آئینی ادارے کو بے وقعت نہ کیا جائے

الیکٹرانک ووٹنگ کے عمل اور اس پر اعتراضات کو اگر ماہرین کی ٹیم کے سامنے رکھ کران کی رائے عوام کے سامنے رکھا جاتا تو کم از کم یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ تکنیکی طور پر اس کے کیا فوائد ونقصانات ہیں اور یہ کس حد تک قابل اعتماد نظام ہے اس میں وہ خامیاں جس کا تذکرہ ہو رہا ہے قابل اصلاح ہیں اعتراضات درست ہیں یاغلط مشکل امریہ ہے کہ ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے جس میں اس امر کا تعین مشکل ہے کہ کس کا موقف کس حد تک درست ہے اور کتنا غلط جہاں تک حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان اس حوالے سے عدم اتفا ق کا معاملہ ہے ہمارے ہاں کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اتفاق رائے سے کوئی معاملہ طے ہوسوائے ان معاملات کے جہاں قومی ادارے اس کی کوشش نہ کریں الیکٹرانک ووٹنگ کو اگر سیاسی مسئلہ بنانے کی بجائے تکنیکی طور پر اس کے عوامل پر تعامل کیا جائے تو یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ سکتا ہے بصورت دیگر یہ اونٹ ٹیڑھی ہی رہے گی اور اس کی کونسی کل سیدھی ہے وہ سامنے نہیں آئے گا۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اس معاملے پر اختلافات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب واپسی ناممکن سی لگتی ہے جبکہ اس معاملے میں حکومت اور الیکشن کمیشن جیسا آئینی ادارہ بھی اب مدمقابل ہیں بجائے اس کے کہ الیکشن کمیشن کے تحفظات کا تکنیکی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے اور حزب اختلاف کو قائل کیا جاتا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر یلغار کردی اور الزام عائدکیا کہ الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں ایسے ادارے کوآگ لگادینی چاہئے۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے معاملے پر خط لکھا ہے جس ادارے کے قانون پر تحفظات، اعتراضات ہیں اس کو سنا جائے۔ اس موقع پر سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر الزام بھی بہت سخت لگایا گیا ہے اعظم سواتی بتائیں کہ الیکشن کمیشن نے کس سے پیسے لیے ہیں؟کیا الیکشن کمیشن نے (ن) لیگ یا پیپلزپارٹی سے پیسے لیے ہیں؟انتخابی اصلاحات کے بل اور آئندہ عام انتحابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہے لیکن حکومت سادہ اکثریت سے اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرنے پر بضد ہے۔الیکشن کمیشن کے حکام نے ای وی ایم کے استعمال کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے37نکات تحریری شکل میں پارلیمانی امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتائے ہیں۔علاوہ ازیں انتخابی امور کی نگرانی کرنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ حکومت دوسرے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں
لیے بغیر انتخابی اصلاحات لانا چا رہی ہے جو کہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی اس کو متنازع بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر ہی کیوں ضد کر رہے ہیں جبکہ دوسرے سٹیک ہولڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ملکی سیاست میں تلخی بڑھتی جارہی ہے اور سیاسی اختلافات ذاتی احتلافات میں تبدیل ہو رہے ہیں، تو ایسے حالات میں متفقہ انتخابی اصلاحات لے کر آنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد کہا کہ وزراء نے گزشتہ روز ایوان صدرکے اجلاس میں بھی بدتمیزی کی آج کمیٹی اجلاس میں سنگین الزامات لگائے گئے، ایسے ماحول میں اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے بعد ازاں الیکشن کمیشن کا وفد قائمہ کمیٹی اجلاس چھوڑ کر پارلیمنٹ ہائوس سے روانہ ہوگیا۔ہمارے تئیں بجائے اس کے کہ الیکشن کمیشن پر اس طرح کے ا لزامات لگائے جاتے اس کا احسن طریقہ یہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس کا نکتہ وار جواب دے دیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا اس طرح کرنے سے احتراز اور الزام تراشی سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے پاس اعتراضات کا مدلل جواب نہیں چونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر سٹیک ہولڈر پہلے ہی اعتراض کر رہے ہیں اور الیکشن کمیشن بھی، اس لئے یہ کوشش بھی شکوک و شبہات میں اضافہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے اس کے ساتھ ساتھ جن جماعتوں نے الیکشن لڑنا ہے،اور نتائج کو قبول یا مسترد کرنا ہے، پہلے تو انہیں مطمئن کرنا ضروری ہے،لیکن ان کو بھی طعنوں کے بعد یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے عمل میں شریک ہوں،جس ادارے نے الیکشن کرانے ہیں اس کے اعتراضات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور ہر اعتراض جو کیا جا رہا ہے اس کا صاف اور شافی جواب ملنا چاہئے ۔گندم کے سوال پر اگر جواب چنا قسم کا دیا جائے گا تو کون مطمئن ہو گا؟الیکشن کمیشن یہ کہہ رہا ہے کہ مشین کے ذریعے ووٹر کی شناخت خفیہ نہیں رہے گی،اور نہ یہ بات خفیہ رہے گی کہ ووٹر نے ووٹ کس امیدوار کو دیا، اب اس کا جواب تو یہ ہونا چاہئے کہ کس طرح اس امر کا اہتمام کیا جائے گا کہ دونوں باتیں خفیہ رہ سکیں اس کا یہ جواب تو نہیں بنتا کہ یہ مشین جعلی بیلٹ پیپر والوں کے لئے بری خبر ہے۔اسی طرح الیکشن کمیشن کے دوسرے اعتراضات کا بھی جواب ملنا چاہئے۔قومی اداروں کو الزام تراشی کے ذریعے متنازعہ بنانے کا عمل خطرناک ہے عدلیہ اور پارلیمان تک اس سے محفوظ نہیں سیاستدانوں کو اپنے مقاصد کے لئے اداروں کو منشاء کے مطابق چلانے سے باز آنا چاہئے آئینی اداروں کا احترام ہو اورہرپہلوسے غور کرنے کے بعد فیصلہ اور اس پر عملدرآمد کا طریقہ کار اپنانا چاہئے تاکہ انتخابات کی وقعت ہو اور ملک میں عوام کی رائے کے مطابق حکومت قائم ہوجس پر انگلی اٹھانے کی نوبت نہ آئے۔