کھیل اب شروع ہوا

افغانستان میں تاریخی تبدیلی کے بعد امریکا نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے نئے کھیل کا آغاز کیا ہے ، امریکا کو یہ یقین ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ہا تھو ں شکست کے بعد خطے میں چین اور روس طاقت ور ملک بن گئے ہیں اور امریکا کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے ، طالبان کی جیت کے نتیجے میں ایک نیا بلا ک وجو د پذیر ہورہاہے جو امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے نیک شگون نہیں ہے چنانچہ امریکا نے جنو بی ہند میں اپنے اسٹرٹیجک پارٹنر کو بھی دلا سا دینے کی غرض سے 24 ستمبر کو سکیورٹی کائونٹر تنظیم کا اجلاس طلب کر لیا ہے اس تنظیم میں امریکا ، جا پان ، آسڑیلیا شامل ہیں بھارت کو بھی اجلا س کی دعوت دی گئی ہے یہ بظاہرچین کے خلاف ایک دفاعی تنظیم ہے لیکن بھارت کی اس میں شمولیت افغانستان کی صورت حال کے پیش نظر کی گئی ہے ، اگر حالا ت کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے ایسے عوامل نظر آتے ہیں کہ مستقبل قریب میں نہ تو علاقہ میں بھارت کو پہلی جیسی حیثیت حاصل رہی اورنہ امریکا دبدبا برقرار رہا ہے ، بھارت کسی زما نے میں روس کا طفیلی ملک تھا اب وہ امریکا کی گود میں گرا ہوا ہے یہ بات روس کو بہت کھٹکی ہے چنانچہ روس کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ رشتے مضبوط ہو ں ، پاکستان کی امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا ء کے بعد سے جو سیا سی اورجغرافیائی اہمیت بڑھی ہے اس کے مد نظر چین ، پاکستان ، روس اور بھارت کا اقتصادی ، سیا سی ، معاشی تعاون علاقائی استحکا م میں ایک موثر کر دار ادا کرسکتا ہے چنا نچہ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ نے جب بھارت کا دورہ کیا تو اس کے فوری بعد روسی صدر پیو ٹن نے وزیر اعظم عمر ان خان کو25اگست کو ٹیلی فون کر کے علا قائی صورت حال اورخاص کر افغانستان کے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان اورروس کے مابین جو تعلقات قائم ہیںان کو مزید مستحکم کر نے کے ساتھ ساتھ ان میں بڑھو تی کی ضرورت ہے ، علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے جب چار اسٹرٹیجک پارٹنر کی سیکورٹی تنظیم آسڑیلیا ، جا پان ، فلپائن ، امریکا اجلا س طلب کرنے کااعلان کیاگیا تواس کے فوری بعد یعنی 14ستمبرکو روسی صدر پیوٹن نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی اس ٹیلیفونک بات چیت کو گزشتہ بات چیت کے حوالے سے آگے بڑھایا گیا ، چین نے بھی مشرق بعید کے ممالک کی تنظیم کا اجلاس طلب کر نے پر سخت رد عمل کا اظہا ر کیا ہے چین اور روس دونو ں یہ جا نتے ہیں کہ امریکا نے مشرق بعید میں جو چوکڑا جمع کر رکھاہے وہ چین کے خلا ف استعمال کرنے کی غرض سے ہے ۔ امریکا نے افغانستان کے خلاف خاموش پالیسی اختیا رکر رکھی ہے یعنی وہ خامو ش نہیں بلکہ خاموشی سے اپنے اہداف کی طرف قدم بڑھانے کی مساعی کر رہا ہے ، امریکا نے افغانستان کو تسلیم کر نے کے لیے تین شرائط کا اعلا ن کیاہے کہ افغانستان سے جو افغانی باشندے اور غیر افغانی باشندے یعنی غیر ملکی نکلنا چاہتے ہیں ان کو افغانستان سے نکلنے کی سہولت فراہم کی جائے اور بے چوں چرا نکلنے دیا جا ئے ۔ دوسری شرط خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہے جس میں ان کا مطالبہ ہے کہ کا بینہ میں خواتین کو نمائندگی دی جائے ، امریکا کا خود حال یہ ہے کہ وہا ں خواتین کو ایسے حقوق حاصل نہیںہیں امریکا میں آبادی کی شر ح سے خواتین کو پارلیمنٹ ، کا بینہ ، کسی بھی شعبے میں مو ثر نمائندگی نہیں ہے ۔حتیٰ کہ اج تک کوئی خاتون امریکی صدر نہ بن سکی پہلی مرتبہ سابق صدر کلنٹن کی اہلیہ نے صدارتی الیکشن لڑا وہ بھی منتخب نہ ہو پائیں ۔عمر ان خان شنگھائی تنظیم کے اجلا س میں شرکت کے لیے جارہے ہیں روس بھی اس تنظیم کا ممبر ہے توقع تھی کہ عمر ان خان اور روسی صدر پیو ٹن کی اس اجلا س میں ملا قات ہو جائے گی اور ہمسائیگی کے رشتے ناتے مزید مستحکم کر نے میں مزید پیش رفت ہو جائے گی مگر روسی صد ر کے اپنے خاص اسٹاف میں سے بعض کو کر ونا نے لپک لیا ہے جس کی وجہ سے روسی صدر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ روسی وزیر خارجہ الگ سے ملاقات کر کے تعلقات کو آگے بڑھانے کی بات کر یں گے کا بینہ کی تشکیل کے سلسلے میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیرمتقی نے کہا ہے کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے، کابینہ میںہر قوم سے تعلق رکھنے والے فرد کو نمائندگی دی گئی ہے ان کا یہ کہنا تھاکہ جہا ں بھی ایسی تبدیلی آتی ہے وہاں اپنے اعتماد کے لو گ آتے ہیں افغانستان میںیہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔یہ بات طالبان کی جانب سے بار بار دہر ائی گئی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کر نے کے لیے استعمال کر نے کی اجا زت نہیں دی جائے گی پھربھی امریکا جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے تین شرائط رکھی ہیں اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ طالبان اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ دہشت گردو ں سے روابط نہیں رکھے جائیں گے اور نہ افغانستان کی سرزمین ان کو استعمال کرنے دی جائے گی دوحہ معاہدے میںطالبان تحریر اً یہ تسلیم کر چکے ہیں پھر بھی امریکا ایک ٹانگ پر کھڑ ا نظر آرہا ہے وہ صاف بات کیو ں نہیں کر تا کہ وہ یقین دہا نی چاہتا ہے کہ کشمیر کے مجاہدین کی حمایت نہ کی جائے ۔بہرحال آنے والی ساعتیں امریکی پالیسیو ں کے لیے جھکڑ چلا تی ہوئی نظر آرہی ہیں اور مو سم آبر آلو د ہی لگ رہا ہے۔