حکومت اورپنجاب کی زمینی حقیقت

یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے کنٹونمنٹ انتخابات کے نتائج میں مستقبل کی دھندلی سی تصویر دیکھ لی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہوںنے ان نتائج کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اورانہیں عہدوں سے فارغ کرتے ہوئے پوری پارٹی کی اوورہالنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرعمران خان یہ حقیقت کو پاگئے ہیں کہ موجودہ پارٹی ڈھانچے اور موجودہ حکومتی کارکردگی کے ساتھ مستقبل کا کوئی معرکہ سر نہیں کیا جاسکتا تو یہ آنے والے حالات کو تبدیل کر نے کا باعث ہوگا اگر شلجموں سے مٹی جھاڑنے کی روایت برقرار رہی اور پارٹی میں احتساب سے گریز کیا گیا تو پھر بحران بڑھتا اور دراز ہوتا چلا جائے گا ۔تین سال سے تحریک انصاف ملک کے سب سے بڑے صوبے سمیت مرکز کی حکمران ہے ۔جن صوبوں میں اس کی حکومت نہیں وہاں بھی مرکزی حکومت کے ذریعے کسی نہ کسی طرح شریک اقتدار ہے ۔بلوچستان اور سندھ میں گورنرز اور وفاقی وزرا کی صورت میںاقتدار کے کیک کا کچھ نہ کچھ حصہ پی ٹی آئی کے پاس ہے ۔اتحادی جماعتوں کی پیدا کردہ مشکلات اپنی جگہ مگر کوئی بھی جماعت شکوئے شکایتوں سے آگے بڑھ کر کوئی عملی اور ٹھوس مشکل پیدا نہیں کر سکی۔اس لئے گورننس کے معاملات میں اتحادی سیاست کی مجبوریوں ،اتحادیوں کے مطالبات تقاضوں اور بلیک میلنگ کا عذر تراشنا ممکن نہیں ۔ماضی کی کچھ حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ سے شکایات رہتی تھیں۔پیپلزپارٹی ان شکایتوں کو برسر عام نہیں دہراتی جبکہ مسلم لیگ ن کو تو ہمیشہ شکایتیں ہی یاد رہتی ہیں اور وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہی اس کا رونا روتی ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت کو ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں ۔یہاں تین سال ایک پیج کی کہانی کسی رکاوٹ کے بغیر چل رہی ہے ۔اس سے پہلے امریکیوں کو اسلام آباد میں مجبوری اور لاچاری پر مبنی موقف سننے کو ملتا تھا اور راولپنڈی سے اس سے قطعی مختلف بات سننے کو ملتی تھی ۔ دوالگ الگ بولیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خلیج کو محسوس کرتے ہوئے عالمی کھلاڑی میدان میں کود پڑتے تھے ۔یوں ایک آئیڈیل جمہوریت کے نام پر ہلہ شیری دے کر سول حکومتوں کو فوج سے لڑا کر نظام کا دھڑن تختہ کراتے تھے ۔میاں نوازشریف اس کام میں ہیٹرک کر چکے ہیں۔اس بار امریکہ سمیت دنیا کی کسی طاقت کو ایسی کو ئی خلیج نہیں ملی کہ جہاں وہ قدم رکھ کر اپنا کردار ادا کرسکیں۔تین سال سے موجودہ حکومت کو ایک بہترین اور آسان پچ دستیاب ہے ۔اسی کے بارے میں ایک بار شہباز شریف نے حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاش ہمیں یہ ماحول میسر آتا۔یہ کاش بھی ایک جملہ معترضہ ہے ۔خدا جانے صرف قومی امور اور اہم فیصلوں کے بارے میں موافق ماحول کیوں میسر نہیں آتا باقی ہر کام کے لئے ماحول موافق اور سازگار ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ پاپڑ والے اور فالودے والے بھی کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت ریاستی معاملات میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی ۔ان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔مہنگائی ایک عالمگیر مسئلہ ضرور ہے ۔بھارت سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ایک چیخ وپکار ہے۔اس کی نسبت پاکستان کے عوام کے صبر وشکر کو سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔جو مہنگائی کا تازیانہ سہتے سہتے تنگ تو آتے ہیں مگر گھر سے باہر نکل کر لاٹھی کھانے پر تیار نہیں ہوتے۔ ورنہ پی ڈی ایم اور حضرت مولانا نے کس کس انداز سے عوام کو مہنگائی کی دُہائی دے کر اُٹھ کھڑ ا ہونے کی تلقین نہیں کی ۔حتیٰ کہ مہنگائی مارچ تک بھی بات پہنچی مگر عوام نے روتے دھوتے بھی ا ن سرگرمیوں سے خود کو الگ رکھا۔حالات کی اس موافقت اور موسم کی اس مہربانی کے باوجود حکومت ریاستی معاملات پر اپنی گرفت ثابت نہ کر سکی ۔اس کی بڑی وجہ پنجاب میں وزیر اعظم کا ”حُسنِ انتخاب ” ہے ۔عثمان بزدارپنجاب کی خود سر بیوروکریسی اور انتظامیہ پر اپنا نقش قائم نہیں کرسکے۔تین سال پلک جھپکتے گزر گئے اور اب انتخابات کی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں ۔ایسے میں حالات حکمران جماعت کے قطعی حق میں نہیں۔ایک تو حکومتی کارکردگی بہت مثالی نہیں دوسرا پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ ٹکٹوں کی تقسیم کا طریقہ کار اور کارکنوں کا عدم اطمینان اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والا دور زیادہ حوصلہ افزا نہیں ۔عمران خان سیاست کی طرح حکومتی معاملات میں تنہا نظر آتے ہیں ۔وہ اپنے ویژن اور سوچ میں تنہاہیں اور اس عالم تنہائی میں سیاست کے گھاک کھلاڑیوں کا مقابلہ آسان کام نہیں ۔اس لئے پی ٹی آئی کی اوورہالنگ اور کنٹونمنٹ انتخابات میں پنجاب سے پارٹی کی ناقص کارکردگی کی وجوہات کا جاننا ضروری تھا اگر عمران خان اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے اور اس خرابی کی اصلاح میں کامیاب ہوئے تو مستقبل کے منظر میںوہ پارٹی کو ایک معقول مقام دلا نے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کئی ضمنی انتخابات کے بعد کنٹونمنٹ انتخابات نے بتادیا ہے کہ تین سالہ اقتدار کے باوجودپنجاب کی زمینی حقیقتوں میں تبدیلی نہ آنا ان کی سیاست کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔