افغانستان کی تعمیر و ترقی میں چینی سرمایہ کاری

افغانستان میں جاری گذشتہ بیس سال کی جنگی صورتحال اور امریکی انخلا کے بعد سب کی نگاہیں طالبان کی جانب ہیں کہ کیا وہ ماضی کی پھر تاریخ دہرائیں گے یا ان میں کوئی تبدیلی آ چکی ہے۔ طالبان نے اب کیا کرنا ہے۔اس حوالہ سے افغانی عوام اور اڑوس پڑوس کے ممالک سوچنے پہ مجبور ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیںکہ افغانستان میں رونما ہونے والی صورتحال اور واقعات سے مقامی شہری اور خطے کے تمام ممالک متاثر ہوتے ہیں۔
درحقیقت افغانستان میں بھوک اور کمزور معیشت کا اتنا بڑا المیہ جنم لے چکا ہے کہ اگر عالمی برادری نے بروقت مدد نہ کی تو یہ علاقہ ایک بڑے انسانی بحران کا شکار ہوگا بلکہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہی رہے گا۔ وزیراعظم گزشتہ دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے تاجکستان گئے تو وہاں بھی انہوں نے افغانستان کے مسئلے کو دانشمندی سے حل کرنے پر زور دیا۔نئے طالبان کو بھی اب اپنے عہد کا ادراک ہے کہ ساری دُنیا سے بیک وقت نہیں لڑا جا سکتا اور پہلے کی طرح صرف افغانستان میں محدود نہیں رہ سکتے۔ اس لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ سماجی ،سیاسی اور معاشی معاملات کے حوالے سے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ اُنہوں نے حال ہی میں یہ عندیہ دیا ہے کہ چین اپنی سرمایہ کاری سے تعمیراتی منصوبے ”ون بیلٹ، ون روڈ” کی ایک گذرگاہ افغانستان میں بھی بنائے گا۔ یہ بیان یقیناً طالبان کی اقتصادی اور معاشی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ بلاشبہ افغانستان ،پاکستان اور چین کے اندر باہمی تجارت و صنعتی تعاون کو نئی جہت اور امکانات سے روشن کر سکتا ہے۔ اگرچہ چین نے طالبان کی نئی حکومت کو باضابطہ طور پہ تسلیم نہیں کیا لیکن افغانستان کے
ساتھ دوستانہ اور باہمی اشتراک پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کا اعلان ضرور کیا ہے۔ اس سے قبل چین نے افغانستان کو ادویات، ہسپتال اور سولر پاور سٹیشن کی مد میں لاکھوں ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اس وقت افغانستان کے امن و استحکام پر ہی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کا دارومدار ہے۔”ون بیلٹ،ون روڈ” اور سی پیک جیسے منصوبے کے ذریعے ہی خطے کے تمام ممالک کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے راستے کھلیں گے۔ پاکستان ان سب ممالک کو سمندری تجارت کے لیے اپنی بندرگاہیںاور مختصر ترین روٹ فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان پہلے ہی ٢٠١٤ میں سی پیک منصوبے کا حصہ بن گیا تھا لیکن ہمارے کچھ داخلی سیاسی حالات کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے۔ اب اگر طالبان کی حکومت چین کے ساتھ باہمی اقتصادی تعلق کی شروعات کرکے اس بڑے منصوبے کا حصہ بن رہی ہے تو پاکستان کے وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ سی پیک کے منصوبہ میںمزید تاخیر نہ کرنے دے تاکہ افغانستان کو جغرافیائی ،تجارتی اور صنعتی لحاظ سے پاکستان کے ساتھ شریک ہونے میں مشکل پیش نہ آئے۔ یہ منصوبہ پورے خطے کی معیشت کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تعمیر و ترقی میں چین کی دلچسپی کے حوالہ سے مختلف رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چند ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ علاقے اور غیر مستحکم حکومت کبھی بھی چین کی ترجیہات میں شامل نہیں رہی۔ جبکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ چینی کمپنیاں اُن کم مستحکم ممالک میں سرمایہ کاری ضرورکرتی ہیں جہاں سے اُنہیں بہتر منافع ملنے کا امکان موجود ہو۔ اب افغانستان میں امریکی انخلا اور جنگ بندی کے بعد چینی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں دُور ہو گئی ہیں۔ چین صنعتی دھاتوں اور معدنیات کا ایک بڑا خریدار ہے۔”ون بیلٹ،ون روڈ” کے اس طویل مدتی منصوبہ سے چین کو غیر استعمال شدہ معدنی ذخائراور صنعتی دھاتوں جیسے لوہا، تانبا اور کوبالٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ اگریہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطی کی منڈیوں تک پہنچنے کا مختصرترین زمینی راستہ ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ یہ دونوں مل کر منصوبہ کو نتیجہ خیز بنانے میں چین کے ساتھ تعاون کریں اور دونوں ممالک میں خوشگوار تعلقات کا برقرار رہنا بھی ضروری ہے۔چین نے تین ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان بہتر اور مستحکم تعلق کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔چین اور امریکہ اپنے اختلافات کے باوجود افغانستان میںامن کے لیے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں۔ طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کی ممکنہ حفاظت کریں گے۔
چین کو یہ تشویش بھی ہے کہ مشرقی ترکستان اسلامی تحریک افغانستان میں اپنا اثر رکھتی ہے مگر ساتھ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں اپنی موجودگی سے وہ چین مخالف گروپوں کو قدم جمانے سے روک لیں گے۔ طالبان کے رہنما بھی یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ چین کے خلاف کسی گروپ کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان کو اب بلا تاخیر ایک نظام کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے اورامن کے لیے اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔مُلک بموں سے نہیں بلکہ تعمیر وترقی اور سرمایہ کاری سے ہی آگے بڑھتے ہیں۔