افغان خواتین پریشانی کاشکار

کابل میں خواتین کیفے اور کافی شاپس بند ہوگئیں

ویب ڈیسک: طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے شہر کابل میں ایک ماہ کے دوران خواتین کی ملکیت والے کاروبار خاص طور پر ریستوران اور کیفے بند ہوگئے۔ جہاں پر خواتین بغیر کسی رکاوٹ نقل و حرکت اور گپ شپ میں مشغول ہوا کرتی تھیں اب پابندی کا سامنا کر رہی ہیں۔ نکی تبسم نے تین سال قبل کابل میں ایک کیفے کھولنے کے لیے دس لاکھ افغانی کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ان کے کیفے کا تمام عملہ خواتین پر مشتمل تھا جنہوں نے اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی ملازمتیں کھو دیں۔

نکی تبسم کا کہنا ہے کہ کیفے سے یومیہ تقریباََ 20 ہزار افغانی آمدنی ہو رہی تھی لیکن طالبان کے کابل آنے کے بعد تقریباََ تمام کیفے بند ہیں۔ میں اور میرے ساتھی بےروزگار ہو گئے ۔انہوں نے کہا ایسی خواتین جن پرخاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے وہ کام کرنے اور پیسے کمانے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا جو خواتین اپنے خاندانوں کی کفیل ہیں انہیں معاشی اور مالی مسائل کا سامنا ہے۔

یونین آف کابل ورکرز کے سربراہ نور الحق عمری نے کہا کہ بدقسمتی سے خواتین کی قیادت میں سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ وہ اپنی ملازمتیں اور فنڈز کھو بیٹھی۔ خواتین نے اپنی کمپنی کی مہنگی چیزیں بہت کم قیمت پر فروخت کیں۔ نورالحق عمری نے مزید کہا کہ درجنوں افغان کاروباری خواتین نے گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کی تھی لیکن اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔