Mashriqyat

مشرقیات

آپ نے خبرپڑھ لی ہم کتنی عجیب وامیر قوم ہیںہزاروںامریکی ،برطانوی ،کینیڈین ،آسٹریلین باشندے ہمارے نوکر ہیں۔ان نوکر چاکرزکوہم نے بال بچوں کے لئے جو سرونٹ کوارٹرز لے کر دے رکھے ہیں وہ بھی دیار مغرب کے جدید وترقی یافتہ شہروں میں واقع ہیں اور تو اور ہم اپنے نوکروں کے بچوں کی تعلیم بھی اپنا پیٹ کاٹ کر بیرون ملک مہنگے ترین اداروںمیں افورڈ کر رہے ہیں۔
ہمارے یہ نوکر عرصے سے اپنی اور ہماری آمدنی باہر بھیجوانے کا دھندہ کر رہے ہیں وہ ڈالر گرل یاد ہے نا آپ کو ،معلو م نہیں کس کے سر میں ایمانداری کا خناس سمایا تھا جو اس نے برسوں سے جاری معمول میں رخنہ ڈال کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کو بے نقاب کرنے کی ٹھان لی تھی۔خدا کا شکر ہے کوئی بے نقاب نہیں ہوا۔الٹا ہمارے ہاں کے قانون او راس کے رکھوالوں کو لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔اب بھی یہ دھند ا جاری ہے۔پہلے سے زیادہ زور شور کے ساتھ۔ڈالر گرل کے پیچھے ہم ویسے ہی ہاتھ دھو کر پڑ گئے تھے حالانکہ جتنا مال ہمارے غیرملکی نوکر یہاں سے مالامال ہوکر پار کر رہے ہیں ڈالر گرل ان کے سامنے پانی بھرتی ہیں۔یقین نہیں آتا تو بلوچوں کے اس نوکر مشتاق رئیسانی کو یاد کرلیں،جس کے گھر سے اتنا خزانہ برآمد ہوا تھا کہ گننے والوں کی انگلیاں تھک کر چور ہو گئیں تھیں،بعد میں یہ راز بھی کھلا تھا کہ وہ خزانے کا ایک حصہ سمندر پار بھیجوانے میں بھی کامیاب رہے تھے۔ظاہر ہے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو انہوں نے مال تھوڑی تھمایا ہوگا ،اب یہ کسی نے نہیں بتایا کہ ان کی فیملی کے کتنے ممبر ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بیرون ملک مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے تھے۔
تو جناب !اب سب کو معلو م ہوچکا کہ بائیس ہزار سے زیادہ ہم نے ایسے نوکر رکھے ہوئے ہیں جو امریکا ،برطانیہ ،کینیڈا،آسٹریلیا وغیرہ کے شہری ہیں،ان کے بال بچے بھی ادھر ہی رہتے ہیں ہمارے مال مسروقہ پر،کوئی کہے کہ یہ سراسر الزام ہے تمام دہری شہریت کے حامل بابو حضرات ہمارے ہاں نوکر ہونے سے قبل بھی ''پدرم سلطان بو د'' قبیلے سے تعلق رکھتے تھے تو ہم پھر معذرت خواہ ہیں۔اصل میں ہم اس سطحی سوچ کا شکار ہیں کہ اپنے بچوں کی تمام تر کوشش کے باوجود دو چار ہزار فیس بھر نہیں پاتے تو یہ دہری شہریت ( بعض دوہری شوہریت کے بھی)کے حامل بابو پھر بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کے جمع خرچ کو کیسے برداشت کرتے ہوں گے جبکہ ہر سال تنخواہوں میں اضافے کے لئے انہیں سرکار سے سر پھٹول بھی کرنی پڑتی ہے۔ذرا معلوم کرے سرکار ان میں سے کتنوں کے بال بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں اور کس کس کی بیگمات لند ن ،دبئی،پیرس و نیویارک کے شاپنگ ہالوں کا طواف کرکے ہم غریبوں کی محنت کی کمائی پانی کی طرح بہا ررہی ہیں۔