Shazray

جاری حالات اور سکیورٹی کے تقاضے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اجلاس میں غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے اشتراک سے صوبے میں غیر ملکیوں کی سکیورٹی کیلئے صوبائی سطح پر خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر ایسے خصوصی سیل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کیلئے پولیس کی اسپیشل سکیورٹی یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔افغانستان کے حالات بالخصوص اور خطے کے بالعموم حالات میں سکیورٹی امور پر مزید توجہ کی ضرورت بڑھ گئی ہے دہشتگردی کے حالیہ سر اٹھائے واقعات بھی حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کے متقاضی ہیں ۔ غیر ملکی افراد اور تعلیمی ادارے خاص طور پر ہدف ہونے کے باعث اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں تعلیمی ادارے خاص طور پر آسان ہدف ہونے اور ماضی قریب کے تجربات کی روشنی میں تعلیمی اداروں کی اپنی داخلی سطح پر اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر فول پروف اقدامات اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے یونیورسٹی کیمپس پشاور کی مختلف جامعات کی سکیورٹی کا مزید سخت کیا جانا اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی جانب سے سکیورٹی سروسز کو لازمی سروسز قرار دیا جانا جبکہ زرعی یونیورسٹی میں مزید 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب جیسے اقدامات احسن ہیں۔ البتہ صورتحال کے تناظر میں یونیورسٹی کی توڑی گئی متنازعہ دیوار کا جوں کا توں رکھے رکھنا اور وہاں پر کسی بیرونی و اندرونی حفاظتی عملے کی عدم تقرری یہاں تک کہ کوئی جالی لگا کر آمدورفت کومسدود نہ کرنے کا عمل احتیاط کے تقاضوں کے برعکس اور خطرناک ہے جس پرفوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک غیر ملکیوں کی حفاظت کے بندوبست کا سوال ہے اس ضمن میں احتیاط کے تقاضوں کا معمول میں بھی خیال رکھا جاتا ہے اس میں اضافہ کی ضرورت سے انکار نہیں البتہ پورے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے اجتماعی اقدامات ہوں تو غیرملکیوں ہی کو تحفظ نہیں ملے گا بلکہ مقامی لوگوں کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔
افغانستان میں پیشہ ور فوج کی تشکیل
طالبان کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے باقاعدہ اور منظم فوج کی تشکیل پرغور جاری ہے اس ضمن میں جلد ہی ملک کے لیے منظم اور باقاعدہ فورس تشکیل دی جائے گی۔ فصیح الدین کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں خانہ جنگی نہیں ہونے دیں گے نئی فوج اہل افسران پر مشتمل ہوگی جن میں گذشتہ حکومت کے فوجی بھی شامل کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جنہوں نے تربیت حاصل کی ہے اور پیشہ ور ہیں وہ ہماری نئی فوج میں استعمال ہوسکیں گے بغیر کسی پیشہ ورانہ تربیت اور بڑے اسلحہ کے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں سے لڑ کر طالبان نے افغانستان کی بھارت سے تربیت یافتہ اس فوج کو کیسے شکست دی جو طالبان کی تعداد سے کئی گنا اور جدید اسلحہ سے لیس تھی۔یہ اپنی جگہ معمہ ہے اور رہے گا۔ شکست و تحلیل کے بعد اب یہ سوال کہیں سے بھی نہیں اٹھ رہا کہ افغانستان کی وہ پیشہ ور فوجی کہاں چلے گئے ظاہر ہے ان کے چند کمانڈر فرار ہوئے باقی آرمی اور پولیس عملہ کی اکثریت تو افغانستان ہی میں موجود ہو گی طالبان آرمی چیف جدید دنیا کے واحد سویلین آرمی چیف ہیں جن کو لڑائی کا عملی تجربہ میدان جنگ ہی میں حاصل ہوا جنگجو طالبان کو اب باقاعدہ تربیت یافتہ اور پیشہ ور فوج کے قالب میں ڈھالنا اور ان کو نظم و ضبط و احکامات کا پابند بنانا وقت کا تقاضا ہے جس کی طرف طالبان آرمی چیف متوجہ ہوئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ فوجیوں کی باقاعدہ تربیت کے لئے افغانستان کی فوج کے سابق انسٹرکٹروں کا انتخاب اور ان کو ذمہ داری دینا شاید موزوں نہ ہو بھارتی انسٹرکٹروں کی تربیت اور امریکیوں سے روابط کے نتائج طالبان کے سامنے ہیں اس تناظر میں طالبان اور افغان نوجوانوں کو باقاعدہ پیشہ ورانہ قالب میں ڈھالنے کے عمل کے لئے ماہر فوجی انسٹرکٹرز کی خدمات کے حصول کے لئے پاک فوج کے تربیت یافتہ ماہر انسٹرکٹروں کی خدمات حاصل کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
پیشہ وارانہ تعلیم کے فروغ میں اہم قدم
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کی وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ملاقات میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے پشاور میں سب کیمپس قیام کا فیصلہ صوبے میں آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم کے خواہشمندوں کے لئے خوشخبری سے کم نہیں اس منصوبے سے پورے صوبے کے طلباء مستفید ہوں گے نیشنل کالج آف آرٹس کے مقامی کیمپس کے قیام سے یہاں اعلی تعلیم میں جدت آئے گی علاوہ ازیں خیبر پختونخوا میں موجود33کامرس کالجز کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق بزنس مینجمنٹ اور آئی ٹی کالجز میں تبدیل کرنے کا قدم بھی صوبے کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔امر واقع یہ ہے کہ عصری تعلیم میں جدت اور نت نئے شعبے متعارف کرانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں صوبے کے سرکاری تعلیمی ادارے اور جامعات بہت پیچھے ہیں نجی تعلیمی ادارے اور جامعات کی اس جانب توجہ زیادہ ہے لیکن طالب علم ان کی مہنگی فیسیوں کے متحمل نہیں ہوتے جس کے باعث سرکاری تعلیمی اداروں اور جامعات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس جانب بطور خاص توجہ دیں۔