رسے کسے جا رہے ہیں

پارلیمنٹ کی امو رخارجہ کی کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ سے جو استفسارات ہوئے وہ ان کی زندگی کا سب سے زیا دہ کٹھور امتحان تھاخاص طور پر ری پبلکن پارٹی کے ارکا ن نے دن میں تارے دکھا دئیے جس سے عاجز ہو کر امریکی وزیر خارجہ بلکین کو کہنا پڑا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ، انہوں نے یہ غیرمعمولی بات یونہی نہیں کہہ دی اس وقت امریکا کی بین الاقوامی سطح پر جو حالت ہے وہ بہت عیا ں ہے ، کرب کی شدت کو وہی جان سکتا ہے جس پر گزرتی ہے ، خیا ل یہ ہی تھا کہ امریکی وزیر خارجہ نے امورخارجہ کی کمیٹی میں جو بیان دیا اس پر گہر ی سنجید گی سے غور کیا جا نا چاہئے تھا اور قوم کو اس بارے میں اعتما د میں لینے کی ضرورت تھی مگر ادھر اپنی ساکھ اس طرح بنائی جا رہی ہے کہ طالبان کی جیت نہیں یہ ہما ری جیت ہوئی ہے ، امریکا بھی یہ بھول رہا ہے کہ افغانستان سے نکلنے میں مدد نہ توبھارت نے اور نہ ایر ان نے کی ہے پاکستان کی کا وشوں کا نتیجہ ہے کہ امریکی پرامن طور پر افغانستان سے پاؤں نکال سکا ۔ بہر حال ”میں بھی تو ہو ں” کے خواب میں پڑے رہنے کی بجائے جنر ل (ر) حمید گل کے اس قول کہ جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ مستقبل کی تاریخ جہاںیہ کہہ گئی کہ پاکستان اور امریکا نے مل کر سوویت یونین کو افغانستان سے نکا لا اور وہا ں یہ بھی لکھا جائے گا کہ پاکستان نے امریکا سے مل کر امریکا کو افغانستان میں شکست دی ،اس کے علاوہ ان کا یہ قول بھی ازبر رہنا ضروری ہے کہ جنرل حمید گل یہ بھی فرما تے تھے کہ امریکا کا افغانستان ٹھکا نہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے چنا نچہ ٹھکا نہ تو اجڑ گیا مگر نشانہ کو نظرانداز نہیںکر نا چاہئے ، تاہم حالا ت جس رخ کی طرف موڑے جارہے ہیں وہ اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ اپنے اہداف کو درست ٹکٹکی پر باندھنے کی دھن سوار ہے ۔، سوال یہ ہے کہ ایک بندہ مفرور ہے اور زیر زمین چلا گیا ہے وہ تنہا ایسے اہم ترین امور کیو ں کر انجام دے سکتا ہے اس کی پشت پناہی کو ن کررہا ہے جبکہ یہ اطلا عات بھی ملی ہیں کہ اس کے بعض امریکی لابنگ کمپنیوں سے روابط بھی قائم ہو چکے ہیں اس طرح امریکی وزیر خارجہ بلیکن کا یہ کہنا ہے کہ اشرف غنی نے دھو کا دیا اور امریکی فوج کے انخلا ء کے مکمل ہونے سے قبل ہی فرار ہو گیا ، معاہد ہ یہ تھا کہ انخلا ء کے چودہ روز بعد اقتدار پر امن طور پر مکمل ہو گا ، جب افغان صدر کوئی ہدایت جاری کیے بغیر ملک سے فرار ہو گیا اور ادھر نائب صد ر امراللہ صالح بھی باغی احمد مسعو د کے پاس جاکر پناہ گیر ہو گیا ، اور ملک کو بے یا رو مد د گا ر چھو ڑ گیا تو ملکی امور چلا نے کے لیے کوئی ڈھانچہ ہی برقرار نہ رہا تو ایسے میںکیاہو سکتا تھا دو ہی راستے بچ گئے تھے یا تو امریکا اپنی فوجو ں کا انخلاء روک کر دوبارہ قبضہ جما لیتا جو اس کے بس سے باہر تھا اور دوحہ معاہدے کی براہ راست خلا ف ورزی بھی قرار پاتی ، دوم طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ طالبان کو پر امن طریقے پر اقتدار منتقل کر دیا جا تا یوں دوحہ معاہد ہ روبہ عمل ہو پاتا ، لیکن اشرف غنی کی حکومت کے فرار سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ سب یکایک نہیںہوا بلکہ پوری منصوبہ بندی سے کیا گیا تاکہ افغانستان کا نظام چوپٹ ہو کر رہ جائے اور طالبان کے لیے عالمی سطح پر مشکلا ت پیدا کردی جائیں ، سابق افغان صدر اشرف غنی نے اپنا ایک ترجما ن مقر ر کردیا ہے ترجمان احمد سرور کا کہنا ہے کہ اشرف غنی نے نہ تو افغانستان کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے اورنہ وہ اقتدار سے دست بردار ہوئے ہیں پھر وہی بتائیں کہ کیا ہو ا ہے وہ فرار کیو ں ہوئے ، طالبان نے تو کا بل پر حملہ کیا ہی نہیں تھا وہ تو کم از کم کا بل سے دس کلو میٹر دو ر بیٹھے ہوئے تھے ، طالبان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کو یقینی بنائیں ابھی تک طالبان کی جا نب سے انسانی حقوق کی خلا ف ورزی کی کوئی اطلا ع نہیں آئی ہے کا بل میں افغان خواتین یکا یک جلوس نکال رہی تھیں طالبان حکومت نے کوئی سخت ردعمل نہیںکیا بلکہ ایک مرتبہ خواتین کے جلوس نکالنے پر طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ جلو س نکالنا ان کا حق ہے لیکن قانون وقاعدے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ وہ جلو س نکالنے سے پہلے انتظامیہ کو اطلاع کریں تاکہ ان کے جلو س کے لئے ضروری انتظامات کیے جاسکیں دوم یہ کہ ان کے احتجاج کے لئے حکومت ایک جگہ مخصوص کردے تاکہ وہا ں پہنچ کر پر امن احتجا ج کریں ، یہ مناسب رویہ ہے برطانیہ میں بھی ہائید پا رک ہے جہا ں جا کر عوام تقاریر کر تے ہیں اور احتجا ج کر کے بھڑا س نکالتے ہیں ۔دنیا میں امن کے لیے لا زمی ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ ان سے آنکھ چرانا امن واما ن کو تہ وبالا کرناہے ، چین روس ، ایران اور پاکستان نے درست مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اور نیٹو ممالک افغانستان کی تعمیر نو کا خرچہ اٹھائیں ، یہ ان کا فرض بھی ہے کیونکہ ان ممالک نے ایک فردواحد کی بازیا بی کی آڑ میں افغانستان کے ہر شعبے کو ادھیڑ کر رکھ دیا، آج جس تباہی سے افغانستان دوچا ر ہے اس کے ذمہ دار یہ ہی ممالک ہیں افغانستان نائن الیو ن کے واقعہ میں نہ تو ملوث تھااورنہ اس پر الزام تھا ، صر ف اس کو اس اصولی بات کی سز ا دی کہ اس نے بغیر کسی ثبوت کے امریکا کو اسامہ بن لادن حوالے کرنے سے انکا ر کر دیا تھا ، اور دنیاکی ان دھن پت طا قتوں نے افغانستان کی پسماندہ ترین زمین کو ادھیڑ ڈالا ۔