Shazray

مہنگائی میں اضافہ کا ایک اور امکان

اسٹیٹ بینک نے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ظاہر کیا ہے روپیہ کی قدر میں 4.1فیصد گراوٹ آئی ہے، قبل ازیں وزیر خزانہ نے مہنگائی میں کمی لانے کیلئے بعض اہم تجاویز دیکر ان پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا تھا مشکل امر ہی یہ ہے کہ ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” والا معاملہ ہے، یہ درست ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب اجناس کی عالمی قیمتیں اور درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بڑھ کر مشکلات کا سبب بن رہا ہے اور یہ ایک مستقل مسئلے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مستقبل میں مہنگائی کی صورتحال کا انحصار خاص طور پر ایندھن اور بجلی کے ساتھ اجناس کی عالمی قیمتوں پر ہوگا، جائزہ لیا جائے تو ان میں کمی کی توقع بہت غیر حقیقت پسندانہ ہوگا، اس بیان سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عوام مزید مہنگائی کیلئے تیار رہیں۔ ظاہر ہے کہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات ضروریات زندگی کی قیمتوں پر بری طرح اثرانداز ہوںگے۔حکومت ہر بار ان میں اضافہ کی منظوری دیتی ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی بھی مہنگائی کی بڑی وجہ ہے۔ حکومت اگر مہنگائی میں کمی لانے یا کم از کم اس پر قابو پانے میں سنجیدہ ہے تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کو روکنا ہوگا توانائی کے اثرات کے علاوہ طلب و رسد اور منڈیوں کا غیر منصفانہ نظام اور آڑھتی کلچر بحران کا سبب بنتے ہیں، سال میں کئی مرتبہ مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، یہ صورتحال زیریں اور متوسط طبقے کیلئے مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے جس کے تدارک کیلئے عمومی مہنگائی خاص طور پر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو معتدل حد میں برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ روکنا ہوگا اور ایسے اقدامات یقینی بنانے ہوںگے کہ منڈی سے لیکر پرچون فروش تک ناجائز منافع خوری نہ کر سکیں۔
جرگہ کے نام پر خون کی ہولی
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں جرگہ کے نام پر خون کی ہولی کھیلنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے پختون معاشرے کا وہ روایتی جرگہ اور اس کا ماحول بری طرح مجروح ہوچکا جو کسی دور میں عوامی مسائل اور تنازعات کے حل کا مقامی اور سہل ذریعہ رہا ہے۔دیر کے علاقے میں مختصر مدت کے دوران فائرنگ کے افسوسناک واقعات جہاں علاقائی روایات کا خون ہے وہاں پر یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی سوالات کا باعث ہے، تازہ واقعے میں جرگہ کے دوران فائرنگ سے نو افراد جاں بحق اور چھ زخمی ہو گئے ہیں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے جرگوں کے انعقاد پر پابندی لگانا ہی واحد حل ہے، جرگہ اگر تھانے میں مصالحتی عدالت کے طرز پر موجود نظام کے تحت کرائے جائیں اور معاملے کے فریق ان کے سامنے تنازع اور مسئلہ رکھ کر ان سے فیصلے کروائیں تو یہ بہتر صورت ہو گی، اس مقصد کیلئے مصالحتی عدالتوں کا ہر تھانے میں قیام حکومت کی ذمہ داری ہو گی، محفوظ ماحول میں فریقین کو سننا اور فیصلہ پر عملدرآمد دونوں ہی یقینی ہوں تبھی پر ہجوم جرگوں کی روک تھام اور سدباب کی راہ ہموار ہو گی۔
ہسپتال کو فوری فنڈز فراہم کیا جائے
انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز حیات آباد میں گردوں کی پیوند کاری کے بعد مریضوں کو مفت ادویات ملنے کا سلسلہ منقطع ہونا سنگین معاملہ ہے جس سے پیوندکاری کرنے والوں کی زندگی خطرے میں پڑنا یقینی ہے، ہر مریض ہزاروں روپے ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، ایسے میں سرکاری طور پر دی گئی یہ سہولت ہی ان کی واحد امید ہے یہ بھی نہ رہا تو پھر ان کی مشکلات اور صحت کو خطرات کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ فنڈز کی بروقت فراہمی کی ذمہ داری اتفاق سے وزیر صحت اور وزیر خزانہ دونوں کا عہدہ رکھتے ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد سے جلد ہسپتال کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ مریضوں کا بلاتعطل علاج جاری رکھا جا سکے۔
کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سنگین مسئلہ
اخبارات میں آئے روز اس طرح کی خبریں شائع ہوتی ہیں کہ کم گریڈ کی اسامی کیلئے سینکڑوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بھی درخواستیں دے دیں، تازہ رپورٹ میں محکمہ بلدیات کی پچاس اسامیوں پر دس ہزار امیدواروں کی درخواستیں دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ ملک میں بے روزگاری سنگین حد تک مسئلہ ہے بڑی بڑی ڈگریاں لئے نوجوان پھر رہے ہیں لیکن اگر معمولی ملازمتیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لے جائیں تو کسی نہ کسی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے والوں کا کیا ہوگا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر غور کرنے اور اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے، مشکل امر یہ ہے کہ میرٹ کی خلاف ورزی کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے اس کے بعد بچ جانے والی نشستیں ہی میرٹ کہلاتی ہیں یہاں بھی اگر تعلیم آڑے آئے تو اس درجے کے ہزاروں لاکھوں نوجوانوں پر سرکاری ملازمت کے دروازے تو سرے سے بند ہی ہوں گے۔ تعلیم کا معیار ہی کیا رہ گیا اس بحث میں پڑے بغیر گزارش کی جا سکتی ہے کہ ہر اسامی کیلئے تعلیم و تجربہ کی ایک حد مقرر کی جائے جس طرح عمر کی حد مقرر ہے، اس طرح تعلیم کی بھی حد مقرر کی جائے تاکہ کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی مواقع مل سکیں اس حوالے سے غور و حوض اور قانون سازی ہو تو اعلیٰ تعلیم سے محروم نوجوانوں کو کچھ ریلیف ملے گا اور ان کو ان کی اہلیت کے مطابق ملازمت میسر آئے گی۔