انکوائری

میٹرک کے نتائج کی انکوائری کا فیصلہ

ویب ڈیسک :صوبے کے میٹرک اور انٹر میڈیٹ بورڈزکے امتحانات میں شامل طلبہ کے ریکارڈ توڑ نمبرز لینے پر شدید تنقید اور سوالات اٹھنے کے بعد محکمہ ابتدائی اور اعلی ثانوی تعلیم کی جانب سے چھان بین کیلئے8رکنی جائزہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔

جائزہ کمیٹی کو زیادہ نمبرز لینے والے طلبہ کے انفرادی پیپرز اور سابقہ امتحانی نتائج کا ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ پیپر چیکنگ کا معیار جانچنے اور مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کیلئے سفارشات بھی مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ پشاور تعلیمی بورڈ میں طلبہ کی جانب سے ریکارڈ توڑ نمبرز لینے کے بعد سوشل میڈیا پر چند روز سے بحث چل رہی تھی ۔

جس میں گزشتہ روز اس وقت مزید شدت آئی جب مردان تعلیمی بورڈ نے میٹرک اور انٹر کے نتائج میں پشاور بورڈ کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے اور ایک طالبہ نے11سو میں سے11سو نمبرز لے کر نیا ریکارڈ قائم کردیا ان نتائج پر محکمہ تعلیم کے حکام بھی حیرت میں مبتلا ہوئے اس لئے اب اس معاملے کی مکمل چھان بین کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔

محکمہ ابتدائی ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیم کے سیکرٹری یحیی اخونزادہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق میٹرک اور انٹر کے حالیہ امتحانی نتائج میں طلبہ کے زیادہ نمبرز آنے پر محکمہ تعلیم نے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا تھا جس کی روشنی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ اسسمنٹ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس کمیٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ کی ایڈیشنل ڈائریکٹریس صفیہ نور، ڈائریکٹوریٹ آف ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈاکٹر شفقت رحمن، آئی ایم سائنسزحیات آباد کے ڈاکٹر عجب خان، ہائی اسکول شیخ ڈھیری صوابی کے پرنسپل جہاد خان، ہائر سیکنڈری ا سکول سٹی نمبر ون پشاور کے سبجیکٹ سپیشلسٹ بیالوجی سیار خان اور سبجیکٹ سپیشلسٹ کیمسٹری حضرت محمد، ہائر سیکنڈری اسکول پشتون گڑھی نوشہرہ کے سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ برائے ریاضی ڈاکٹر عصمت اللہ اور گورنمنٹ سینی ٹینئل ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول نحقی کے سبجیکٹ سپیشلسٹ فزکس سجاد احمد کو شامل کیا گیا ہے ۔

کمیٹی میں1090سے زائد نمبرز لینے والے طلبہ کے نمبرز کی تصدیق اور دوبارہ جائزے کیلئے پیپرز کا جائزہ لینے کے علاوہ طلبہ کے موجودہ اور سابقہ امتحانات میں لئے گئے نمبرز کا تقابل اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مقررہ پالیسی کے مطابق پیپرز چیکنگ کا معیار جانچا جائے گا جبکہ کسی قسم کی غلطی کی نشاندہی کی صورت میں آئندہ کے امتحانات کیلئے کمیٹی کو سفارشات دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کی طرف سے تفصیلی رپورٹ کے بعد طلبہ کو نمبرز دینے کے فارمولا کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔امتحانی نتائج مشکوک ہونے پرطلبہ اوروالدین میں تشویش پائی جاتی ہے ۔