ریڈ لسٹ سے پاکستان کا استثنیٰ

سفری پابندیاں ختم کرتے ہوئے برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا ‘ اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ‘ کورونا پھیلنے کے بعد برطانیہ نے پاکستانیوں پر سفری پابندیاں عاید کرتے ہوئے انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک رکھا تھا ‘حالانکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی جبکہ وہاں وباء نے ایک خطرناک صورت اختیار کر رکھی ہے ‘ مگر برطانیہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ ترکی ‘مصر ‘ مالدیپ ‘سری لنکا ‘ کینیا ‘ عمان اور بنگلہ دیش کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنا رکھا تھا ‘ اب پاکستان سمیت مذکورہ ممالک کو بھی ریڈ لسٹ سے خارج کرکے 14 روزہ قرنطینہ کی پابندی سے استثنیٰ قرار دے دیا ہے ‘ پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ گزشتہ پانچ ماہ مشکل رہے ‘ کیونکہ ان کا انحصار پاکستان اور برطانیہ کے قریبی تعلقات پر ہے ‘ ایک اور ٹویٹ میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا ‘ تاکہ دونوں ممالک میں ڈیٹا شیئرنگ اور عوامی صحت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے ‘ یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میںڈالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو رہے تھے اور پاکستان نے کورونا کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات ‘ ویکسین لگانے میں اضافے اور مریضوں کی تعداد بتدریج کم ہونے کے بعد برطانیہ سے مطالبہ بالکل جائز تھا وہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کرے ‘ جس پر مثبت رد عمل بالآخر آہی گیا جودونوں ملکوں کو اس مرض سے نمٹنے اور صحت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔
صوبے میں بلدیاتی انتخابات؟
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم جلاس21 ستمبرکو اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے جبکہ سیکرٹری بلدیات کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے ‘ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے معاملہ صوبائی کابینہ میں رکھتے ہوئے اس بارے میں فیصلہ کرے اور کمیشن کو آگاہ کرے ‘ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے بھی ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا حکم دیا تھا ‘ تاہم ابھی حال ہی میںکنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھ کر مبینہ طورپرپنجاب میں حکمران جماعت کے اہم رہنمائوں نے وزیر اعظم کو ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مشورہ دیا ‘ بہرحال اب جبکہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اجلاس طلب کرلیا ہے تو دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اجلاس میں کیا موقف اختیار کرتی ہے۔