Open tax evasion in kpk hotels

صوبے کے اکثرہوٹلوں میں کھلےعام ٹیکس چوری

ویب ڈیسک (پشاور)صوبے کے اکثر اضلاع میں ہوٹلزکے ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کےمطابق خیبرپختونخوا کےصرف4 اضلاع بشمول پشاورمیں مجموعی طور پر116ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس سیلز ٹیکس کی مد میں حکومت کو پیسے جمع کرارہےہیں باقی اضلاع کےہوٹلز اپنےہربل میں4سو سے پانچ سو روپےسیلز ٹیکس صارفین سےکاٹنےکےباوجود بھی ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں۔

اس طرح بڑے اضلاع میں مال مویشی اور سبزی وفروٹ منڈیوں میں بھی ٹیکس سسٹم لاگونہیں جس کی وجہ سے براہ راست ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک پشاور، مردان، بنوں اور ایبٹ آباد میں ہوٹلز وغیرہ رجسٹرڈ کئےگئے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے اعداد وشمار کے مطابق پشاور میں سینکڑوں ہوٹلز اور فوڈسٹالز موجود ہیں جہاں پر یومیہ لاکھوں روپے کی آمدن کے علاوہ صارفین کے بلوں میں سیلز ٹیکس شامل کیا جارہا ہے۔ نمک منڈی اور یونیورسٹی روڈ کے ساتھ ساتھ کارخانو مارکیٹ کے دکاندار بھی ٹیکس چوری کررہے ہیں ۔

پشاورمیں صرف62ہوٹلز سیلز ٹیکس سسٹم کے ساتھ منسلک ہیں جو صارفین سے کاٹاگیا سیلز ٹیکس دے رہے ہیں اسی طرح ایبٹ آباد میں صرف33ہوٹلز، بنوں میں9اورمردان میں11ہوٹلز پر پوائنٹ آف سیلزسسٹم انسٹال کیا گیا ہے۔

ذرائع نےبتایا کہ مذکورہ ہوٹلز کےعلاوہ باقی تمام ہوٹلز محکمہ خزانہ کے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں لیکن اس کے باوجود صارفین سےسیلز ٹیکس کی مد میں پیسے وصول کئے جارہے ہیں ۔

دوسری طرف مال مویشی اورپھلوں اورسبزیوں کی منڈیوں میں بھی ٹیکس کا کمپیوٹرائزڈ نظام نہیں۔ یہاں پر ماہانہ لاکھوں روپے صارفین سے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کرکےچوری کئے جارہے ہیں۔