سیاحت اورثقافت حکومتی توجہ کی متقاضی

”سافٹ پاور”کا تصور1980کی دہائی میں امریکی ماہر سیاسیات جوزف نی نے متعارف کرایا تھا۔جوزف نی کے مطابق سافٹ پاورکے تصور میں ثقافت، سیاسی اقدار اور خارجہ پالیسی شامل ہیں ۔ سافٹ پاور دراصل کسی ملک کی وہ اہلیت ہوتی ہے جس کی بناء پر وہ زور زبردستی کے بجائے تعاون اور توجہ کے حصول کے ذریعے دوسروں سے مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ جدید دنیا میں سافٹ پاور کی اہمیت میں کئی گنابڑھ گئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کورونا کی وباء نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس تصور کو مزید تقویت ملی ہے۔ سافٹ پاور ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے کوئی ملک عزت کما سکتا ہے اور عالمی سطح پر مقام بنا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ”ہارڈ پاور” کا تصور غیر مؤثر ہے جو کسی بھی ملک کی عالمی ساکھ کو خراب کرتا ہے۔ سافٹ پاور کو ملک کی مجموعی طاقت کاایک اہم جزو تصور کیا جاتا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خارجہ تعلقات کے حوالے سے لوگوں کے عزم اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ سرد جنگ کے بعد بہت سے ملکوں نے سافٹ پاور کے اقدامات پر اربوں ڈالرخرچ کئے اور امریکہ نے اس تصور میں کمال مہارت حاصل کی اور میڈیا، سیاست اور معاشی امداد کے ذریعے اسے عملی جامہ پہنایا۔ فلموں کے ذریعے اس نے اپنی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ اس وقت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر امریکی فلمیں دیکھی جاتی ہیں۔ ہالی ووڈ فلموں کی صورت میں سافٹ پاور ہتھیار کے ذریعے امریکہ نے دنیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے ۔ آج ہالی ووڈ کو فیشن کا بانی تصورکیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں اس کی تقلیدکی جاتی ہے اور اس کی چیزوںکو روزانہ کی زندگی میں اپنایا جاتا ہے۔ اسی ثقافتی برآمد کو دوسرے ملک امریکہ کی سافٹ پاور کا ستون تصورکرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی تبادلے کے پروگرام، جاپان اور ہیٹی میں زلزلے کے دوران امدادکی فراہمی، افریقہ میں ہونے والی قحط سالی میں امداد امریکہ کے سافٹ پاور کے اقدامات کی بہترین مثال ہیں۔ امریکہ کے سیاسی اور ثقافتی اثر و رسوخ کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ بیشتر عالمی ادارے امریکی مفادات کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ عرصے میں امریکہ سافٹ پاورکی عالمی درجہ بندی میں پہلے سے چھٹے نمبر پر چلا گیا ہے۔ سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ طرز عمل کو اس تنزلی کی وجہ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ بعض مشکوک فیصلوں سے بھی سافٹ پاورکے حوالے سے امریکی ساکھ گر ی ہے۔خاص طور پر امریکہ کی موسمیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے سے دستبرداری کے بہت سنگین اثرات مرتب ہوئے۔ چین نے بھی سافٹ پاور کے شعبے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہے۔ چین جو ثقافت اور روایتی فلفسے میں مالامال ہے ، اس کے پاس سافٹ پاورکے حوالے سے بکثرت ذرائع موجود ہیں۔ چین عالمی سیاست میں اپنا قد بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ چین کے سفارتی اقدامات میں نرم لہجہ ، ثقافت کو فروغ دینا، اقتصادی سفارتکاری اور تشخص بہتر بنانے سمیت کئی عوامل شامل
ہیں۔کورونا کی جاری وباء کے دوران اس نے تقریباً 80 ملکوں کو ویکسین کی مددکی پیشکش کی ہے۔ اس اقدام سے بھی عالمی سطح پر اس نے اپنی قدرومنزلت بڑھائی ہے۔ سافٹ پاور کی عالمی درجہ بندی2021 کے مطابق چین آٹھویں نمبر پر ہے۔ چین چونکہ قدیم تہذیت اور عظیم ثقافت کا حامل ملک ہے، اس لیے اس نے اپنی ثقافت کو سافٹ پاور کا اہم ذریعہ بنایا۔ ثقافتی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کے تحت چین نے بیرون ملک کئی ادارے بھی قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ چین اپنے سافٹ پاور کو بڑھانے کے لیے معاشی ذریعے کو بھی برئوے کارلایا ہے۔ بدقسمتی سے
پاکستان سافٹ پاور کے حوالے سے بہت سطحی مقام پر کھڑا ہے اور سافٹ پاور کی عالمی درجہ بندی میں اس کا63 واں نمبر ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت نے اس شعبے میں بہت کام کیا اور اس کا36 واں نمبر ہے۔ بھارت نے اپنے سینما کے ذریعے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ دنیا بھر میں بھارتی فلموں کو پذایرائی ملی اور بھارت نے اربوں ڈالرکمائے۔ اگرچہ مودی سرکار نے بالی ووڈ کو حاصل آزاد ی کم کی ہے۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلمیں سنسرشپ کا شکار ہورہی ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمان مخالف بیانیے سے بھی بھارت کو نقصان پہنچا اور اس کی سیکولر ملک کے طور پر ساکھ مسخ ہوئی ہے۔ کاشت کاروں کے احتجاج ، مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور شہریت کے متنازع قانون نے بھارتی سافٹ پاور پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ پاکستان سافٹ پاور کے تصور پر عمل پیرا ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان میں روحانیت، ادب، سینما،کرکٹ اور دست کاری جیسے سافٹ پاور کے عوامل کو بروئے کار نہیں لایا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں عظیم ثقافت اور سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیںکئے گئے۔ حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث پاکستانی فلمیں دنیا میں پاکستان کے بیانیہ پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ جب ان فلموں کا مواد معیاری نہیں ہوگا تو لوگ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کو ہی ترجیح دیں گے، اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کا سافٹ پاورکے ذرائع کو بروئے کار لائے۔ فلموں اور سٹیج ڈراموں کے ذریعے ہم اپنی ثقافت اور بیانیے کو پھیلا سکتے ہیں اور سیاحت کو بھی فروغ دے سکتے ہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا پر حکومتی سرپرستی میں مہم اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کوششوں میں حکومت کے علاوہ فن کاروں، کاروباری افراد، ماہرین تعلیم ، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی سمیت تمام شراکت داروں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔
(بشکریہ،بلوچستان ٹائمز، ترجمہ: راشد عباسی)