عالمگیر معاشرہ کے تقاضے

حجتہ الوداع کے موقع پر جب دین کی تکمیل کی آیت کریمہ نازل ہوئی تو آپۖ نے خطبۂ عظیم اس موقع پر بنی نوع انسان کو عطا فرمایا، اُس میں معاشرے کی بنیادی اکائی میاں بیوی سے لیکر کلکم مسئول عن رعیتہ (تم میں سے ہر ایک سے اُس کے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا) تک حکومتوں اور ریاستوں کیلئے رہنماء اصول وہدایات موجود ہیں۔ انسانی حقوق کیلئے آج تک جتنے قوانین بنے ہیں ان سب کا مصدر ومنبع یہی خطبۂ حجتہ الوداع ہے۔ اسی خطبہ میں مرد وعورت کے حقوق کو انسانیت کی بنیاد پر برابر ومساوی قرار دیکر مرد وزن میں عزت وتکریم اور فوقیت کا معیار تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔ قتل انسانی کو گناہ کبیرہ قرار دیکر دورجاہلیت میں قتل شدہ لوگوں میں سے اپنے خاندان کے فرد کے قاتل کو معاف کراکر آئندہ کیلئے قصاص کو قانون کے طور پر نافذالعمل قرار دیکر گویا انسانی جان کی حفاظت کا انتظام کرایا۔
سود کو ہمیشہ کیلئے حرام دے کر انسانیت کے معاشی استحصال کی راہیں مسدود کردیں، طاقتور اور کمزور کو حقوق انسانی کے تناظر میں برابر قرار دے کر جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا راستہ بھی بند کر کے معاشی مساوات کیلئے زکواة، میراث، صدقات، خیرات اور بیت المال کا نظام قائم فرمایا۔ اس کیساتھ ہی اسلامی ریاست کے دیگر اصولوں کو مدینہ طیبہ میں یوں عملی صورت دی کہ چالیس برس کے مختصر عرصے میں دنیا کے دوعظیم براعظموں ایشیاء اور افریقہ میں ایک عالمگیر اسلامی معاشرہ وجود میں آیا۔ اس عالمگیر معاشرے کی بنیادی پہچان احترام آدمیت وانسانیت تھی اور جب تک اسلامی حکومتوں میں یہ قوانین نافذ رہے، دنیا واقعی ایک گلوبل حکومت کے تحت ایک آبرومندانہ زندگی گزار رہی تھی۔ لیکن جب مسلمانوں نے عالمگیر معاشرے کے تقاضوں کی تکمیل میں کوتاہیاں برتنی شروع کردیں تو حکومت وریاست اور زمین ووسائل کا انتظام ونصرام اُن اقوام کو مل گیا جن کے ہاں انسانی عقل ودماغ ہی کو کل کا درجہ حاصل تھا۔ اُن کے پاس عقل وشعور کیساتھ الٰہی رشد وہدایت کی روشنی نہ تھی۔ نتیجہ وہی نکل آیا جس کا ذکر بسیویں صدی کے بہت بڑے اسلامی مفکر مولانا سید ابولحسن علی ندوی نے ''ماذاخسرالعالم بانحطاط المسلمین'' جیسی انقلاب آفرین اور فکر انگیز کتاب میں کیا ہے۔ یہ بلند پایہ کتاب عربی زبان میں غالباً اس لئے لکھی گئی کہ شاید عرب دنیا ایک دفعہ پھر اپنے شاندار ماضی کی طرف رجوع کرنے پر مائل ہو جائیں لیکن عربوں نے تو تیل کی دولت پانے کے بعد قسم کھائی ہے کہ دنیا میں تو بس ''بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست'' ہی اول وآخر چیز ہے۔ کسی خیرخواہ نے اس کا اُردو ترجمہ ''انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر'' کے عنوان سے کیا کہ شاید عجم میں کوئی اس طرف مائل ہو کر اُمت کو دوبارہ دنیا کی زمام اقتدار ہاتھوں میں لینے کا فریضہ سر انجام دینے کی تو فیق دے''۔ کاش یہ شاہکار کتاب ہمارے تعلیمی اداروں میں بطور نصابی کتاب پڑھائی جاتی کیونکہ اس میں مولانا مرحوم نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کی خونچکاں داستان رقم کی ہے۔ آپ نے اس کتاب میں عام انسانی تاریخ اور اسلامی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا ہے کہ خاتم النبیینۖ کی بعثت کس جاہل ماحول میں ہوئی اور پھر آپۖ کی دعوت وتربیت کے باوصف ایک ایسی اُمت تیار ہوئی کہ جب اُس نے دنیا کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیا تو دنیا کا رخ ہمہ گیر خدا فراموشی سے ہمہ گیر خدا پرستی کی طرف تبدیل کیا اور پھر جب اُمت کے زوال کی صورت میں قیادت وامامت مادہ پرست یورپ کو منتقل ہوئی تو دنیا پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے۔
اس کتاب کے موضوعات اور سوالات کے جوابات آج ذہن میں اس لئے تازہ ہو کر وارد ہوئے کہ خدا بیزار سائنس نے انسانیت کو کہنے کو تو عالمگیر معاشرے میں تبدیل کرلیا کہ انگلی کی ایک کلک پر مشرق ومغرب کنیکٹ ہو جاتے ہیں لیکن مادی لحاظ سے یوں تقسیم کیا ایک دوسرے سے لاتعلق اور تنہا کر دیا کہ ایک جراثیم کے خوف سے (جو بقول بعض انسان کے اپنے ہاتھوں کی پیدا کردہ ہے) گھروں میں مقید کر کے ایک ہی محلے اور شہر میں لاک ڈاؤن پر مجبور کیا اور پھر غضب خدا کا اسی مادہ پرستی نے انسانوں کو ایسے طبقات میں تقسیم کردیا ہے کہ بعض کو زندگی کے ڈور کے ربطہ وبندھن کیلئے دووقت کی روٹی بمشکل میسر ہے اور دیگر کو سمجھ نہیں آتا کہ اپنی اربوں کھربوں کیسے خرچ کرلیں۔ کرونا کی تکلیفات، مصائب خوف اور ڈر اور جانی اتلاف وہلاکتوں کو سنتے دیکھتے، سوچ سوچ کر ذہنی اذیت ہوتی ہے کہ وطن عزیز میں مغرب اور مادہ پرستی کے ماحول وافکار سے متاثر ہمارے حکمرانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں نے اپنے محکوم ومجبور عوام کیلئے صوبائی اور ضلعی سطحو ں پر ڈھنگ کے ہسپتال تک قائم نہیں کئے کہ ان بے چاروں کی آخری سانسوں میں تو آرام نصیب ہونے کا سبب بنتے۔ ریاستی سرمائے کو اپنے مفادات کیلئے اور کمیشن کیلئے خوب خوب استعمال کیا۔ کیا عوام پاکستان کا یہ حق نہیں ہے کہ موٹروے اورنج ٹرین، بی آر ٹی اور دیگر اسی قبیل کے منصوبے اپنی جگہ لیکن ان ظالموں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ خدانخواستہ اگر ملک پر کہیں کوئی آفت، وبا، تکلیف یا جنگ کی صورت پیش آجائے تو یہ غریب عوام اپنے داغ داغ تنوں پر مرھم رکھوانے کیلئے کہا جائیں گے۔ کرونا سے اللہ تعالیٰ خیر وعافیت سے دنیا کو نکال دے تو اہل شعور ودانش کو سوچنا ہوگا کہ گلوبل معاشرہ کے چلانے کیلئے خالق کائنات کا قانون نافذ کرنا منظور ہے یا اسی نظام کے تحت رہ کر تباہ وبرباد ہونا۔
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات