Idhariya

امریکا کو وزیر اعظم کا درست مشورہ

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ سے تعلقات اور افغانستان کے حالات سے متعلق درست موقف ا پنایا ہے کہ امریکہ کو اب اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ افغانستان میں کامیابی و ناکامی کے تناظر میں اور اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو امریکہ مدنظر رکھے تو اس نتیجے پر پہنچنا زیادہ مشکل نہیں کہ امریکہ کی ناکامی کی بڑی وجہ حقائق کے برعکس پالیسیاں اختیار کرنا اور زور زبردستی کا وتیرہ ہے جس کی ممالک کے درمیان تعلقات اور سفارتی دنیا میں گنجائش نہیں ہوتی لیکن امریکا ڈومور ہی کو موزوں پالیسی سمجھنے کی غلطی کرتا آیا ہے بجائے خود کچھ کرنے کے دوسروں پر دبائو ڈالنے کا بالآخر جونتیجہ نکلنا تھا وہی نکلا خود کو عقل کل سمجھنے والے ملک کو پاکستان نے بارہامشورے دیئے امریکہ کی افغان پالیسی کی ناکامی کا پاکستان نے جنگ سے گریز اور طاقت کے استعمال کا مسئلے کا حل نہ ہونے کا روز اول ہی بتا دیا تھا لیکن امریکہ نے ایک نہ سنی اور افغانستان پر چڑھائی کر دی جس کا نتیجہ بیس سال بعد امریکی ناکامی اور طالبان کے افغانستان میں اقتدار پر قابض ہونے کی صورت میں سامنے ہے امریکہ اگر اس وقت کی طالبان حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا تو شاید آج ان کو ا لقاعدہ کے خطرے کا دوبارہ سر چڑھ بولنے کا امکان ظاہر کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔وزیراعظم نے بجا طورپر کہا ہے کہ کہ افغانستان میں شورش سے پاکستان بھی زیادہ متاثر رہا ہے اور اب بھی پاکستان ہی پر مہاجرین سمیت افغانستان کے داخلی حالات کے باعث دبائو ہے۔لیکن پاکستان کی مدد کے لئے کوئی تیار نہیں۔ افغانستان سے متعلق ایک بڑا مسئلہ مہاجرین کا بھی ہے، عالمی برادری مدد کرے تو افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے ہمیں طالبان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے افغانستان کو باہرسے کنٹرول نہیں کیاجا سکتا۔ افغانستان اس وقت تاریخ ساز موڑ پر ہے ہم ان کی مدد کریں تاکہ وہاں صورتحال کنٹرول میں رہے۔امریکا سے تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں امریکہ نے کبھی پاکستان کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار نہیں کئے نہ کبھی اسکی آزادی اور خودمختاری کی پاسداری کی جو عالمی برادری میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعلقات کا بنیادی اصول ہوتا ہے پاکستان کے ساتھ اسکے تعلقات کا معاملہ تو آنکھ مچولی والا ہے۔ ہم ہمیشہ امریکی اتحادی ہونے کے دعویدار رہے مگر اپنے دفاع و ترقی کیلئے جب بھی پاکستان کو امریکہ کی معاونت کی ضرورت پڑی وہ ہمارے ساتھ طوطا چشمی کرتا نظر آیا امریکہ نے سرد جنگ میں سوویت یونین کو تاراج کیا نتیجتاً سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور اس طرح دوسری سپرپاور امریکہ کے راستے سے ہٹ گئی مگر امریکہ نے اسکے بعد پاکستان ہی نہیں افغان مجاہدین کے ساتھ بھی طوطا چشمی کی اور انہیں حالات کے تھپیڑوں کی نذر کر دیا چنانچہ افغان مجاہدین نے طالبان کے قالب میں ڈھل کر انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرلیا۔ اسکے برعکس امریکہ ہمیں آج بھی آنکھیں دکھاتا اور ڈومور کے تقاضے کرتا نظر آتا ہے۔امریکا کا یہی رویہ ہی اس کی ناکامی کا سبب ٹھہرتا ہے پاکستان کو اب امریکا سے تعلقات کے حوالے سے مکمل طور پر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ہمیں بہرصورت اب ملکی سلامتی کے تقاضوں اور بہترین قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر ہی افغانستان اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی پالیسی طے کرنی ہے۔ امریکہ سے ہمیں کبھی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے اور آج اس خطہ میں امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ توڑنے طاقت کا توازن قائم کرنے کا جو موقع مل رہا ہے تو ہمیں اسکی راہ ہموار کرنے میں معاون بننا چاہیے یہی ہماری سلامتی کا تقاضا اور بہترین مفاد میں ہے تاکہ معاملات جلد سدھار کی طرف آسکیں۔