یکساں نصاب،اصلاح کاطریقہ

ملک میں یکساں قومی نصاب کے حوالے سے کئی ایسے حل طلب معاملات ہیں جنہیں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف سطح پر بہت سے لوگوں نے اجاگر کیا ہے۔ ان میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد یکساں قومی نصاب کی قانونی حیثیت سے لے کر اس کے ” کم سے کم معیارات” پر پورا نہ اترنے تک کے معاملات شامل ہیں۔ حتیٰ کہ اسلامیات اور دوسرے مضامین میں مذہبی مواد کا اضافہ کئے جانے سمیت کئی پہلوئوں پر بات کی گئی ہے۔ یکساں قومی نصاب کی تیاری کے حوالے سے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درسی کتب خاص طور پر صنفی مساوات، دقیانوسی تصورات، زبان اورحتیٰ کہ پرنٹنگ کے معیار پر بھی تنقید کی گئی۔ اس کے علاوہ درسی کتب کی منظوری اور جس طریقے سے یکساں نصاب کو نافذ کیا جا رہا ہے اس پر بھی تنقید ہورہی ہے۔ مذکورہ صورتحال پر ابتدائی طور پر تو حکومت کا یہ کہنا تھاکہ نقاد ان معاملات پر بات کررہے ہیں جو سیاق وسباق سے ہٹ کر ہیں، ایسی چیزوں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے جو گزشتہ قومی نصاب میں بھی شامل تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ نصاب سے جو مسائل تھے، انہیں یکساں قومی نصاب میں حل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ بعد ازاں حکام نے یہ کہنا شروع کیاکہ یکساں نصاب پر تنقید کرنے والوں کا تعلق مراعات یافتہ طبقوں اور مافیاز سے ہے اور یہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیںجو مغرب سے متاثر ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی مراعات یافتہ ہے تو کیا اس کی تنقید کم اہمیت رکھتی ہے۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔ واضح طور پر ریاست اس پر بات کرنے پر آمادہ نہیں تھی جو کچھ تنقید کرنے والے کہہ رہے تھے۔ تاہم حالیہ دنوں میں حکومتی لہجے میں کچھ تبدیلی آئی اوریہ مفاہمتی نظر آیا۔ اگرچہ لفظ”یکساں” اور معیارات یا اٹھارہویں ترمیم جیسے بڑے معاملات پر ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ، لیکن ہم نے ایسے بیانات سنے ہیں کہ جن میں تسلیم کیا گیاکہ یکساں قومی نصاب اور اس کے تحت چھپنے والی درسی کتب میں بہتری کی گنجائش ہے اور تجاویز کی روشنی میں نصاب اورکتب پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جائے گی۔ آیا یہ تنیقد کی توپوں کو خاموش کرانے کی سیاسی چال تھی یا حقیقی معنوں میں مذاکرات کی حقیقی پیشکش تھی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ موجودہ یکساں قومی نصاب کی دستاویز اور کتابوں کے حوالے سے ماہرین سے خصوصی مشاورت کی گئی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ چار سو سے زائد ماہرین ( جن میں ملکی وغیرملکی شامل ہیں) کی تجاویز اور رائے لی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ خامیوں سے بھری دستاویز ابھی تک ہم نے کیوں برقرار رکھی ہوئی ہے اور پھر کتابیں سکولوں کو کیوں بھیجی جارہی ہیں۔بظاہر ایسا یکساں قومی نصاب رائج کیا جارہا ہے جو پہلے سے ہی بہت تنقید کی زد میں ہے۔ یہ سوال بھی دلچسپی کا باعث ہیں کہ ماہرین کی مشاورت اور ان کی رائے کو ”ایڈرسڈ” کرنے کا کیا مطلب ہے، اگر آپ کسی معاملے پر ایک ماہر سے کوئی رائے لیں تو کیا یہ مشاورت ہوتی ہے، اگر تجاویز لے لیں لیکن انہیں پڑھیں نہ معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے زیر غور لائیں تو اس کا کیا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ماہرین کی رائے کو”ایڈرسڈ ”کیا گیا ہے۔ وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر بھی ایسی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیںکہ کن ماہرین سے تجاویز لی گئی ہیں، ان تجاویز کو کیسے مرتب کیا گیا اور اصل عمل میں انہیں کیسے شامل کیا گیا ہے؟ ماہرین کے علاوہ دیگر لوگ بھی یکساں قومی نصاب پر لکھ رہے ہیں ۔کیا حکومت نے شائع ہونے والی ان تمام تجاویزکوجمع کیا ہے اور ان پر کوئی کام کررہی ہے؟ حکام کا یہ توکہنا ہے کہ ہم سن رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتا رہے ہیں وہ سن کیسے رہے ہیں؟ ایسے کسی عمل کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے جس کے تحت اصلاحات کی جا رہی ہیں، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کس طرح لوگ اپنی رائے اورتجاویزدے سکتے ہیں ۔ جب کسی باضابطہ طریقہ کار کا اعلان ہی نہیں کیا گیا تو پھر کس طرح لوگ جان سکیں گے کہ ان کی رائے کو سنا گیا ہے اور انہیں جواب بھی ملے گا،ایسی صورتحال میں مذاکرات کیسے ہوں گے؟ عموماً ا سٹیک ہولڈرز کے اجلاس صرف یہ دیکھانے کے لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں سے مشاورت کی گئی ہے اور انہیں سنا گیا،اس میں تجاویز کو زیر غور لانے کی نیت شامل ہی نہیں ہوتی ۔اب وزارت تعلیم چھٹی سے آٹھویں جماعت کے نصاب پر بھی کام کررہی ہے اور ممکن ہے کہ نویں سے بارہویں کے نصاب پر بھی جلد کام شروع ہو جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس عمل میں پرائمری کی سطح کے نصاب کی تیاری کے تجربات کی بنیاد پر کیا تبدیلیاں لائی جاتی ہیں تاکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور مشاورت یقینی بنائی جائے ۔ اگر حکومت یکساں قومی نصاب میں بہتری کے حوالے سے مناسب مشاورت اور تجاویز لینے میں سنجیدہ ہے تو اسے ایک ایسے شفاف اور قابل اعتماد عمل کا اعلان کرنا پڑے گا جس کے ذریعے وہ مشاورت کرے اور تجاویز کا جائزہ لے ۔ ابھی تک تو ایسے کسی باضابطہ عمل کا انتظارہی ہے۔ مختصراً ابھی یکساں قومی نصاب اور درسی کتب میں بہتر لانے کی باتیں محض باتیں ہیں۔(بشکریہ، ڈان، ترجمہ: راشد عباسی)