بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

معاملہ اتنا نازک ہے کہ بندہ بات کیا کرے یعنی صورتحال بقول شخصے گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل والی بن رہی ہے اور بندہ حیران و پریشان ہے کہ بات کرے بھی توکیا ‘ مگر بقول غالب بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر ‘ معاف کیجئے گا یہاں بادہ و ساغر سے اصلی والا بادہ وساغر مراد ہر گز نہیں ہے ورنہ غالب ہی کے بقول صاف صاف کہہ سکتے تھے کہ پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تودے ‘ اب ذرا معاملے کی نزاکت کی بات کر لیتے ہیں ‘اور یہاں بھی مرزا غالب ہی یاد آرہے ہیں جنہوں نے کہا تھا ادھر وہ بدگمانی ہے ادھر وہ ناتوانی ہے ‘ کہ ایسی بدگمانی جنرل مشرف کے دور میں بھی صورتحال بدگمانی سے شروع ہوئی تھی اور بالآخر ناتوانی کے اندر سے ایسی ”توانی” نے جنم لیا تھا کہ حالات قابو سے باہر ہو گئے تھے ‘ اور بات خون خرابے تک جا پہنچی تھی ‘ اس لئے ہم نے اسے نازک معاملہ قرار دیا ہے ساتھ ہی دعا کے لئے ہاتھ بھی اٹھ رہے ہیں کہ اب جو معاملات ایک بار پھر بگاڑ کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں اللہ کرے صورتحال بہ خیر و خوبی منطقی انجام تک پہنچے ‘ تمہید طولانی ہوگئی ہے مختصر یہ کہ اسلام آباد کے جامعہ حفصہ جو لال مسجد کا حصہ ہے پر طالبان کے جھنڈے لہرانے کی وجہ سے حالات ایک بار پھر قابو سے باہر ہونے کے خطرات ہیں اس میں ایک جگہ وہ کلاشنکوف لئے بیٹھے نظر آتے ہیں ‘ دوسری طرف مدرسے پر طالبان کے پرچم اور پس منظر میں طالبات کھڑی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ مولانا صاحب اسلام آباد پولیس کو جس طرح ڈانٹتے ہوئے اور پاکستانی طالبان کے آنے اور سب کچھ”ملیا میٹ” ہوجانے کی بات کرتے ہوئے پولیس والوں سے یہ نوکری چھوڑ کر کوئی ڈھنگ کی نوکری کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں ‘ ساتھ ہی محولہ پرچموں کو ہاتھ لگانے کے نتائج سے بھی آگاہ کر رہے ہیں اس کے بالآخر کیا نتائج نکلیں گے ‘ کیا تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دوہرانے چلی ہے ؟ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ‘ تاہم شرط ہوش کے ناخن لینا ہے ‘ تازہ اطلاعات (دم تحریر) کے مطابق بالآخر اس شرط پر صرف تین دن کے لئے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے جھنڈے اتار دئے ہیں کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوششیں کی جائیں گی اور یہ شرط اسلام آباد انتظامیہ تک پہنچانے کا وعدہ کیا گیا ‘ ظاہر ہے بے چارے مقامی پولیس حکام کے پاس اس سے زیادہ کے اختیارات تو تھے ہی نہیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے اس کی کلید مرکزی حکومت کے پاس ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرے ‘ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین دن بعد کیا ہو گا؟ کیا مولانا عبدالعزیز ایک بارپھر تصادم پرتلے ہوئے ہیں؟ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ‘ اس لئے کہ جس راستے پر وہ ایک بار پھر قدم رکھنے چلے ہیں یہ کام پلک جھپکنے میں تو ہونے سے رہا ‘ نہ ہی ہتھیلی میں یوں سرسوں جمانے کا کرتب آج تک ایجاد ہوا ہے ‘ ایسا ممکن ہوتا تو آج سے کئی سال پہلے یعنی اے این پی کے دور میں ملاکنڈ میں شریعت کے نفاذ کے وعدے کو عملی صورت دی جا چکی ہوتی ‘ اور جہاں تک طالبان کے پرچم لہرانے کی بات ہے تو ابھی حال ہی میں کچھ دن پہلے پشاور کے نواحی علاقے پشتہ خرہ میں ایک جنازے کے دوران بھی بعض افراد نے طالبان والے پرچم لہرانے کی کوشش کی تھی جس پر بڑی لے دے ہوئی تھی او بعد میں ان میں سے مبینہ طور پر کئی افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا تھا ‘ آگے کیا ہوا؟ کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ‘ اب اطلاع یہ بھی ہے کہ اسلام آباد والے اس واقعے کے بعد مولانا عبد العزیز کے خلاف مبینہ طور پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں اسلحہ لہرانے کی دفعہ بھی شامل ہے ‘ تاہم ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اسے سیل کر دیا گیا ہے جس کا بعض واقعات حال کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مقدمے کو چلانے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام متوقع نہیں ہے ‘ ایسا لگتا ہے کہ ایف آئی آر کو سیل کرنے کا فیصلہ صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے ‘ پولیس کے ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر یہ کہا کہ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تاکہ بات کا بتنگڑ نہ بنے ‘ مگر اسے کیا کہا جائے گا کہ بات کا بتنگڑ تو کیا”گشتاوہ” بن کر پوری دنیا میں سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہو چکا ہے اور اس کے بالآخر کیا نتائج نکلتے ہیں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر بدقسمتی سے وقوع پذیر ہوا جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنا دورہ سکیورٹی ٹھریٹس کی وجہ سے ختم کرکے واپسی کی راہ لی ‘ یعنی بقول مرزا غالب
وہ آئیں گے رے گھر وعدہ کیا دیکھنا غالب
نئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش
بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اور خاص طور پر وزارت داخلہ اس مسئلے سے کیسے نمٹتی ہے کیونکہ متعلقہ حکام نے جو تین دن کی مہلت حاصل کی ہے اس کی معیاد اس کالم کے شائع ہونے کے دن ہی ختم ہو گی اور وعدہ وفا نہ ہونے کی صورت میں جامعہ حفصہ کی دیوار پر طالبان کے جھنڈے اگر لہرا دیئے گئے تو نتیجہ کیا نکلے گا ‘ یہی وہ خوف ہے جس کی وجہ سے ہم تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں اور دعا گو ہیں کہ صورتحال سے ماضی کی طرح کے نتائج برآمد نہ ہوں ‘ اس لئے اس نازک مسئلے کو اگر متعلقہ شعبے کے جید علماء کرام اور دیگر ماہرین کے سپرد کر دیاجائے تو اس حوالے سے جذباتیت سے بالاتر ہو کر آگے بڑھا جا سکتا ہے ‘ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے مختلف مسالک اور عقائد رکھنے والوں کو مطمئن کرنا لازمی ہو گا تاہم اب اس میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور اس ضمن میں اب تک اسلامی نظریاتی کونسل نے جتنی ریسرچ کی ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرکے سوئے منزل پیش رفت کی جا سکتی ہے ‘ سب سے اہم مسئلہ سود کی حرمت اور اس حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ معاشی معاملات طے کرنا لازمی ہے ‘ کیونکہ دنیا کی معیشت سودی نظام کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ اسلام میں سود کی ممانعت بلکہ اسے اللہ کے ساتھ جنگ قرار دیاگیا ہے تو پھر درمیان کا وہ کونسا راستہ ہو گا جس پر عمل کرکے عالمی مالیاتی نظا کے ساتھ منسلک رہا جا سکے گا؟بقول بہادر شاہ ظفر
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی