Mashriqyat

مشرقیات

کہا جاتا ہے کہ خوشی انسان کے اندر تیرتی رہتی ہے جو اپنے اندر جھانک کر خوشی محسوس کرے وہ خوش اور جو ایسا نہ کر سکے وہ ناخوش مگر یہ عمل اتنا سادہ بھی نہیں خوش ہونے کے عوامل اور اسباب خود ہی پیدا کرنا ہوتے ہیں اور ناخوشی کا سبب بھی اپنا آپ ہی ہوتا ہے ۔ جو لوگ زندگی کو تاریک بنانے میں لگے ہوتے ہیں ان کی کیا کہانی ہو گی جو لوگ زندگی خوبصورت بنانے والے ہوتے ہیں دیکھیں ان کے کیا احساسات اور محسوسات ہوتے ہیں۔عموماً کہا جاتا ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ آپ کتنے خوش ہیں۔ بلکہ اصل خوبصورتی تو یہ ہے کہ دوسرے آپ سے کتنے خوش ہیں۔زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہئے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں۔خوبصورت زندگی خود بخود نہیں بنتی اس کی تعمیر روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ دور حاضر کا انسان تنہا ہے ۔ خود رحمی اور خود ترسی کا شکار ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ جو میرے پاس ہے وہ دوسرے کے پاس نہیں۔ یعنی زندگی کی نعمتوں کے بارے مثبت سوچ نہیں رکھتا ۔ انسان کا ذہن اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی سوچ کے میدان میں سرگرداں رہتا ہے۔ تصوراتی زندگی کی خواہش میں ہوتا ہے اور اسی دوڑ میں بے سکونی و بے اطمینانی میں زندگی گزارتا ہے۔ ہمارے سارے تعلقات، رشتے احساس اور محبت کی بجائے مال و دولت اور مادی مفادات کے گرد گھومنے لگے ہیں اور انہی پر ختم ہو جاتے ہیں۔یہی ہمارے ناخوش رہنے کا سبب اور المیہ ہے جس طرف توجہ دینے کی بھی ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے زندگی کو خوب صورت رکھنے کے لیے محبت کا ہونا لازم ہے۔ اس میں شدت بھی ہوسکتی ہے اور اعتدال بھی۔ یہ کسی بھی روپ کسی بھی رشتے میں ہو سکتی ہے۔زندگی میں امید کی موجودگی بھی اشد ضروری ہے۔ موجودہ دور میں اس سے زیادہ بڑی نعمت میسر نہیں کہ آپ زندہ ہیں۔ اس لیے زندہ ہونے کے ہر لمحے کو بھرپور گزاریں۔ بہت سا مثبت سوچیں اور ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں ۔ آزمائش ختم ہو جاتی ہے ناکامیاں کامیابی میں بدل جاتی ہیں لاحاصل حاصل ہوجاتا ہے بس امید نہ چھوڑیں ۔ زندگی ڈھلنے میں دیر نہیں لگاتی، اس لیے اس کو گزاریں مت بلکہ گلزار بنانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ زندگی لازوال تو نہیں لیکن خوبصورت تو بنائی جا سکتی ہے۔ زندگی کی خوبصورتی ہمارے ذہن کے سفید کینوس پر لگنے والے رویوں کے رنگوں سے منسلک ہوتی ہے۔ اگر ماحول اچھی سوچ کے حامل لوگوں سے مزین ہے تو اس کینوس پر ابھرنے والے رنگ شوخ اور چمکیلے ہوں گے۔ بالکل ایک بچے کے خوابوں کی طرح جو زندگی کو تاروں، تتلیوں اور قوس قزح سے مزین دیکھتا ہے۔