Mashriqyat

مشرقیات

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
بزرگوں نے نوجوانوں کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی نصیحت تو کر دی تاہم کوئی ایک بھی بطور ماڈل ان کے سامنے کھڑ ا نہیں ہوا حالانکہ قصے کہانیا ں سنانے پر اتر آئیںتوبھڑک مارنے سے قبل بتانا نہیں بھولتے کہ ” جب آتش جوان تھا ”۔جوان آتش کے آتشی قصے کہانیوں میں سوائے اپنی ذات کی تشہیراوران خوبیوں کے ذکرکے کچھ نہیں ہوتا جو قصہ گو کی آتشی جوانی کا حصہ ہی نہیں ہوتیں اور وہ ان خوبیوں کو اپنے حریفوں میں دیکھ دیکھ کر حسد سے جل بھن جاتے تھے اسی آگ کو انہوں نے آتشی جوانی کا نام دے دیا ۔اس قسم کے بزرگ حضرات سے تو میر اچھے تھے جو اپنی ہی نہیں سب کی نقاب کشائی کر گئے،
عہد جوانی رو رو کاٹا،پیر ی میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات کو تھے بہت جاگے صبح ہوئی آرام کیا
توجناب!بات یہ ہے کہ سب کی زندگی میر کے مصداق اسی ڈگر پر گزر رہی ہے ۔”کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی”کا فلسفہ ہمیں سمجھ نہیں آتا نہ ہی ہم ستاروں پر کمند ڈالنے کا جان جوکھوں والا کام کرکے عالم بالا کی سیر کرنا پسند کرتے ہیں،اپنا فلسفہ تو بس یہ ہے کہ کہیں سے چھپڑ پھاڑکر یا ڈاکہ مارکر دھن دولت ہاتھ آئے ۔گھر بیٹھے بیٹھے کوئی لاٹری نکل آئے یا پھر کوئی جدی پشتی رئیس اپنی دختر نیک اختر کا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے کر گھر دامادی کا شرف عطا کردے تو زندگی سنور جائے گی۔زندگی سنوارنے کے دیگر تمام نسخوں پر ہم کب کی لعنت بھیج چکے ہیں۔کوئی لاکھ کہے محنت میں عظمت ہے ہمارے ہاں کے جوانوں نے آگے سے یہی کہنا ہے ”مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ”۔
اصل میں ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم نے ترقی کی معراج پانے کیلئے ایک یا دو نسلوں کی قربانی دینی ہے اور آج تک یہ فیصلہ ہی نہیں کیا جاسکا ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ کون بنے گا؟ہمارے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ دونسلوںنے شدید محنت اور حددرجہ دیانت داری کے ساتھ اس قو م کا بیڑہ پار لگا دینا ہے ۔جس کے بعد آنے والی نسل پر محنت کرنے کی ضرورت ہی نہیںپڑے گی ،ہرکوئی اپنے بڑوں کی محنت دیکھ کر محنت کی وراثت کو سنبھال لے گا۔ہمارے یہ بزرگ سرکار ی ملازم تھے اپنے بال بچوں کیلئے محنت مشقت کر کے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں،قوم کے بال بچوں کے لئے انہوں نے درج با لا پیغام چھوڑا ہے ۔ بزرگوں کی ان تمام نصیحتوں کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہان سے چلے تھے ۔جوان ستاروں کی بجائے ”ستارہ ”پر کمند ڈالنے کے ارادے سے باز آہی نہیں رہے اور کوئی انہیں سمجھانے سے باز نہ آئے تو آگے سے جواب مل جاتا ہے کہ جب آتش جوان تھا تو کمند کہاں کہاں ڈالتے رہے بذات خودبزرگو!