سعودی عرب، ثالثی کی نیم دلانہ پیشکش

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دورہ بھارت کے دوران کھل کر کہا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی بنیاد ہے اور سعودی عرب دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کو تیار ہے مگر وقت کا تعین پاکستان اور بھارت کو کرنا ہے ۔سعودی وزیر خارجہ افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لئے بھارت کے دورے پر ہیں جہاں ان سے کشمیر پر سوال پوچھا گیا اور انہوں نے اس پر باضابطہ لب کشائی کی ۔بھارت نے بہت مہارت کے ساتھ یہ تاثر دیا تھا کہ سعودی عرب کشمیر سمیت تمام معاملات پر بھارتی موقف کا غیر مشروط حامی ہوگیا ہے ۔مودی کے دورہ سعودی عرب اور وہاں ان کے پرتپاک استقبال کے بعد تیزی سے چل پڑنے والا یہ تاثر پانچ اگست کے بعد مزید تقویت حاصل کر گیا ۔پانچ اگست کے بعد او آئی سی کی کمزور پالیسی ،وزرائے خارجہ اجلاس بلانے میں لیت ولعل کا رویہ اس تاثر کو مزید تقویت دینے کا باعث بنا۔اس تاثر نے ہی پاکستان اور سعودی عرب میں اعلانیہ اختلافات کو بھی ہوا د ی ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر او آئی سی نے کشمیر پر اپنا موقف واضح نہ کیا تو پاکستان دوسرے ہم خیال ملکوں کا اجلاس بلا سکتا ہے ۔سعودی حکومت کے ایک وزیر نے اسے ایک خطرناک خیال قرار دیتے ہوئے توقع کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑ نہیں آئے گی ۔اس کے بعد ہی اچانک پاکستان نے سعودی عرب سے حاصل ہونے والے قرض کی ایک سو ارب روپے کی قسط عجلت میں واپس کر دی تھی ۔قرض کی یہ ادائیگی چین سے حاصل کردہ رقم سے کی گئی تھی ۔اس عجلت کو سعودی عرب کی ناراضی پر ہی محمول کیا گیا تھا ۔پاکستان کی طرف سے ترکی کے ارطغرل جیسے ڈراموں کو دکھانے اور ترک کلچر کو فروغ دینے کو بھی سعودی حکومت نے پسند نہیں کیا ۔اسرائیل کو عرب ملکوں کی طرف سے تسلیم کرنے کے بعد پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث زور وشور سے شروع کی گئی تھی۔عمومی تاثر یہ تھا کہ کچھ عرب ملک پاکستان کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کے معاملے میں سرگرمی دکھا رہے ہیں۔پاکستان کی طرف سے موجودہ حالات میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان نے فی الحال اس بحث کا دروازہ بند کر دیا ہے ۔متحدہ عرب امارات اور دوسری عرب ریاستوں کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لئے سارا دبائو سعودی عرب پر ہے ۔سعودی عرب میں رائے عامہ اور حکمران طبقات میں اس حوالے سے دو آراء موجود ہیں۔ان حالات میں جی20ملکوں کی کانفرنس کے موقع پر سعودی عرب نے بیس ریال کا ایک نیا نوٹ جاری کیا جس پر دنیا کا نقشہ موجود تھا ۔اس نقشے میں کشمیر کو پاکستان اور بھارت کا حصہ دکھانے کی بجائے متنازعہ علاقہ دکھایا گیا تھا۔یہ ایک اصولی اور بین الاقوامی تسلیم شدہ پوزیشن ہے ۔پاکستان بھی اس اصولی موقف کا حامی ہے ۔سوشل میڈیا میں اس اصولی پوزیشن کے اظہار کو کشمیر پر پاکستان کے موقف کی مخالفت اور بھارتی موقف کی حمایت قرار دینے کی ایک مہم شروع کی گئی ۔جب باریک بینی سے کرنسی نوٹ کا جائزہ لیا گیا تو یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ اس نقشے میں کشمیر کو پاکستان اور بھارت سے الگ ایک متنازعہ علاقہ دکھا یا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ دفتر خارجہ کے ترجمان کو وضاحت کرنا پڑی کہ سعودی کرنسی نوٹ پر کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں دکھایا گیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر برپا طوفان تھم سا گیا ۔اس کے بعد بھارت کی تلملاہٹ شروع ہوئی اور انہوںنے اپنا روایتی راگ اٹوٹ انگ والا راگ الاپنا شروع کیا ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ وستاوا نے اعلان کیا کہ بھارت نے یہ معاملہ ریاض میں سعودی حکومت اور دہلی میں سفارت خانے کی سطح پر رابطہ کرکے اپنی سنجیدہ تشویش سے آگاہ کیا ہے۔بھارتی ترجمان نے سعودی عرب کے اس اقدام کو ” مس پریزنٹیشن ” کا نام دیا اور اسے درست کرنے کی امید کاا ظہا ر بھی کیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ سارے یونین ٹیریٹریز بھارت کا حصہ ہیں۔ اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے او آئی سی نے ایک ورچوئل اجلاس میں کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا جس کا بھارت نے برامنایا تھا اور بھارتی اخبارات نے اسے غیر معمولی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب میں تعیات پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مصلحت کی زنجیریں توڑ کر پانچ فروری کو پاکستانی سفارت خانے میں بہت کھل کر بھارت کی کشمیرپالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔سعودی عرب جیسے نظام کا حصہ رہ کر اس طرح کے کھلے انداز بیاں کو معنی خیز کہا گیا تھا ۔سعودی عرب کی حکمران اشرافیہ کی مرضی کے بغیر اس طرح کا بیان دینا ممکن نہیں تھا۔ ان سعودی وزیر خارجہ نے کشمیر کو ایک مسئلہ تسلیم کرکے دونوں ملکوں کو بات چیت کا مشورہ دیا اور اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے ۔موجودہ حالات میں سعودی ثالثی دودھاری چھری ہے کیونکہ علاقائی سیاست میں سعودی عرب کا کردار قطعی واضح نہیں۔اس ماحول میں سعودی عرب اگر غیر جانبدار رہتا ہے تو بھی اسے غنیمت سمجھنا چاہئے کیونکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی مناظر نے سعودی عرب کو بھارت دوست کیمپ کا حصہ بنا ڈالا ہے اور جنرل راحیل شریف کی موجودگی محض اس کھیل میں سعودی عرب کی داخلی سیاست میں توازن پسند قوتوں کے وجود کا احساس دلانے سے زیادہ کچھ نہیں۔