یکساں نصاب تعلیم ‘ کیا واقعی؟

موجودہ حکومت اپنے تین سالہ دور اقتدار میں اپنی دانست یا بزعم خود میں جن کاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اورفخر و انبساط کا اظہار کرتی ہے ‘ اس میں ”صحت کارڈ ”غرباء اور طلبہ کے ”احساس” پروگرام اور احساس سکالر شپ کے علاوہ اب”یکساں نصاب تعلیم”شامل ہیں۔ اس بات میں شک نہیں کہ وزیر اعظم کے دل میں ذاتی طور پر ملک کے عوام کے لئے درد و حساس موجود ہے ۔ اسی بناء پر غریبوں اور شہروں میں پردیسیوں اور مسافروں کے لئے پناہ گاہوں میں قیام و طعام سے لیکر صحت و تعلیم کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحت کارڈ کے ذریعے غریب و نادار مریضوں کے لئے کافی سہولتیں میسر آرہی ہیں ‘ لیکن اپنا تجربہ اور چشم دید واقعات کی بنا پر عرض کرتا ہوں کہ اس پروگرام میں بڑی گڑ بڑ ہسپتالوں میں پائی جاتی ہے اور خلق خدا عمران خان کو دعائیں دینے کے ساتھ صحت کارڈ کو ڈیل کرنے والے عملے کی دہائیاں بھی دیتی ہے لہٰذا اس پروگرام کی دیانتدار و فرض شناس عملے کے ذریعے نگرانی کی اشد ضرورت ہے ۔صحت کارڈ اور پشاور کے بڑے پرائیویٹ اور ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے بارے میں سروے اور مشاہدے کے بعد عنقریب ایک تفصیلی فیچر وزیر صحت ‘ سیکرٹری صحت اور اس شعبے کے دیگر ذمہ داروں کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگرچہ کالم وغیرہ کے ذریعے عوامی مسائل پر بات حکومتی حلقوں کے لئے نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن آج کی اس نشست میں یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے چند سطور پیش خدمت ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان میں اس حوالے سے بہت کم سوچا اور کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چوبیس برس کے اندر اندر مرحوم مشرقی پاکستان(حال بنگلہ دیش) میں نصاب کے ذریعے نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کی گئی جس میں وہاں کے ہندو اساتذہ کا بڑا ہاتھ تھا جو نریندی مودی جیسے انتہا پسندوں کے ہاتھوں آسانی کے شکار ہو کر مکتی باہنی کی صورت میں سامنے آئی۔ اس کا خمیازہ پورے پاکستان کو بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔ باقی ماندہ پاکستان میں اتنے عظیم سانحہ کے بعد کسی نے ہوش کے ناخن لینے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان کے چار صوبوں اور ملحقہ علاقوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی مرضی کے نصاب پڑھائے جاتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہی سامنے آیا کہ نئی نسل کو نظریہ پاکستان ‘ تاریخ پاکستان اور اسلامی تاریخ وغیرہ کے بارے میں ضروری معلومات بھی فراہم نہ کی جا سکیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ پرائیویٹ سیکٹر میں امراء اور اشرافیہ کی اولاد کے لئے امریکہ ‘ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ مغربی ملکوں کا نصاب اور ان کے تعلیمی نظام سے منسلک سکول کالجوں نے پاکستان کے اندر لارڈ میکالے کے مقاصد کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ غضب خدا کا ملاحظہ کریں کہ اللہ ایک ‘ رسول ایک ‘ کعبہ ایک ‘ قرآن ایک اور ملک ایک ‘ لیکن نصاب ایک دو ‘ تین نہیں بلکہ بیسیوں پڑھائے جارہے ہیں۔
پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ایچیسن تو سرمایہ داروں ‘ جاگیرداروں کے لئے مخصوص ہو کر رہا کہ غریب کا بچہ تو سقراط ہو کر بھی اس کا خوب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا اس سکول کالج نے ہمارے حکمران طبقات کو جنم دیا۔(الاماشاء اللہ) اس کے علاوہ ایک طبقہ وہ ہے جو امریکہ و برطانیہ میں پل بڑھ کر تعلیم حاصل کرتے ہی اور پھر سیاست و حکمرانی کے لئے پاکستان میں وارد ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر پاک افواج کے کیڈٹ کالجوں کا اپنا ایک جال بچھا ہوا ہے ۔ وہاں سے زیادہ تر طلبہ میڈیکل کالجوں ورنہ لیفٹیننٹ بن کر نکلتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں معروف و مقبول سسلہ اے لیول ‘ او لیول اور بیکن ہائوسز کا ہے ۔ جس میں ہمارا اشرافیہ اور نو دولتیہ طبقہ اپنی اولاد کو فخریہ داخلے دلواتا ہے ۔ رہ گئے عوام۔۔ وہ تو ہمیشہ سے ایسے سکولوں میں پڑھتے آئے ہیں جہاں ڈھنگ کی کلاس روم تو ایک طرف پینے کا صاف پانی اور بیت الخلاء تک موجود نہیں ہوتے ۔ ٹھاٹ میسر آئے تو بڑی نعمت اور حرام خور ٹھیکیدار کے ہاتھوں ناقص لکڑی کے بینچ ڈیسک میسر آبھی جائیں تو سال کے اندر استعمال کے قابل نہیں رہتے ۔ان حالات میں کہ حکومت نے یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا دعویٰ کرکے ایک وعدہ پورا کرکے پر اپنی ٹوپی میں سجاد یا۔ لیکن کیا اس کو اس بات کی بھی خبر ہے کہ خونی لبرلز اس کے خلاف کس شدید قسم کے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں نصابی کتب کی چند تصاویر کو لیکر سوشل میڈیا کے ذریعے اس میں صنفی امتیاز کو اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور ان کا یہ پروپیگنڈہ بی بی سی تک پہنچ چکا ہے جبکہ حال یہ ہے کہ کاغذوں میں ایک بہت بے مثال اور عمدہ و یکساں نصاب تعلیم نافذ ہو چکا ہے اور دوسری طرف پرائیویٹ اور اشرافیہ کے لئے مخصوص تعلیمی ادارے اپنی من مانیوں میں مصروف ہیں۔ ورنہ وزیر تعلیم و سیکرٹری تعلیم اور دیگر حکومتی کارندے ایک جائزہ تو لے لیں اس لئے عرض کیا کہ یکساں نصاب تعلیم واقعی؟اور اگر واقعی وطن عزیز میں یکساں نظام تعلیم ایچیسن سے لیکر کیڈٹ کالجوں سے ہوتے ہوئے اے لیول او لیول اور بیکن ہائوسز تک یہی توہمارا حال غالب کا ہی ہوجائے گا۔
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جائے اگر اعتبار ہوتا