عالمی تقسیم کے سائے کھیل پر

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے راولپنڈی میں کرکٹ میچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کھیلنے سے انکا ر کرکے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شائقین کرکٹ کو مایوس کر دیا ۔ اس فیصلے کا جواز سیکورٹی تھریٹ کو بتایا گیا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ آخر کس نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کان میں دہشت گردی کی دھمکی پھونکی تھی ۔ایسے میں جب نیوزی لینڈ کی سیکورٹی ایجنسیاں خود یہاں آکر حالات کا جائزہ لے کر گرین سگنل دے چکی تھیں اور پاکستان کی ایجنسیوں نے بھی حفاظتی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا تھا ۔حکومت نے غیر ملکی کھلاڑیوں کی حفاظت کے لئے فول پرووف اقدامات کر رکھے تھے ۔اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی ٹیم کا عین وقت پر کھیلنے کا فیصلہ بدلنا شائقین کرکٹ کی سماعتوں پر بجلی بن کر گرا۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے ٹیم کے نہ کھیلنے اور واپسی کا رخت سفر باندھنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی دیکھ بھال پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے تاجکستان سے جسینڈا آرڈرن سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں فیصلہ بدلنے کو کہا مگر وہ اپنے فیصلے پرقائم رہیں جس پر عمران خان نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے یہ فیصلہ کرکے پاکستان کی ایجنسیوں اور سیکورٹی نظام پر سوال کھڑا کر کے پاکستان کی ساکھ خراب کی ہے ۔عمران خان نے پی سی بی کے چیئرمین رمیض راجہ کو یہ معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کو کہا ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے سیاسی فیصلہ قراردیا اور کہا کہ اس میں دستانے پہنے ہوئے ہاتھ ہیں جن کا نام لینا مناسب نہیں۔کرکٹ ملتوی ہونے کے بعد حسب روایت بھارت میں دھمالیں شروع ہو گئیں۔ا نیوزی لینڈ اس وقت آسریلیا کا ہمسایہ اور قریبی اتحادی ہے اور آسڑیلیا کواڈ کے نام سے امریکہ جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر جنوبی چین کے سمندروں میں چین کا گھیرائو کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے ۔کواڈ کا معاہدہ ہی کیا کم تھا اب آسٹریلیا نے برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ آکوس کے نام سے ایک اور معاہدہ کیا ہے اور کواڈ کی طرح یہ معاہدہ بھی چین کے خلاف ہے ۔اس معاہدے نے یورپ کو تقسیم کردیا اور فرانس نے برطانیہ کے ساتھ معاہدے میں بندھنے پر آسٹریلیا پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایک آکوس معاہدے میں آسڑیلیا امریکہ اور برطانیہ نے ایٹمی آبدوزیں چھوڑنے کا اعلان کیا ہے چین نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے ۔ ایک اور معاہدے میں نیوزی لینڈ براہ راست شریک ہے یہ پانچ ملکی معاہدے فائیو آئیز یعنی پانچ آنکھیں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس معاہدے میں امریکہ برطانیہ کینیڈا نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں ۔ایک طرف صورت حال یہ ایک پول کا پورا زور دوسرے پول کو اُبھرنے سے روکنے پر صرف ہو رہا ہے دوسری طرف چین روس،ایران اور پاکستان اس نظام کے توازن کی خاطر ایک نیا پول بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں ۔ پاکستان اس میں اس قدر منہمک ہے کہ اس کے سربراہ کی ایک مہینے میں دو بار روسی صدر پیوٹن سے بات ہوتی ہے اور چین کے حکمرانوں سے کسی بھی وقت بات ہوسکتی ہے مگر امریکہ کے صدر کے ساتھ ابھی تک رسمی ہیلو ہائے بھی نہیں ہوئی ۔ دنیا کی تشکیل نو کا ایک عمل سرعت کے ساتھ جاری ہے ۔ افغانستان میں مغربی بلاک کی شکست نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔انہیں احساس ہے کہ سونے کی ایک چڑیا ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اوروہ اسے اپنی بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں ۔امریکہ سمیت کئی فوجی جرنیل قانون سازا داروں کے کٹہروں میں پیش ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں جہاں سخت سوالوں سے ان کی پالیسیوں کے بخئے ادھیڑے جا رہے ہیں۔مغربی بلاک یہ سمجھتا ہے کہ اسے خفت اور ندامت کا شکار کرنے میں پاکستان کا سب سے زیادہ حصہ ہے ۔اس لئے مغرب ایک زخمی شیرنی کی طرح پلٹ کر وار کرنے کے طریقے سوچ رہا ہے ۔افغانستان میں شلواریں چھوڑ کر بھاگنے والے بھارتی را کے افسر بھی بدلہ لینے کے جذبات سے لبریز ہیں۔ندازہ ہورہا ہے کہ ان کی طاقت کا راز قریبی وسط ایشیائی ریاستیں اور روس کی اشیر باد تھی۔اب نئی ہونے والی تقسیم میں روس کسی اور مقام پر کھڑا ہے اور روس کا مطلب وسط ایشیا کی سابق سوویت ریاستیں بھی ہیں جو اب آزاد ملکوں کے طو رپر کام کر رہے ہیں مگر ان پر روس کاا ثر اب بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس بدلی ہوئی فضا اوربدلے ہوئے زمینی حقائق کے باعث افسانوی کردار افسانہ بن کر رہ گئے ۔اس عالمی تقسیم کے اثرات اب کھیلوں پر بھی پڑرہے ہیں۔نیوزی لینڈ کی طرف سے میچ کی منسوخی کا فیصلہ بھی اپنے اندر سیاسی اثرات لئے ہوئے ہے ۔ابھی کھیل کی ابتدا ہے ۔ جوں جوں دنیا کی تقسیم کے خدوخال واضح ہوتے جائیں گے اس طرح کی رسہ کشی بڑھتی چلی جائے گی ۔مغرب کے ارمان افغانستان میں بائیڈن کے آنسوئوں کی صورت میں بہہ گئے ہیں تو جوابی طور پروہ کچھ نہ کچھ تو کریں گے؟