نائن الیون کے بیس سال

گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے حملوں کو بیس سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔یہ بیس برس اپنے اندر نفرت کشمکش اور انتقام کی ایک پوری تاریک رات لئے ہوئے ہیں ۔نفرت اور انتقام بھی ایسا کہ انسانیت اپنے مقام اور شرف انسانیت سے بہت نیچے اُتر کر فیصلے صادر کرتی ہوئی دیکھی گئی۔9/11کو امریکہ کے جڑواں میناروں سے اغواشدہ جہاز ٹکرائے گئے ۔یہ ایک خودکش مشن تھا جس نے امریکہ کی نخوت اور عالمی دبدبے کو خاک بنا کر اُڑاد یا۔مینار ہی زمین بوس نہیں ہوئے تین ہزار امریکی بھی آن ِ واحد میں لقمۂ اجل بنے ۔امریکی اخبارات نے اسے” ڈے آف ڈیفیمی ” یعنی ذلت کا دن بھی لکھا اور اسے پرل ہاربر پر جاپانیوں سے زیادہ خوفناک بھی قرار دیا ۔امریکہ نے اسے اپنی تہذیب اور اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ حملہ آور حقیقت میں ہماری ثقافت بدلنا چاہتے ہیں ۔یہ وہ نقطہ تھا جس نے پورے مغرب کو امریکہ کا ہم نوا بنا دیا انہیں اس بات سے خوف آتا ہے کہ کوئی بندوق کے زور پر ان سے آزادیاں چھین کر قیدی بنائے ۔ان آزادیوں کے لئے مغرب نے صدیوں جدوجہد کی ہے۔جب امریکی صدر بش نے نائن الیو ن کا تعلق آزادیاں چھیننے اور کلچر بدلنے کی سوچ سے جوڑا تو سفید فام فاشزم کو ایک نئی زندگی ملی اور لوگوں کو بش کی شکل میں ایک مسیحا مل گیا ۔اس پر مستزاد یہ کہ بش نے خود ہی ان جنگوں کو کروسیڈزیعنی صلیبی جنگوں سے تشبیہ دی ۔صلیبی جنگیں بھی مغرب کے ذہن وقلب میں ایک بھیانک یاد کے طور پر زندہ ہیں ۔نائن الیون سے بہت پہلے ہی یعنی سردجنگ کے اختتام پر امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے نام سے دنیا کی نئی تشکیل ِ نو کا اعلان کیا تھا او ر اس کا آغاز بھی عراق سے کر دیا گیا تھا جہاں صدام حسین کو ہلہ شیری دے کر پہلے کویت پر حملہ کر ایا جب صدام حسین جیسا انا پرست عرب کویت میں داخل ہو کر واپس نکلنے سے انکاری ہوا تو عراق پر جنگ مسلط کی گئی ۔مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے براہ راست اترنے کا پہلا مقام عراق بنا ۔امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر یک رنگی اور یک رخی دنیا کاجو خواب دیکھا تھا عراق سے اس کی تعبیر کا آغاز ہوا۔اس کے امریکہ کے فوجی مقاصد پھیلتے چلے گئے ۔عراق کے بعد سعودی عرب میں فوجی موجودگی بڑھتی چلی گئی ۔سعودی عرب کے علما اور قدامت پسند ذہن نے اس قیام کی مخالف کی ۔ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین اگر کویت سے نکل گئے ہیں تو اب یہ خطرہ باقی نہیں رہا تو امریکی فوجوں کو بھی سعودی عرب سے نکل جانا چاہئے ۔امریکہ کے مقاصد چونکہ طویل تھے اس لئے وہ اپنے قیام سعودی عرب کو مختصر کرنے پر تیار دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ایسے میں سعودی عرب نے ایک معاہدے کے تحت پاکستا ن سے بھی فوج منگوائی تھی تاکہ امریکی فوجیوں کے سعودی عرب میں رہنے کو جواز نہ رہے مگر امریکی ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے ۔یہ نفرت اسامہ بن لادن کو بھی متاثر کر رہی تھی جو افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف لڑنے کے بعد اپنا مشن ختم کرکے جا چکا تھا۔عرب دنیا میں امریکہ کے طویل المیعاد مقاصد اور فلسطین میں ہونے والی ظلم کے مناظر نے عرب نوجوانوں کو امریکہ کی مخالفت کی راہ پر ڈال دیا تھا۔افغانستان میں طالبان کی حکومت کے سائے تلے اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں نے اپنا ردعمل دکھانے کے طریقے سوچنا شروع کئے تھے۔امریکہ نے الزام عائد کیا کہ نائن الیون کے حملے افغانستان کے پہاڑوں میں ہونے والی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔نائن الیون کے حملوں نے امریکہ کو دنیا کی تشکیل نو کے ایجنڈے کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھانے کی راہ پر ڈال دیا اور یوں افغانستان اس ردعمل کا پہلا شکارہوا۔امریکہ نے ساٹھ دن کے بعد ہی افغانستان پر حملہ کرکے اپنی ساری ذلت اور نفرت کا انتقام لینے کا آغاز کیا ۔طالبان حکومت ختم ہو گئی اور پاکستان کو ڈرا دھمکا کر اس کام میں اپنے ساتھ شامل کر لیا ۔امریکہ کا خیال تھا کہ وہ ایک مسلمان ملک پر حملہ کرکے اس میں ایک ماڈل حکومت قائم کرے گا جس سے مسلمان کشش محسوس کریں گے ۔اس کے لئے کبھی ترکی کا نام لیا جاتا رہا تو کبھی عراق کی بات کی جاتی رہی مگر تان آکر افغانستان میں ٹوٹی ۔ یہاں تک کہ بیس سال بعد جب رات کی تاریکی میں امریکی فوج بگرام ائر بیس کو خالی کرگئے تو پیچھے رہ جانے والی بکھری ہوئی چیزیں ”تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ”کی عکاس تھیں۔صاف لگ رہا تھا امریکہ افغانستان کو مسلمان معاشروں کے لئے جمہوریت کے جس ماڈل کے طور پر تراشنا چاہتا تھا وہ موت کا کنواں ثابت ہوا ۔یونی پولر دنیا کے تصور کی ایک اور شکست کابل ائر پورٹ پر جہازوں کی طرف لپکتے لوگ تھے کہ بیس سال بعد لوگ اس جہنم سے فرار چاہتے تھے۔نائن الیون اور اس کے بعد کی بیس سالہ کہانی دنیا کی بڑی طاقتوں کے لئے سبق ہے کہ انہیں طاقت اور ڈنڈے کے زور پر اپنا وجود ،ثقافت اور نظریہ چھوٹی قوموں پر مسلط کرنے سے باز رہنا چاہئے ۔تنوع کائنات کا فطری حسن ہے اور اس حسن کو خراب کرنا فطرت سے جنگ قرار پاتا ہے۔