ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں

جوتیوں میں دال بٹنا محاورہ ہے ‘ مگران دنوں اپوزیشن جماعتوں کے مابین جودال بٹ رہی ہے وہ دال بھی کالی نظرآتی ہے ‘ وہ جو پی ڈی ایم نامی اکٹھ ابھی دو تین ماہ پہلے تک زندہ بھی تھی اور خاصی فعال بھی ‘ اب اسے خدا جانے کس کی نظر لگ گئی ہے ‘ ممکن ہے”سرکار” کی نظر نے کام دکھا دیا ہو اور کچھ ”مضبوط” حلقوں نے بھی کام دکھا دیا ہوجس کی وجہ سے بھان متی کے اس کنبے کی دیواروں میں شگاف پڑ چکے ہوں ‘ جبھی تو سینٹ کے انتخابات کے وقت سے یہ دیواریں لرزہ براندام ہو گئی تھیں ‘ اس کے بعد ان جماعتوں کی صفوں میں”انجمن کہنی ماران” فعال ہوئے اور اعتماد کی بنیادیں لرزہ براندام کرنے میں اپنا اپنا کردارادا کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد ایک دوسرے کو اس نام نہاد”اتحاد” سے نکال باہر کرنے کے لئے الزام تراشی شروع کر دی تھی۔سابق باتیں دہرانے تازہ حالات کی بات کی جائے جس کی ابتداء مولانا صاحب نے اپنے اس بیان سے کی کہ بلاول کو جو پیشکش ہوئی وہ ہمیںبھی ہوئی تھی مگر ہم نے مسترد کر دی تھی ‘ اس پر پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی رہنما نے ترنت اور تیکھا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں توکوئی آفر نہیں ہوئی ‘ مولانا صاحب کو ہوئی ہوگی۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ چند ماہ پہلے پی ڈی ایم کی صفوں میں جویکجہتی نظر آتی تھی اس سے حکومت اور طاقت کے اصل سر چشموں کی صفوںمیں بے چینی اور بے قراری بہت واضح بھی تھی اور تشویش کے سائے بھی لہراتے دکھائی دے رہے تھے مگراچانک کیا ہوا کہ ہرطرف ستے خیراں کا ماحول بنتا چلا گیا ‘ اور اب صورتحال یہ ہے کہ خود اپوزیشن میں تقسیم درتقسیم نظر آرہی ہے ‘ اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزامات نے ان جماعتوں کی ساکھ کو بری طرح مجروح کرنا شروع کر دیا ہے اور اب ایسا کوئی معجزہ بھی رونما ہونے والا نظر نہیں آتا جیسا کہ بھٹو دور میں ہوا تھا یعنی اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بھی اتحاد و اتفاق کی کوئی صورت دکھائی نہ دینے کی وجہ سے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹوں سے متاثر ہو کر بھٹو مرحوم نے وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کر دیا تھا تاکہ پہلے سے زیادہ قوت سے پارلیمنٹ میں آکر اپنی من مرضی کر سکے ‘ مگر ادھر عام انتخابات کا اعلان ہوا اور ادھر آناً فاناً اپوزیشن کی بظاہر مشت و گریبان جماعتیں اکٹھی ہو گئیں ‘ اس کے باوجود بھٹو کی پیپلز پارٹی نے انتخابات جیت لئے تھے، اپوزیشن کے اس وقت کے اتحاد نے الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ‘ بھٹو مرحوم نے لاکھ جتن کئے کہ اپوزیشن کے ساتھ کسی سمجھوتے پراتفاق کیا جائے مگر اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے بازی الٹ دی ‘ احتجاجی تحریک شروع کرکے اسے ”اسلام” کے نام پر متحرک کیا ‘ اور پھر نتائج نے ایک تاریخ رقم کی ۔ تاہم اب کی بار ایسا کوئی معجزہ ہوتا دکھائی نہیں دیا ‘ حالانکہ سیاسی فضا ان دنوں ایک بار پھر مقررہ وقت(2023ئ) سے پہلے انتخابات کرانے کے بیانئے کی گردان کرتی دکھائی دے رہی ہے جس کی وجوہات کئی ہیں اور جن کی تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ میڈیا پر کم تو سوشل میڈیا پر زیادہ تفصیل سے ان کا ذکر کیا جارہا ہے ‘ خصوصاً کچھ وی لاگرز ان افواہوں کے پیچھے اصل ”حقائق” پر روشنی ڈالتے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ جو ان دنوں حکومتی حلقے ایک طرف”مشینی ووٹ” پر زور دیتے ہوئے ہر قیمت پر الیکٹرانک مشین کے ذریعے پولنگ کرانے پر بضد دکھائی دیتی ہے اور دوسری جانب اس کے توپوں کے دہانے الیکشن کمیشن کی جانب ”گولہ باری” میں مصروف ہوگئے ہیں ‘ تو اس کی پشت پر اس کا اتائولہ پن واضح ہو رہا ہے ‘ کیونکہ زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں اور عوام پر گزشتہ تین سالوں کے دوران جس قسم کے مسائل نے یلغار کر رکھی ہے ‘ اس حوالے سے بعض نجی اور ایک وی لاگر کے بقول ایک آدھ سرکاری ادارے کے سروے سے واضح ہو رہا ہے کہ عوام آنے والے انتخابات میں کیا موڈ لیکر ووٹ پول کریں گے ‘ اس لئے اگرمبینہ طور پر عوامی نکتہ نظر کو دیکھا جائے تو حالات”موافق” دکھائی نہ دیتے ہوئے الیکٹرانک مشین کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ وقت سے پہلے ا نتخابات اور صورتحال کو مزید قابو میں رکھنے کے لئے عدلیہ میں جو ”کارروائیاں” ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ان کا مقصد بھی”دال میں کالا” والی صورتحال کوجنم دیتا ہے ‘ لیکن وہ جو سیانے کہتے ہیں کہ تدبیرکند بندہ ‘ تقدیر زندہ خندہ ‘ تو کیا معلوم آنے والا کل ایک بار پھر آموختہ دہرانے پرتیار ہوجائے اور بظاہر اس وقت اپوزیشن کی جانب سے ستے خیراں والی صورتحال اچانک بھٹو دور کی اپوزیشن والے سبق کو یاد کرے اور راتوں رات کوئی”معجزہ” رونما ہو جائے ‘ تاہم ایسا ہوا بھی تو کم از کم اس کا نتیجہ وہ نہ نکلے جو تب نکلاتھا ۔ یعنی بقول ڈاکٹر ا ظہار اللہ اظہار
آئینے لٹ گئے ‘ حیرانیاں آباد رہیں
آنکھ میں شہر کی ویرانیاں آباد رہیں
درایں حالات وہ جو پیشگوئیاں کرنے والے ہیں ‘ ان کا”کاروبار” یعنی بیان بازی کا جادو ایک بار پھر سرچڑھ بول رہا ہے ‘ ایک ٹی وی اینکر اور وی لاگر ایک عرصے سے ایک بابا جی کو لیکر ہر ہفتے اپنے ٹی وی پروگرام کے علاوہ اپنے وی لاگ کے ذریعے بھی ستاروں کی چال بتا کر پیشگوئیاں نشر کرتے ہیں جن میں موصوف(وی لاگر ‘ اینکر) کی خواہشات کا پرتو ہوتا ہے یعنی وہ اپنے ناظرین کی سوچ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کوڑاکوڑا تھو تھو مٹھا مٹھا ہپ ہپ کے فارمولے پر عمل پیرا رہتا ہے جبکہ تازہ ترین پیشگوئی ایک پرانے خواب گر پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان کی سامنے آئی ہے ‘ موصوف ا کثر خواب دیکھ کر کچھ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے اپنے ممدوحین کے حوالے سے ریوڑیاں مرمرانیوںکو کی کیفیت واضح کرتے ہیں ‘ یعنی بلاول کو اقتدار میں دیکھ رہے ہیں ‘ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خواب دیکھنے پرکوئی پابندی تو نہیں ہے حالانکہ بقول شاعر
ہونا ہے وہی جو کہ مقدرمیں لکھا ہے
لیکن وہ مرے خواب ‘ مرے خواب مرے خواب