس کی بھینٹ سب ہی چڑھیں گے اگر ہو ش و سمجھداری سے کام نہیں لیا گیا ، امریکا کو بیس سال کے سبق وامتحان سے بہت کچھ سیکھ جانا چاہیے تھا ، یہ حقیقت ہے کہ وہ آج ون ورلڈ آرڈر کا خاوند نہیں رہا ہے ، گو کہ اب بھی وہ ایک عالمی طاقت کی استعداد رکھتا ہے مگر اس میں تنہا نہیں ہے یہ امریکا ہی تھا جو طالبان کو کچلنے کے لئے داعش کو افغانستان لے آیا تھا طالبان نے ان کی آمد پرکھلے الفاظ میںکہہ دیاتھاکہ اگر ان کے علاقے میں قدم جما نے کی سعی کی گئی تو وہ داعش کا بینڈ بجا کررکھ دیں گے چنانچہ داعش والے چند علا قوں کے بلوں میں دبک کررہ گئے تھے پھر وہ کیسے کا بل ائیرپورٹ پہنچے ، جو وہا ںکیا اس میں ان کو کس کے استعانت حاصل رہی پھر امریکانے ان کے ٹھکا نو ں پر بمباری کر کے یہ اختیار کیو ں کر لے لیاکہ وہ اب داعش کے بندوں کو چن چن کر ماریں گے کہیں اس کا مقصد یہ تو نہیں کہ داعش کی آڑ میں اپنے عزائم کو حاصل کیا جائے ، بھارت طالبان سے دشمنی کی کیوںہو ک اٹھی ہوئی ہے کیا یہ سب قوتین طالبان مخالف تنظیموں کی انصار وحمایت میں ا س لئے تو نہیںکہ افغانستان کے اندر شور بپاہو جائے جیسا کہ شام کاحال کیا گیا ہے ویسا ہی حال افغانستان کا ہو کر رہ جائے ، چنانچہ سازشی چال کے ذریعے افغانستان کونہیں بلکہ طالبان حکومت کو تنہا کرنے کی بازی کھیلی جا رہی ہے ۔طالبان کو فتح یا ب ہوئے ابھی مہینہ بھی نہیں ہوا ہے افغانستان میں طالبان مخالف عنا صر کو مجتمع کرنے کی سعی جا ری ہے تاہم طالبان نے بھی کچی گولیا ں نہیں کھیلی ہیں انہو ں نے بھی اب تک کشمکش کی اس بساط پر کوئی ایسی چال نہیں چلی ہے کہ شہ پڑ جائے اس وقت چین ایشیا کو ایک پرامن خطہ بنانے کے لئے جو کردار اداکررہا ہے وہ بڑی عظیمت والا ہے ،ایک تو اس نے عملا ًیہ ثابت کردیا ہے کہ امریکا اب ون ورلڈ آرڈر کامختار کھو گیا ہے اب یہاں کی اصل طاقت وہ ہے جوعالمی سطح پر کوئی کردار ادا کرسکے چنانچہ چین نے یہ کر دار اپنے ہا تھ میں لے لیا ہے ، طاقت کاایک نیا بلا ک امریکا کی شکست سے از خو د وجود میں آچکا ہے وہ ہے چین ، روس ، ترکی اورپاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک جو اس کردار کا حصہ بنیں گے مگر افغانستان کو شام بنانے کا خواب اسی طرح چکنا چور ہوجائے گا جس طرح افغانستان میں گھس بیٹھنے کا تھا ۔