بلیک مارکیٹنگ

کابل میں ویزوں کی بلیک مارکیٹنگ کا دھندہ عروج پر

ویب ڈیسک :کابل میں ویزوں کی بلیک مارکیٹنگ کا دھند ہ زور شور سے جاری ہے ۔اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد کابل میں بیشتر سفارت خانے بند ہوگئے تاہم ویزے کے خواہش مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ویزوں کا بلیک مارکیٹنگ کا کاروبار آسمان کو چھو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صحارا میں داعش کا سربراہ مارا گیا،فرانس کا دعوی

متعدد سیاحتی ٹریول ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال صرف پاکستان کے ویزے قانونی طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں ، لیکن کئی دوسرے ممالک کے ویزے بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

کابل میں ایک سیاحتی ٹریول ایجنسی کے ڈائریکٹر شفیع صمیم نے طلوع نیوز کو بتایا کہ لوگ بلیک مارکیٹ سے ویزے دوگنا یا تین گنازیادہ رقم ادا کرکے خریدتے ہیں۔

صمیم کے مطابق ، لوگ پاکستان کا ویزا 350 ڈالر تک ، تاجکستان کا400 ڈالر میں ، ازبکستان 1350 ڈالر میں اور ترکی کا ویزہ5 ہزار ڈالر تک میں خرید رہے ہیں۔غنی حکومت کے خاتمے سے پہلے پاکستانی ویزے کی فیس 15 ڈالر کے لگ بھگ تھی ۔
ہندوستان کا ویزہ 20 ڈالر ادا کرکے لگ جاتا تھا ، تاجکستان اور ازبکستان کے ویزے کی فیس60 ڈالر اور ترکی کے ویزے کی فیس 120 ڈالر تھی۔

ٹریول ایجنسی کے متعدد عہدیداروں نے غیر ملکی ممالک پر زور دیا کہ وہ کابل میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں اور افغانیوں کو ویزے جاری کریں۔تاکہ ویزوں کی یہ بلیک مارکیٹنگ ختم ہو۔کابل میں ایک ٹریول ایجنسی کے ملازم پرویز اکبری نے کہا: "ہم ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ کالے بازاروں کو ختم کرنے کے لیے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں۔

"کابل کے رہائشی محمد ہارون نے کہا کہ ان کے پاس پاکستان کا ویزا ہے لیکن وہ طورخم پھاٹک عبور نہیں کر سکتے۔

ہارون کے مطابق سرحد پار کر نے کے لئے پاکستانی ویزا کے علاوہ اب آپ کو ایک "گیٹ پاس” درکار ہوتا ہے جسے پاکستانی سفارت خانے کے قریب کچھ لوگ بیچ رہے ہیں۔”لوگ یہاں ایک اور دو ماہ سے انتظار کر رہے ہیں۔

ان کے پاس ویزے ہیں لیکن طورخم گیٹ سے گزر نہیں سکتے۔ انہوں (بیچنے والوں)نے بلیک مارکیٹ بنائی ہے اور گیٹ پاس دوسو سے تین سو ڈالر میں فروخت کرتے ہیں۔