Idhariya

دنیا کی آٹھ خفیہ ایجنسیوں کا اہم اجلاس

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال بظاہر پاکستان کے حق میں دکھائی دے رہی ہے مگر امن و امان اور سلامتی کے لیے خطرات پہلے سے بڑھ گئے ہیں ۔اس تناظر میں افغانستان پر پاکستان میں ایک اہم اجلاس ہوا ہے۔پاکستان کے ڈی جی ،آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکی میزبانی میں دنیا کے 8 انٹیلی جنس چیفس جمع ہوئے تاکہ خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لے کر مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔اس اجلاس میں اہم امور پر صلاح مشورے ہوئے، جس کے بعد خفیہ معلومات کے تبادلے پر اتفاق،بھارت کی غیر ضروری سرگرمیوں سے متعلق پاکستانی تحفظات کو کس طرح دور کرنا ہے، اس پر بھی غورکیا گیا۔ پاکستان، چین،روس، ایران،قازقستان ، ترکمانستان ، ازبکستان اور تاجکستان کی انٹیلی جنس قیادت نے افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ افغانستان میں معاشی بحران دہشت گردوں کے لیے تحفہ ثابت ہو سکتا ہے۔اجلاس میں پاکستان ، چین، روس، ایران،قازقستان ، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی انٹیلی جنس قیادت نے اسلام آباد میں جو ملاقات کی ہے ،اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے کیوں کہ خطے کی تاریخ میں یہ پہلا غیر معمولی اجلاس تھا۔ چونکہ یہ اجلاس ڈی جی ،آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکی میزبانی میں شروع ہوا تھا اس لیے بھارت نے اس پر بہت شور مچایا مگر دنیا نے اس پر توجہ نہ دی۔ یہ اجلاس اُس پہلے موقع کا بھی غماز ہے کہ جب علاقائی سالمیت کے لیے کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے خطے کے ممالک نے علاقائی سطح پر مسائل کے حل کے لیے خود بندوبست کیا۔ اس جلاس کے حوالے سے غیر شراکت داروں کی نیندیں حرام ہو رہی ہیں مگر عالمی سطح پر اس امر کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے کہ علاقائی مسائل کو علاقائی شراکت دار ہی احسن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی تنازعے یا مسئلے کے حل کے لیے کسی دوسرے کو بلایا گیا تو وہ اپنی چودھراہٹ چمکانے کے چکر میں مسئلے کو مزید بگاڑ کر چلا گیا۔ اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین سمیت درجنوں عالمی اور علاقائی مسائل ابھی تک فائلوں میں اس لیے دبے پڑے ہیں کہ کوئی نہ کوئی چودھری مسئلے کی راہ میں روڑے اٹکا کر اپنے مفادات کی دوکان داری چمکانے بیٹھ جاتا ہے، یوں دنیا مسائل کی آماجگاہ سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکی۔
اسی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ایکشن پلان کی اعلیٰ سطحی ایپیکس کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس اس آٹھ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے اجلاس سے چند روز قبل منعقد ہوا تھا، جس میں امور خارجہ، دفاع، داخلہ، خزانہ اور اطلاعات کے وزرائ، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، قومی سلامتی کے مشیر، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، صوبوں کے چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دوسرے اعلیٰ سول و فوجی حکام شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں ملک کو درپیش سیکورٹی چیلنجز اور ایکشن پلان کے مختلف حصوں پر عملدرآمد پر غوروخوض کیا گیا تھا۔اجلاس میں سول وعسکری قیادت نے اندرونی اور بیرونی خطرات اور دوبارہ سر اٹھانے والے دہشت گردوں و انتہا پسندوں اور بیرونی ایجنٹوں کی سرکوبی کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا تھا۔ افغانستان کی صورتحال اور ملک پر اس کے ممکنہ اثرات سمیت معاملے کے تمام پہلوئوں اور قومی ایکشن پلان کے تحت قلیل، وسط اور طویل المدتی اہداف اور وفاق صوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ تب فیصلہ ہوا تھا کہ ہر ہدف کی بنیادی کارکردگی کے اعشاریے متعین کئے جائیں تاکہ نتائج بروقت حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اہم فیصلہ بھی ہوا کہ سائبر کرائم عدالتی و سول اصلاحات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے، پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑے دیگر سیکورٹی چیلنجز سے فوری نمٹنے کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ عالمی سلامتی کے مسائل سے متعلق اطلاعات کے بروقت، درست اور خوش اسلوبی سے بہائو کو یقینی بنانے کے حوالے سے نیشنل کرائسز، اطلاعات اور مینجمنٹ سیل قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سی پیک پراجیکٹس بھارت کے علاوہ مغربی ملکوں کی آنکھوں میں بھی کھٹکتے ہیں کیونکہ تجارتی راہداری کے یہ منصوبے چین کی مالی اعانت سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد انہیں بھی نشانہ بنا رہے ہیں ۔اس اجلاس نے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہونے کے جھوٹے دعوئوں کی تردید کر دی ہے۔اس وقت پوری دنیا کی توجہ افغانستان سے زیادہ پاکستان پر مرکوز ہے کیوں کہ خطے میں جاری افغانستان کے بحران کو حل کرنے کے لیے جو مؤقف پاکستان نے اپنایا ہوا ہے ، وہ ہی مسئلے کے پائیدار حل کی طرف جاتا ہو انظر آتا ہے۔