Pashto novelist Zaitoon Bano has passed away

معروف پشتوافسانہ نگارزیتون بانوانتقال کرگئیں

ویب ڈیسک (پشاور)معروف پشتو مصنفہ زیتون بانوجو 83سال کی عمر میں گزشتہ روز انتقال کرگئیں تھیں ،کو سپرد خاک کردیا گیا۔

زیتون بانو خیبرپختونخوا ،بلوچستان اور یہاں تک کہ افغانستان کےپشتون حلقوں میں بھی مقبول عام تھیں جس نےاپنی تحریروں کےذریعےخواتین کےمسائل کو اجاگرکیا۔انہیں پشتوادبی حلقوں میں وہی احترام اورمقام حاصل تھاجیسا کہ اردو افسانےمیں بانو قدسیہ کودیاگیا ۔

وہ 18 جون 1938 کو پشاور کےنواحی گائوں سفید ڈھیری میں پیدا ہوئی تھیں ۔انہوں نے پشتو اوراردو میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی)پشاورمیں سینئر پروڈیوسر کےطورپرخدمات سرانجام دیں اورمختلف تعلیمی اداروں میں بھی پڑھاتی رہیں ان کی شادی تاج سعید جو اردو اور ہندکوزبان کےمعروف ادیب تھےسے ہوئی تھی۔

زیتون بانو نے دودرجن سے زائد پشتو اور اردو کتابیں تصنیف کیں۔ 1958 اور 2008 کےدرمیان ،ان کی مقبول پشتو افسانوں کی کتابوں میں ہندارہ ، مات بنگڑی ، جوندی غمونہ،خوبونہ ،کچکول ،زما ڈیری ،نیزورے شامل ہیں جبکہ ان کی اردو کتابوں میں شیشم کاپتا،برگد کا سایہ اور وقت کی دہلیز پار شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کلچرڈائریکٹوریٹ نے زیتون بانو کی مختصر کہانیوں کاایک بہت بڑا پشتو مجموعہ شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا دا شگو مزل ۔

انہوں نے پی ٹی وی اور پشاور ریڈیو کے لئے خواتین کے حقوق سمیت متعدد سماجی مسائل پر فیچر ڈرامے بھی لکھے ۔ وہ اپنی ادبی خدمات پر15 قومی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں پشتو اور اردوادب کی خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس بھی شامل ہے۔