مشرقیات

یہ فطری امر ہے کہ انسان ماضی میں کھویا ہوتا ہے وہ بچپن کے دن خاص طور پر یاد آتے ہیں کوئی کتنا بھی ترقی کرے وہ دیہاتی طرز زندگی کے سحر سے کبھی نہیں نکلتا شاید انسان کا خمیر جہاں سے اٹھے وہی جگہ ہی ان کو بھاتی ہے یا پھر بچپن کی سنہری یادوں کی لڑی سے جڑے ایام ناقابل فراموش ہوتے ہیں سوچیں اور محسوس کریں تو انسان کی زندگی کا ہر دور خوبصورت ہوتا ہے۔ اس بات کو ہم جب تک جانتے ہیں جب وہ دور گزر چکا ہوتا ہے ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی صرف زندہ رہنے کا موقع نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ہر لمحے سے خوشی اور مقصدیت کشید کرنے کا نام بھی ہے۔ نہ جانے کیوں ہم زندگی کے ساتھ سفاکانہ رویہ اپنائے رہتے ہیں۔ اس کا اندازہ ہمیں اپنے ارد گرد تیزی سے پھیلتی بے حسی اور انتشار کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہم جدھر دیکھتے ہیں نفرت، ناقدری اور عدم برداشت کی گھٹا نظر آتی ہے۔ اب یہ بادل اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ اس کی وجہ سے امید کے آسمان کے تارے اور خوشیوں کے کھلتے پھول نظرانداز ہو چکے ہیں۔ انسان نے اپنے گرد جانے کتنے ہی مایا جال بن رکھے ہیں۔ کوئی رشتوں کا ، کوئی اسٹیٹس کا ، مگر زندگی کی آسودگی کے لئے اس کو بنیاد بناتے ہوئے وہ یہ بھول گیا کہ یہ جال زندگی کا حسن گہنا رہے ہیں۔ مگر اس کو اب بھی نذر انداز کر سکتے ہیں۔ بس محسوس کرنے کے لئے سوچ میں وسعت لانی ہوگی۔ نظریہ اور ہر چیز کو پرکھنے کا انداز بدلنا ہو گا۔اپنی زندگی کو گزارنے کا اختیار سراسر آپ کا ذاتی ہے کہ کیسے گزارنی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک اچھا اور بہترانسان بنا کر اس کے اہل ثابت کرنا ضروری ہے۔اسے زندہ اور باشعور انسانوں کی طرح بسر کیجئے۔ اس کے لئے ضروری ہے ہم زندگی جیسی لازوال اور بے مثال نعمت کو محبتوں، چاہتوں اور انسانیت کے نام کریں۔ زندگی کا احترام کریں۔ شکرگزاری کا یہی تقاضا ہے۔ باوقار اور شاندار زندگی جینا ہے تو زندگی کو بامقصد بنائیے۔ اپنی ذات کو دوسرے انسانوں کے لئے رحمت ثابت کریں۔ دوسروں کا احترام کیجئے، دوسروں کے کام آئیے، آسانیاں پیداکیجئے، لوگوں کی قدر کیجئے، برداشت پیدا کریں، ہر ایک سے محبت کرنا سیکھئے۔ محبت اور امید ہی وہ طاقت ہے جس سے ہم اس کرہ ارض اور اس پر سانس لیتی زندگی کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ زندگی خوبصورت ہے لیکن ہمیشہ پاس رہنے والی نہیں ہے۔ اس لئے اس کی قدر کیجئے۔زندگی خوشی سے گزارنے کا راز دوسروں کو خوش رکھنے اور خوش دیکھنے سے عبارت ہے جس سے کسی کی خوشی برداشت نہیں ہوتی تو وہ شخص خود بھی مسرور زندگی سے دور رہتا ہے خوش رہنا ہے تو دوسروں میں خوشیاں باٹنے کا سامان کریں نہیں کر سکتے تو اس کی آرزو ہی کریں خوش رہو گے۔جس طرح ہر چیز اپنی اصل کو لوٹتی ہے اس طرح انسان بھی ا پنے اصل کو لوٹنے پر مجبور ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ اصل کو لوٹنے ہی میں خوشی کا راز پوشیدہ ہے مصنوعی پن کبھی باعث خوشی نہیں ہوا کرتا۔