Shazray

دخل درمعقولات سے گریز کیا جائے

بلاشبہ پاکستان کی ا فغان پالیسی اب وہ نہیں علی الاعلان اس کا اعلان بھی ہوا ہے لیکن کچھ دورے اور کچھ بیانات ایسے ہیں جس سے اس تاثر کی نفی ہونے کا گمان ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پا کستان کو طالبان اور امریکا کے لئے مذاکرات کاری کی خدمات انجام دینے کے بعد افغانستان کے داخلی معاملات سے کامل لاتعلقی اختیار کرنی چاہئے خاص طور پر وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اگر اس حوالے سے سکوت اختیار کر لیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مشورے دینا بند کر دیں تو مناسب ہوگاافغانستان کے حالات سے پاکستان کے متاثر ہونے کا معاملہ بہرحال حقیقت ہے اس حوالے سے بیانات اور اطہار خیال کی گنجائش ہے لیکن افغانستان میں طالبان کس قسم کی حکومت بنانے اور چلانے کے خواہاں ہیں یہ پاکستان کا درد سر نہیں پاکستان کے حوالے سے وہاں تبدیلی کے باوجود ایک شدت پسند طبقہ اب بھی موجود ہے طورخم سرحد سے امدادی سامان لے جانے ولے ٹرک سے قومی پرچم اتارنے والے عناصرکی مذموم حرکت سے ایک خاص قسم کی سوچ واضح ہے پاکستانی قیادت کے بیانات دربیانات اور مشورے درمشورے اس قسم کے عناصر کو مزید اشتعال دلا سکتے ہیں جو تعلقات میں بگاڑ کی حد تک جا سکتا ہے بہتر ہوگا کہ جو مشورے دیئے جائیں اس کے لئے سفارتی چینل کا استعمال کیا جائے اور طالبان قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے قومی پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کی مذمت پراکتفا نہ کریں بلکہ جس طرح وہ اپنے مجرموں کو سزا دے کر تشہیر کرتے ہیں ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو بھی اسی طرح سزا دے کر اس کی تشہیر کریں اور آئندہ اس طرح کے واقعات کا تدارک یقینی بنائیں جوغلط فہمیاں پھیلانے کا باعث بن سکتے ہوں۔
تعلقات کی بھیک آخر کب تک مانگیں؟
پاکستان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ افغان تنازع سے آگے بڑھ کر دوطرفہ تعلقات استوار کرے جو تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے رابطوں پر مشتمل ہوں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشن(سی ایف آر)میں دوطرفہ تعلقات کے بارے میں اپنے وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک وسیع البنیاد اور کثیر الجہتی تعلق قائم کرنا چاہتے ہیںاورماضی میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی وضاحت کرنے والے دائرے سے نکلنا چاہتے ہیں۔امریکا اور نیٹو ممالک کا افغانستان میں اپنی ناکامی کا طوق پاکستان کے گلے میں ڈالنا اور پاکستان کو غیر عسکری طریقوں سے نقصان پہنچانے کا قوی امکان ہے کھسیانی بلی کے کھمبا ہی نوچنے کا رواج ہے ۔ وزیر خارجہ نے امریکا سے تعلقات کے قیام کی جو گزارش کی ہے اس پر ہمدردانہ غور کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات مفاد پرستی کے اور وقتی و عارضی رہے ہیںپاکستان امریکا کی مجبوری بن جائے تو گلے لگا لیتا ہے ورنہ بھارت کا مربی بن جاتا ہے افغانستان سے ناکامی سے دوچار ہو کرانخلاء کے بعد پاکستان کی اہمیت کس حد تک باقی ہے وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے والی نئی حقیقتیں ضرور اس کاتعین کریں گی پاکستان کو امریکا کی طرف سے دیکھنے کی بجائے خطے کے اہم ممالک سے تعلقات پر زیادہ توجہ دینی چاہئے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے امریکا سے تعلقات کی اپنی اہمیت ضرور ہے لیکن یہ امر بھی مد نظر رہے کہ ہرجائی پن کے بالآخر متاثریں ہم ہی رہے ہیں تبدیل ہوتی تاریخ کے اس موڑ پرماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے نئے دور کے تقاضوں کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق پالیسی بنائی جائے اس ضمن میں پارلیمان سے رہنمائی ومشاورت موزوں فورم ہے جس سے حکومت کو رجوع کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
چترال شندور روڈ کو اولیت دی جائے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمودخان کی زیر صدارت اجلاس میں چترال ‘شندور روڈ، چترال ‘گرم چشمہ روڈ اور چترال’کیلاش ویلی روڈ منصوبوں پر عملی کام شروع کرنے کے لئے پیشرفت کا جائزہ ‘سرکاری اراضی کی دستیابی اور اسے این ایچ کے سپرد کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت اہم پیش رفت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سیاحت کے فروغ کے لئے سڑکوں کی ترجیح ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری امر سیاحت اور عوامی آمدورفت دونوں کے لئے ضروری سڑک کی تعمیر کو ترجیح اول رکھنا زیادہ مناسب ہو گا۔چترال ‘ شندور روڈ سی پیک کا متبادل روٹ ہے جس کی جلد تکمیل نہ صرف ضلع بلکہ صوبہ ‘ ملک اور بین الاقوامی طور پر نافع ہو گا۔توقع کی جانی چاہئے کہ چترال کے ان تینوں اہمیت کے حامل منصوبوں پر بروقت کام شروع کرنے اور اس کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گاتاکہ یہ پسماندہ علاقہ بین الاقوامی سرحدوں تک سڑکوں کی تعمیر اور اہم سیاحتی مقام تک مواصلات کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے باعث سیاحت کے مزید فروغ ان اضلاع کے لئے آمدنی اور عوام کے لئے کاروبار و روزگار کے مواقع میں اضافے کے باعث بنے۔ان سڑکوں کی تعمیر کی دفاعی نقطہ نظر سے بھی خاص طور پر اہمیت ہے جس پر توجہ دینا وسیع تر قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔امید ہے کہ منصوبے کے مطابق سڑکوں کی معیاری تعمیر پر خاص توجہ دی جائے گی۔