Shazray

تاجروں کو سازگار ماحول فراہمی کی حکومتی کوششیں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اشیائے خور ونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے لیے فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ انسپکشن ٹیمیں تشکیل دے کر الگ الگ انسپکشن کا سلسلہ بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے احکامات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جہاں پر ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں میں زیادہ فرق نہ ہو ، وہاں پر دکانداروں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسپکشن کے نام پر متعدد اداروں کے اہلکار بازاروں کا رخ کرتے ہیں، پولیس، ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی کے اہلکار پرائس کنٹرول و کوالٹی چیک کے نام پر تاجر و دکانداروں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں، ایسے میں کئی سادہ لوح تاجر جعلی انسپکشن ٹیم کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں ، اسی طرح کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو انسپکشن ٹیم کے ممبرز ظاہر کر کے دکانداوں سے منتھلی وصول کرتے پکڑے گئے ہیں ، اس جعل سازی کا نقصان دکانداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے کو اٹھانا پڑتا ہے، اداروں کی ساکھ پر بھی دھبہ آتا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر اس مسئلے کا بہترین حل نکالا گیا ہے، جب دکانداروں کے پاس ایک ہی انسپکشن ٹیم جائے گی تو دھوکہ دہی اور جعل سازی کا خاتمہ ہو گا۔ حکومت کے اس اقدام سے تاجروں اور دکانداروں کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول میسر آئے گا، تاجر برادری کو سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل درآمد بھی ہو، تاکہ تاجروں کو حقیقی معنوں میںکاروبار کیلئے سازگار ماحول میسر آ سکے ۔
کورونا، سیاسی اجتماعات پر پابندی کی ضرورت
کورونا کی چوتھی لہر میں شدت آنے کے باعث ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی اداروں، بازاروں اور سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر کے محدود کر دیا گیا ہے، لیکن پابندی کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں، سیاسی اجتماعات میں سماجی فاصلے کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ ہی ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے، سیاستدانوں کے اس طرز عمل کی وجہ سے عوام بھی پوری طرح سے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس لاپرواہی و بے احتیاطی کا نتیجہ بڑے نقصان کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے نقش و قدم پر چلتے ہیں، جب اہل سیاست اور ارباب اختیار کورونا کو درخور اعتنا نہیں سمجھ رہے تو پھر عوام سے کیسے توقع رکھی جائے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل کریں گے، ہونا تو یہ چاہیے کہ ارباب اختیار اور سیاسی نمائندوں کا طرز عمل مثالی ہوتا، سیاستدان اپنے قول و فعل سے ثابت کرتے کہ کورونا کی شدت کے دنوں میں زندگی کے شب و روز کیسے گزارنے ہیں ، لیکن سیاستدانوں کے جلسے جلوس اور سرگرمیاں پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں، اہل سیاست کا یہ طرز عمل افسوس ناک ہے، جسے ترک کرنے کی ضرورت ہے، اگر کوئی سرگرمی ناگزیر ہو تو اسے اس او پیز کے ساتھ انجام دینے کی کوششیں کی جائے ، کیونکہ ابھی تک اگر ہم کورونا کی ہلاکت خیزی سے محفوظ ہیں تو یہ ہم پر خدا تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی عظیم کرم نوازی ہے۔ اس وقت جو سیاسی اجتماعات ہو رہے ہیں وہ ناگزیر نہیں ہیں، انہیں بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے، اس وقت جو امور ناگزیر ہیں وہ تعلیمی اداروں اور بازاروں سے پابندی کا خاتمہ ہے کیونکہ طلباء کی طرح تاجر برادری کا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، جب تعلیمی ادارے اور بازار و ٹرانپسورٹ بند ہوسکتے ہیں تو پھر سیاسی اجتماعات کی اجازت کیونکر ہو سکتی ہے؟
یوٹیلٹی سٹورز پر مہنگائی میں اضافہ
یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب گھی اور آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 96اور 97 روپے فی کلو اضافہ ہو چکا ہے، فی کلو کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ معمولی اضافہ نہیں ہے ، عوام کی قوت خرید کے پیش نظر اس فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کے قیام کے مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، یہی وجہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب اشیاء کی قیمتیں عام مارکیٹ سے بہت کم رکھی جاتی ہیں۔ دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر دور حکومت یوٹیلٹی سٹورز کے لیے سبسڈی کا اعلان بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے خیال سے کیا جاتا رہا ہے، مگر تحریک انصاف کی حکومت میں یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب اشیاء کی قیمتوں میں یہ جواز پیش کر کے اضافہ کر دیا گیا ہے کہ عام مارکیٹ اور یوٹیلٹی سٹورز کی قیمتیں برابر ہو جائیں گی، اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا واضح مطلب یہ ہو ا کہ حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے، اس کے بعد یہ ہو گا کہ عوام یوٹیلٹی سٹورز کا رُخ کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ جب مطلوبہ اشیاء انہی نرخوں پر بلکہ مہینہ ادھار پر گھر کے پاس دستیاب ہوں گی تو انتظار اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر کون خریدے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز سے عوام کو ملنے والی سبسڈی سے محروم نہ کیا جائے ، یہ کام سبسڈی دیئے بغیر بھی ہو سکتا ہے ، اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت جن نرخوں پر اشیاء خریدتی ہے انہی نرخوں پر فروخت کی جائیں، جب نفع نہیں رکھا جائے تو عوام کو یہ آئٹم بازار سے کم نرخ پر دستیاب ہو گی مگر اس مقصد کے لیے خلوص نیت اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔