کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

بھارت کی تمام پالیسیوں ‘سازشوں اور چالاکیوں کی شکست وریخت اور عالمی سطح پر شرمندگیوں کے بعد جہاں بھارت کی سرکار پر تلملاہٹ طاری ہے وہیں اس کے بظاہر پڑھے لکھے افراد بھی عقل و خرد کھو رہے ہیں اور وہ جو کسی عقلمند شخص سے ایک ا ندھے نے پوچھا تھا کہ کیا بصارت کھو دینے سے بھی زیادہ نقصان دہ کوئی چیز دنیا میں ہے؟ تو اس نے”ہاں” میں جواب دیتے ہوئے نہایت اطمیان سے کہا”جب آدمی بصیرت سے عاری ہو جائے ‘ عقل و خرد کھو دے”۔ بات بہت حد تک درست ہے اس لئے کہ اکثر بصارت سے محروم لوگوں نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں ، بھارتی میڈیا افغانستان میں موجودہ حالات اور خاص طور پر وہاں گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان دشمنی کے حوالے سے اربوں ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری کے ضائع ہونے پر جس ذہنی خلفشار اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے اور کئی اینکرز اور نیوز کاسٹرز چیخ چیخ کر آسمان سرپر اٹھائے ہوئے ہیں اس صورتحال میں ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب ایک مشہور بھارتی اینکر ارنب گوسوامی نے گزشتہ روز ایک ایسا دعویٰ کیا یعنی ایسی بے پرکی اڑائی کہ اب بے چارے کو شرمندگی اور خجالت کا سامنا ہے ،کیونکہ اس عقلمند شخص کے بیان کے مطابق بصارت سے محرومی سے زیادہ بصیرت سے محرومی کی یہ زندہ مثال ہے ‘ شری ارنب گوسوامی نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل کے سرینہ ہوٹل کی پانچویں منزل پر پاک فوج کے افسران ٹھہرے ہوئے ہیں اور پنج شیر میں مزاحمتی گروپ کے خلاف طالبان کی مدد کر رہے ہیں ‘ تاہم جب ایک پروگرام میں ارنب گوسوامی نے کابل کے سرینا ہوٹل کے بارے میں ایسی بے پرکی اڑائی تو سوشل میڈیا پر ان کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے صارفین نے انہیں یاد دلایا کہ کابل کا سرینا ہوٹل صرف دو منزلہ ہے ‘ کئی صارفین نے سرینا ہوٹل کی تصاویر بھی شیئر کیں اور ایک بھارتی بلاگر نے لکھا کہ شاید ہی دنیا میں ایسا کوئی صحافی موجود ہو جواتنے اعتماد سے جھوٹی خبریں دے سکتا ہو ‘ تاہم بھارتیوں کو اس معاملے میں گوئبلز سے بھی زیادہ ماہر ہندو فلسفی اچاریہ کوٹلیہ چانکیا کے افکار سے استفادہ کرنے کے مواقع نصیب ہیں ‘ چندر گپت موریا کے دربار میں اہم حیثیت رکھنے والے اس فلسفی نے اپنی کتاب ارتھ شاستر میں حکمرانوں کے لئے جو اصول حکمرانی وضع کئے ہیں ان میں تو یہاں تک سبق پڑھایا ہے کہ جب تم کسی شخص کو ہلاک کرنا چاہو تو اس کے دوست بن جائو ‘ اسے ہلاک کرنے لگو تو اس سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوجائو اور جب اسے موت کے گھاٹ اتار دو تو پھر اس کی لاش پر بین کرو ‘ تاکہ تمہاری فریاد سے لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ اسے کسی اور نے ہلاک کیا ہے ۔ حکمرانی کے اسی قسم کے اصول دی پرنس کے مصنف ایک اور فلسفی میکاولی نے بھی اپنے دور کے حکمرانوں کے لئے وضع کئے ہیں ‘ تاہم بھارتی اپنے ہی فلسفی چانکیہ کی تعلیمات کے طفیل افزا ‘ جھوٹ ‘ بہتان کے حوالے سے خود کفیل ہیں ‘ اس لئے وہ چانکیہ کے اصولوں کو نازی جرمنی کے وزیر گوئبلز کے ارشادات عالیہ کا تڑکا لگا کر پیش کرتے ہیں ‘ مگر اب کی بار بے چارہ ارنب گوسوامی یوں پکڑا گیا ہے کہ چاروں اور سے اس پر شرمندگی کی بارش ہو رہی ہے ‘ اس پر داغ دہلوی کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ
کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا
کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
دوسری جانب بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد آگئی ہے اور ان کی بصیرت نے جس طرح برصغیر کے ہندوئوں کو ایک اہم مقدمے میں شکست دی تھی ‘ غالباً ارنب گوسوامی نے اس سے متاثر ہو کراپنا بیانیہ گھڑا ‘ مسلمانوں نے ایک جگہ مسجد کی تعمیر کے لئے زمین خریدی تو ہندوئوں نے اسی زمین پر مسلمانوں کی جانب سے مسجد کی بلندی کے بعد اوپر کے منزل پر مندر بنانے کا فیصلہ کیا اور مسجد کے بعد(ہوا) میں عمارت تعمیر کرنے کے لئے بھاری رقم دیکر (فضا میں) زمین خرید لی ‘ اس پر دونوں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا اور بات عدالت تک جا پہنچی ‘ مسلمانوں کی جانب سے قائد اعظم بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے ‘ اور عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ہم ہندوئوں کے مندر تعمیر کرنے سے اتفاق کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک خاص بلندی کے بعد مندرتعمیر کرنے کے لئے قیمت ادا کی ہے مگر اس میں شرط یہ ہو گی کہ مندر کی دیواریں مسجد کی دیواروں پر تعمیر نہیں کی جائیں گی اور مسلمانوں نے چونکہ ایک خاص اونچائی تک مسجد کی تعمیر کرنی ہے تو میں ان سے کہہ دیتا ہوں کہ وہ مسجد کی اونچائی ڈیڑھ دو فٹ کم رکھیں ‘ مثلاً مسجد کی تعمیر اگر 25فٹ تک ہونی ہے تو اسے ڈیڑھ دو فٹ کم رکھا جائے اور چونکہ ہندوئوں نے 25 فٹ اونچائی کے بعد کی فضا خریدی ہے اس لئے یہ مندر کی تعمیر اتنی ہی اونچائی سے کریں مگر بنیادیں ہوا ہی میں تعمیر کریں ‘ مسجد کی دیواروں اور چھت مندرکی تعمیر کے لئے سہارا نہیں بن سکیں گی ‘ عدالت نے قائد اعظم کے اس موقف سے اتفاق کیا اور ہندووئوں کو بغیر کسی زمینی سہارے مسجد سے بالا ہی بالا تعمیرات کرنے کا حکم دیا تو ہندو لاجواب ہو گئے ۔ اب ارنب گوسوامی بے چارے کو شاید خواب میں نظر آیا ہے کہ سرینا ہوٹل کابل کی پانچ منزلیں ہیں ‘ جن میں سے دو تو زمین پر بنائی گئی ہیں مگر باقی کی تین منزلیں ”ہوا” میں بغیر بنیادوں کے کھڑی ہیں ۔ بے چارہ ارنب گوسوامی؟ بقول پروین شاکر
آگ کے ڈھیرپہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح