مدح گوئی مجھے آئی نہ قصیدہ خوانی

نون لیگ میں انٹرا پارٹی انتخابات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں ‘ اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں پارٹی کا جو تنظیمی اجلاس منعقد ہوا اس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے پارٹی قیادت کی جانب سے نئے انتخابات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر تنظیم سازی کے بعد نئے عمل کا آغاز کیا گیا جائے گا ‘ قیادت کی جانب سے پارٹی عہدیداروں کو متنبہ کیاگیا کہ ان پر دبائو آسکتا ہے ‘ ہم بھر پور تیاری کے ساتھ انتخابات میںجائیں گے اور ہم ہی جیتیں گے ‘ لیگی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی جلد ٹوٹنے والی ہے ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کے بعد صورتحال پر غور و خوض کے تناظر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیا ہے ‘ حالانکہ کنٹونمنٹ کے حلقوں میں بلدیاتی انتخابات کے جو ”غیرمتوقع” نتائج سامنے آئے ہیں ان کی وجہ سے حکومت نہ صرف سوچ میں پڑ چکی ہے ‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سیاسی صورتحال پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی سازشیں ‘ عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر حملے ‘ بلدیاتی الیکشن نہ کرانا حکومت کے آمرانہ ذہنیت کی عکاس ہیں ‘ حکومت کا مزاج آمرانہ مگر دعوے جمہوری اقدارکی بالادستی کے ہیں ‘ کنٹونمنٹ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج پر یہ تبصرے کئے جارہے ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج نہ صرف باقی ملک میں بلدیاتی بلکہ عام انتخابات پر بھی سوالیہ نشان ثبت کر دیتے ہیں اور سوال اٹھایا جارہا ہے کہ ایسی صورتحال میں حکومت کیا بلدیاتی انتخابات کا رسک لینے کوتیار ہو گی؟بعض حکومتی وزراء نے ‘ الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر سخت اور سنجیدہ قسم کے جو اعتراضات اٹھائے ہیں ‘ الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کا جو رویہ اختیار کیا ہے اس پر الیکشن کمیشن نے سخت ایکشن لیتے ہوئے وزراء کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں ‘ اسی طرح میڈیا کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت جو نئی قانون سازی کرنا چاہتی ہے بلکہ تلی بیٹھی ہے ‘
اس کے خلاف ملک بھر کے صحافی احتجاج کر رہے ہیں اور گزشتہ روز صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر نہ صرف پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں نے دھرنا دیا بلکہ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور وکلاء برادری نے بھی اس دھرنے میں شرکت کی ‘ جس کے نتیجے میں سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی پریس گیلری کو تالے لگا دیئے اور جن لوگوں کو پریس پاس جاری کئے گئے تھے انہیں بھی پریس گیلری میں نہیں آنے دیا۔مجوزہ قانون جس کا مقصد میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے یا تو شاید قانون سازی کے مراحل سے ہی گزر سکے یا پھر اس میں ایسی ترامیم کردی جائیں جن سے اس قانون کی شکل بہت حد تک تبدیل ہو جائے ‘ اگرچہ یہ قانون لایا ہی اسی لئے جارہا ہے جس کا مقصد میڈیا کو بالکل ہی خاموش کرانا اور حکومت پر کسی قسم کی تنقید سے باز رکھنا ہے ایسے لوگ سامنے لائے جائیں گے جن کا کام ہی مدح سرائی ‘ چاپلوسی اور خوشامد ہو ‘ اگرچہ بعض وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس کا مقصد” فیک نیوز” کی روک تھام ہے ،اس کو فارغ بخاری کے الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ
مدح گوئی مجھے آئی نہ قصیدہ خوانی
اہل دربار کی نظروں میں خطرناک ہوں میں
بعض تجزیہ نگار اور سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ جن وزرائے کرام نے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آگ لگانے تک کی بات کی ہے اس کا مقصد اگر ایک جانب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف اٹھائے جانے والے سخت اعتراضات کوروکنا ہے تودوسری جانب ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس میں کسی بھی وقت فیصلہ آنے کا
خوف ہے ‘ اسی طرح الیکٹرانک ووٹنگ مشین اس وقت حکومت کے لئے بقاء کا باعث بن چکا ہے ‘ کیونکہ حکومتی کارکردگی نے عوام کو جس صورتحال سے دو چار کر دیا ہے اس کے بعد عوام سے ووٹ کے ذریعے ایک بار پھر اقتدار کی توقع عبث ہے ‘ اور جس طرح اپوزیشن دعوے کر رہی ہے کہ الیکٹرانک مشین کا مقصد”سائنسی دھاندلی” کرانا ہے جس کا کوئی ثبوت بھی نہیں مل سکے گا اور کام بھی بن جائے گا ‘ اسی لئے حکومتی حلقے ان دنوں جو ”چومکھی” لڑ رہے ہیں اس کا مقصد کہیں پہ نگاہیں ‘ کہیں پہ نشانہ ہے ‘ جبکہ جس طرح نون لیگ کے حلقوں نے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا عندیہ دے کر کہا ہے کہ انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں ‘ یعنی وقت سے پہلے بھی کرائے جا سکتے ہیں ‘اور یہ جو وزیر اعظم نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی بات کی ہے تو شاید وہ اس سے ”سیاسی مارکیٹ” کا بھائو معلوم کرنا چاہتے ہیں ‘ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کااعلان کب ہوتا ہے؟ کیونکہ ادھر ہمارے ہاں خیبر پختونخوا میں تو سرکار بلدیاتی انتخابات کرانے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی ‘ کہ وہ جو پشتو کی ایک کہاوت ہے کہ پانی میں چھری کا عکس نظر آنا ‘ تو حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو حشر کنٹونمنٹ انتخابات میں اہل پشاور نے حکومتی جماعت کا کیا اس کے بعد کھلی آنکھوں ”مکھی” نگلنے کا رسک کون لے ؟ یعنی بقول شکیل جاذب
تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں
مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں
ویسے بھی چھائونیوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد سرکاری حلقوں کو چپ سی لگ گئی ہے اور خبر یہ بھی سامنے آئی تھی کہ پشاور میں اپنی”فتح” کا جشن منانے کے لئے جو لوگ بڑے شوق سے اکٹھے ہوئے تھے ‘ نتائج جوں جوں آتے رہے وہ لوگ مایوسی کی چادراوڑھ کر آہستہ آہستہ سرکتے رہے ‘ یعنی ان کے دل کی دل ہی میں رہی ‘ اور اس کے بعد اب تک ان پر خاموشی چھائی ہوئی ہے ‘ رہی سہی کسر بے پناہ مہنگائی ‘ بے روزگاری اور کس نمی پرسدکہ بھیا کیستی والی صورتحال نے پوری کر رکھی ہے ۔