Shazray

مہنگائی بہرحال مسئلہ تو ہے

صوبے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مہنگائی کے خلاف مظاہرے کئے گئے ریلیاں نکالی گئیں جس پر رد عمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ مہنگائی کی آڑ میں حکومت کے خلاف ان کا احتجاج عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔کامران بنگش نے کہا کہ کرپشن کے عالمی ریکارڈ بناکر قومی معیشت کو دیوالیہ کرنے والوں کو قوم اچھی طرح جانتی ہے اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ یہ عناصر احتجاج احتجاج کھیل کر مگرمچھ کے آنسو بہا کر عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں بلکہ لوٹ کھسوٹ کی دولت اور سرمایہ قومی خزانہ کو واپس کردیں ۔قیمتیں خود بخود نیچے آجائیں گی دریں اثناء حکومت نے ریورس گیس ٹیرف پلان تجویز کیا ہے جس کے تحت صارفین کو ملنے والی 43 فیصد گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوجائے گا۔مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت نے پاکستان فوڈ سکیورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی سعی ضرور کی ہے۔لیکن حقیقت میں یہ مسئلہ قانون سازی کا نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد کا ہے۔ اگر حکومتی اور انتظامی مشینری قوانین پر عمل یقینی بنا سکیں تو جو قوانین اب تک بن چکے ہیں عوام کو مناسب قیمت میں معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے وہی کافی ہیں مہنگائی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں جن میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر168 روپے 90پیسے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کر دی گئی ہیں بجلی کی قیمتوں میں بھی اسی ماہ ردوبدل کی گئی ہے بجلی اب مزید مہنگی ہو گی بلوں میں اضافہ ہو گا اس وقت ڈالر ‘ پٹرولیم مصنوعات ‘ قرضوں ‘ ایل این جی ‘ بجلی ‘ گیس ‘ آٹا اور چینی کی قیمتیں اور شرح تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیںادویات کی قیمتوں میں مزیداضافہ ہو گیا ہے۔ موجودہ تین سالہ دور حکومت میں روپے کی قدر میں 38 فیصد کمی آئی۔یہ تمام عوامل مہنگائی میں اضافہ میں بنیادی عوامل کا کردار ادا کرتے ہیں غربت وافلاس حکومت کے دعوئوں اور معیشت کے استحکام کی باتوں سے عام آدمی اس لئے متفق نہیں کہ ان کو جن حالات کا سامنا ہے وہ حکومتی دعوئوں سے متصادم اوربرعکس ہے ان حالات میں ملک کو ایک مضبوط اقتصادی نظام اور درمند معاشی مسیحائوں کی داد رسی کی بروقت ضرورت ہے اگرچہ مہنگائی ہر عام آدمی کا مسئلہ ہے جس سے جماعتی تعلق سے بالاتر ہو کر سارے لوگ یکساں متاثر ہوتے ہیں اس لئے یہ سیاسی مسئلہ تو ہر گز نہیں لیکن عوام جس چیز سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس سے جو ماحول پیدا ہوتا ہے اس فضا سے سیاسی جماعتوں کا فائدہ اٹھانا فطری عمل ہے اور یہ معمول کا عمل ہے حکومتی موقف اپنی جگہ حکومت کو مہنگائی میں کمی لانے کے لئے اقدامات میں ناکامی کا سامنا ہے اسے کامیابی میں تبدیل کرکے ہی مخالف سیاسی جماعتوں کو مسکت جواب دیا جا سکتا ہے اور مہنگائی میں کمی لا کر عوام کو ریلیف دینا ہم خرما وہم ثواب کا موجب آمر ہوگا۔
بھارتی سازش بے نقاب
کابل ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا کر 13امریکی فوجیوں سمیت 170افراد کو ہلاک کرنے والے خود کش بمبار کے بھارت میں تعلیم حاصل کرنے کے انکشاف سے ساری سازش اور کہانی کو سمجھنا مشکل نیہں بھارتی قید میں ان کا ”را” سے روابط اور تخریبی کاری کی تربیت کے بعد افغانستان بھجوانا عجب نہیں۔ خود کش بمبار کو ایک خاص موقع پراستعمال کرنے کا مقصد طالبان اور امریکی فوجیوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا ہوسکتا ہے جو ممکنہ تصادم میں تبدیل ہوتا تو افغانستان سے انخلاء کا عمل متاثرہوتا اور شاید ایک نئی جنگ چھڑ جاتی اب جبکہ سازش طشت ازبام ہوچکا تو عالمی برادری کو بھارت کی اس سازش کا نوٹس لینا چاہئے اور آئندہ اس طرح کی وارداتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ سازش کو بروقت سمجھ کر اسے ناکام بنایاجا سکے۔
رہائشی سہولت بارے احسن سعی
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں ارزاں نرخوں پر گھروں کی فراہمی کے لئے اراضی کی نشاندہی کا عمل صوبے کے عوام کی رہائشی سہولیات کے ضمن میں مسائل کے حل کی احسن سعی ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ صوبے میں سستی رہائشی سہولیات کی توقع شاید حقیقت پسندانہ امر نہ ہو اس لئے کہ یہ ممکن ہی نہیں ا لبتہ معقول نرخوں پر رہائشی سہولیات کی فراہمی کا حکومت بندوبست یقینی بنائے تو عوام میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں رہائشی سہولیات کی کمی نہ صرف بڑا مسئلہ ہے بلکہ آبادی میں روز بروز اضافہ کے باعث اس میں مزید اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے جس کے لئے حکومت کی جانب سے جتنے اقدامات کئے جائیں کم ہے عوام کی اس مشکل کا اصل فائدہ پراپرٹی مافیا مختلف طریقوں سے اٹھا رہا ہے اور خود ساختہ کالونیز بنا کر عوام سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کئے بغیر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے یوں عوام معقول رقم خرچ کرنے کے باوجود مناسب رہائشی سہولت حاصل نہیں کر پاتے اس مسئلے کا واحد حل سرکاری سطح پر عوام کو معقول قیمت پر پلاٹ اور تیار مکانات کی فراہمی ہے جس کے لئے حکومت کوشاں ہے توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس ضمن میں وہ تمام وسائل اور صلاحتیں بروئے کار لائے گی جو ممکن ہوں۔