نائن الیون کے بعد ہمارا سماج

جب تک ہم اپنے گھر، علاقے اور مُلک میں ایک ترکیبی وحدت، اخوت اور محبت سے جڑے ہوئے رہتے ہیں تو احترامِ انسانیت اور باہمی تعلقات کے رشتے پروان چڑھتے ہیں۔ آس پاس زندگی بڑی پُرکیف فضا میں سانس لے رہی ہوتی ہے اور ہر فرد مثبت انداز میں اپنے روزمرہ کے معاملات طے کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ لیکن جونہی اِن رشتوں میں دراڑ آجاتی ہے تو بد امنی، افراتفری، تباہی اور نفرت کی خلیج درمیان میں آکر انسان کو انسان سے جدا کر دیتی ہے۔ ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ آزادی کے بعد یہاں ایسے نا خوشگوار واقعات پیش آئے ،جس کی وجہ سے یہ ملت اپنی فکری بنیادیں صحیح معنوں میں اُستوار نہ کر سکی اور یوں سماجی اقداراور اخلاص سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے۔اپنے ایک مرحوم ادیب دوست سے جب بھی ملنا ہوتا تو اکثر کہا کرتے کہ ہم سب کسی تصورِ حیات کا سہارا لیے بغیر جبلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں ۔ اسی باعث فرد اپنے معاشرہ میں اجنبی ہے اور ذہنی افراتفری کا شکار ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس اجنبیت میں جمہوریت کے عدم استحکام، آمریت، پاک بھارت جنگوں اور افغان مہاجرین نے جہاں مُلکی حالات کو متاثر کیا وہاں امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی اور افغانستان میں القاعدہ کو نیست ونابود کرنے کی سازش سے پاکستان کو بھی جنگی حالات کا بّری طرح سامناکرنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد جو نسل پاکستان میں جوان ہوئی ،اس نے بم دھماکوں ، خون خرابے اور ایک انجانے خوف میں پرورش پائی۔امن و سکون نہ رہا۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی صوبائیت اور برادی ازم کی لپیٹ میں تھا اور اب اس دہشت میں اپنے بچاؤ اور بقا کی فکر میں پڑ گیا۔ ہر طرف مرگ اور خوف نے سوچ کے دھارے بدل دئیے بلکہ ایسے منجمد ہوئے کہ معاشرتی اصلاح کے آثار معدوم ہو کے رہ گئے اور فکری نشوونما کا سلسلہ رک گیا۔ اس خلفشار نے ہماری نئی نسل کے افکار و اذہان کو بڑا نقصان دیا۔ جنگ کے نتیجہ میں پیش آنے والے بے شمار مسائل کو جب عوام حل نہیں کر پاتے تو بسا اوقات وہ اخلاقی اور مذہبی حدود و قیود سے بھی آزاد ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے نائن الیون کے بعد کی صورتحال نے ہمارے ہاں بھی انسانی رویوں کو کئی نازیبا افعال کا گرویدہ بنا دیا۔جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو امریکہ نے طالبان کو عسکری تربیت کے ساتھ اسلحہ اور سرمایہ بھی فراہم کیا۔ اس وقت مسلمان مجاہدین ‘عالمی امن’ کے محافظ تھے اورامریکی مفادات تیل کے ذخائر سے وابستہ تھے۔نائن الیون اس پس منظر میں امریکی پالیسی یابالفاظِ دیگر نیو ورلڈ آرڈر کا پیش خیمہ بنا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک اپنی اس دہشت گردی اور سفاکانہ کارروائیوں کا جواز مسلمان مخالف پراپیگنڈے سے فراہم کرتے رہے۔ خود کو مظلوم اور مسلمان کو بطور ایک دہشت گرد پیش کرتے رہے اور اب بھی اپنے اس مکروہ کھیل میں پیش پیش ہے۔ اس حوالہ سے مغربی میڈیا نے مسلمانوں اور اسلام کو اپنی کڑی تنقید کا نشانہ بنائے رکھا۔ مغربی دُنیا اس پراپیگنڈے سے یہ سمجھنے لگی کہ مسلم ممالک ان کی زندگی کے انداز واطوار کے لیے مکمل خطرہ بن چکے ہیں ۔ مغربی میڈیا نے اسلام پسندی کے خلاف ایسا محاذ قائم کر لیا کہ اب نئی نسل اپنے اقدار چھوڑ کر مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنانے لگی۔ شرم و حیا کے تما م معیار بدلنے لگے ۔ جن بڑوں نے احتجاج کیا،چادر و چار دیواری کے محافظ بنے تو تو ان کی پگڑیاں اُچھال دی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ خلفشار مفکرین کو اہم امور سے بھی بے نیاز کرتا گیا۔ شرح خواندگی شرمناک حد تک گرنے لگی، مُلکی کرنسی کی گراوٹ میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، ادارے آپس میں الجھاؤ کا شکار ہیں، سیاسی رہنما اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ سن رہے ہیں اور مُلک کی اقتصادی حالت بہتر نہیں ہو رہی۔ پورا سماج ایک عجیب ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ہر کوئی اپنا کام طاقت اور پیسے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔اعتبار و اعتماد کا فقدان ہے۔مذاکرات، مکالمہ،دلائل اور مذاکرہ کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ نائن الیون نے ہمارے معاشرتی اخلاق اور روایات کو روند ڈالا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اگر اس مہم کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے ذہنی پرداخت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ عمر رسیدہ لوگوں نے بھی میڈیا کے ذریعے ہر اول فول معلومات پر کان دھرے اور یوں وہ اخلاقی و فکری ابتری کا شکار ہوئے۔ ہر ادارے میں کام کرنے والے خود کو یا اپنوں کو نوازنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہر ایک دوسرے کو ہدفِ تنقید بنا رہا ہے اور اپنی اصلاح سے بے نیاز ہے۔یہاں سب نے امانت، شرافت اور انصاف کے ترازو الگ الگ بنا رکھے ہیں ۔ نائن الیون کے بعد حادثات نے جانی ومالی نقصان کے ساتھ نفسیاتی اور فکری نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ہاں بیرونی امداد کے ذریعے اصلاح کی جو کوششیں ہوئی ہیں،وہ اپنی سمت کے تعین میں ناکام رہیں۔ اب تک حوصلہ افزا نتائج اس لیے نہیں نکلے کہ ہمارا سماجی رویہ مناسب نہیں اور ذہن کئی مخمصوں اور خدشات کی وجہ سے اچھائی قبول نہیں کر رہا۔
٭٭٭٭